ذیشان خان

Administrator
سودی پیسے سے انکم ٹیکس ادا کرنا

===================
شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ صاحبِ مرعاۃ المفاتیح فرماتے ہیں :
’’ کسی غریب غیر مسلم پر صرف کردی جائے یا کسی ایسے کالج اور اسکول میں دیدی جائے جس میں پڑھنے والے صرف غیر مسلم ہوں (اور اس میں اسلام کے خلاف تعلیم نہ دی جاتی ہو ) یا ایسے سرکاری ٹیکسوں میں خرچ کردی جائے جو شرعا محض جبر وظلم اور ناحق ہیں،مثلاً بِکری ٹیکس(سیلس ٹیکس) یا انکم ٹیکس، یا ہاؤس ٹیکس وغیرہ، کسی بھی سودی رقم کا کسی مسلمان کی ضروریات میں خرچ کرنا خواہ کتنا ہی غریب ہوجائز نہیں ہے، یہ مال خبیث ہر مسلمان کے حق میں بہر حال خبیث ہی ہے‘‘
( دیکھئے مجلہ الفلاح ,بھیکم پور ص:۱۰۳، جلد ۳،۴ شمارہ ۱۱،۱۲،۱،۲ ، بابت جون ؍جولائی ؍ اگست۱۹۹۴ء ؁ علامہ عبید اللہ رحمانی نمبر ، اور سود کے احکام و مسائل)
 
Top