ذیشان خان

Administrator
دینی مراکز و ذمہ داران پہ زکوۃ کی رقم

مقبول احمد سلفی
زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں ، ان مصارف کو اللہ تعالی نے سورہ توبہ میں ذکر کیا ہے :
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَ الۡمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الۡغٰرِمِیۡنَ وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ۔(التوبہ:60)
ترجمہ : زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کا حق ہے جو فقیر ہوں، مسکین ہوں، زکوٰۃ کی وصولی پر مامور ہوں، نو مسلم ہوں جن کی تالیفِ قلوب مقصود ہو، بے گناہ قیدی جن کی رہائی مقصود ہو، مقروض ہوں یا مسافر ہوں۔ مزید براں اللہ کے راستہ میں خرچکرنا زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
اس آیت کی روشنی میں حسب ترتیب یہ لوگ زکوۃ کے مستحق ہیں :
(1) فقراء (2) مساکین (3) عاملین (کارندے) (4) مؤلفۃ القلوب (5) جو آزاد نہ ہو (6) قرضہ دار (7) فی سبیل اللہ (8) مسافر
ان میں سے ہر ایک کی وضاحت اہل علم نے اپنے اپنے دلائل اور موقف کے مطابق کیا ہے جن کی تفصیل کا موقع نہیں ،میں اصل مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے مختصر بیان کرتا ہوں :
(1،2) فقراء و مساکین: یہ محتاج لوگ ہیں چاہے دینی اداروں میں ہوں یا پھر شہر اور گاؤں میں ۔
(3) زکوۃ کے کام پہ مامور لوگ
(4) تالیف قلب : دل کی تالیف(بالفاظ دیگر اسلام کے دفاع) کے لئے غیرمسلم اور نئے مسلمان کو زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ، اس کی متعدد شکلیں ہیں ۔ تفصیل دیگر کتابوں میں دیکھیں ۔
(5) غلاموں کی رہائی کے لئے زکوۃ کی رقم ادا کی جائے گی۔
(6) وہ شخص جو قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو اس کے لئے بھی ، اس کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں ۔
(7) فی سبیل اللہ : اس کو بعض اہل علم نے جہاد فی سبیل اللہ پہ محمول کیا ہے مگر جہاد صرف جسم سے نہیں ہوتا بلکہ زبان ، قلم ، مال اور نفس وغیرہ سے بھی جہاد ہوتا ہے اس لئے اس میں اللہ کی خوشنودی کا ہر کام شامل ہے جس پہ زکوہ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے ۔
(8)ابن السبیل (مسافر) : عمومی معنی میں وہ مسافر مراد ہے جو دیار غیر میں ضرورت مند ہوگیاہو مگر خصوصی معنی میں اس سے طالب علم بھی مراد ہے ۔
پہلے ، دوسرے ، ساتویں اور آٹھویں مصرف کی روشنی میں دینی، فلاحی اداروں اور ان کے کارکنوں خطباء، واعظین، مدرسین، علماء اور خدمت گار وغیرہ پر مال زکوٰۃ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چند فتاوے :
(1) علامہ یوسف قرضاوی نے مصارف رکوۃ کے تحت لکھا ہے ۔
میری رائے میں زکوٰۃ کی رقم جہاد کی ان صورتوں میں بھیجنا زیادہ بہتر ہے جنہیں لسانی ثقافتی فکری اور اعلامی جہاد سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ ان صورتوں میں تھوڑی رقم بھی زیادہ نمایاں کام انجام دے سکتی ہے ذیل میں بعض ایسی ہی صورتیں پیش کرتا ہوں۔
1۔ اسلامی دعوتی مرکز کا قیام، جہاں سے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچائی جائے۔
2۔ خود اسلامی ممالک کے اندر اسلامی ثقافتی مراکز کا قیام جہاں مسلم جوانوں کی عملی تربیت ہو سکے اور انہیں اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر تیار کیا جا سکے۔
3۔ اسلامی اخبارات و جرائد کا اجراء جو غیر اسلامی صحافتی سرگرمیوں کے لیے چیلنج ہو۔
4۔ اسلامی کتب کی نشر و اشاعت جس میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جائے اور کفر کی ریشہ دوانیوں کو اجاگر کیا جائے۔
یہ وہ چند صوتیں ہیں جہاں زکوٰۃ کی رقم ارسال کرنی چاہیے بلکہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی ہر ممکن طریقے سے ان تمام سرگرمیوں میں دل کھول کر مالی تعاون کرنا چاہیے۔
(فتاویٰ یوسف قرضاوی، مترجم طبع دارالنوادر، وفقہ الزکوٰۃ از قرضاوی)
(2) سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی (لجنۃ دائمہ) نے استفتاء رقم 4926 کے جواب میں لکھا تحفیظ القرآن کے مدارس میں طلبہ اور مدرسین کو زکوٰۃ دینا جائز ہے جبکہ وہ فقراء کے زمرے میں آتے ہیں۔
(3)اسی کمیٹی کے فتوی نمبر 11183 میں لکھا ہے کسی بھی سر زمین میں دعاۃ اور مبلغین پر زکوٰۃ خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اس کام کے لیے ہی مختص اور فارغ ہوں اور ان کے پاس مال بھی نہ ہو کہ جو ان کی حاجت میں کفایت کرے کیونکہ اس عطا میں وہ واجب الاداء ہوتا ہے جس کا تعلق مسلمین کی عام مصلحت سے ہے۔


(4) شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: ’’جو معلم یا متعلم محتاج ہو تو اس کے فقر و احتیاج کو دیکھ کر اسے زکوٰۃ میں سے دیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’انما الصدقات للفقراء والمساکین‘‘ (مجموع فتاویٰ و مقالات متنوعہ 14/298)
 
Top