ذیشان خان

Administrator
زکوة کے مصارف


زکوۃ آٹھـ قسم کے لوگوں پر خرچ کی جاتی ہے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے:
ترجمہ :"ﺻﺪﻗﮯ ﺻﺮﻑ ﻓﻘﯿﺮﻭﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟﺍﻭﺭ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻦ ﻛﮯ ﺩﻝ ﭘﺮﭼﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻥ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺽ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ اللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮨﺮﻭﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ، ﻓﺮﺽ ﮨﮯ اللہ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﹴللہﻋﻠﻢ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ."
فقير سے مراد: وہ شخص ہے جس کے پاس اپنی کفایت کے لئے کچھـ مال ہو.
مسكين سے مراد: وہ شخص ہے جس کے پاس کچھـ بھی نہ ہو، بعض علما نے اس کے برعکس بھی کہا ہے، اور وہی راجح ہے.
زکوۃ کے مال پر مقرر عاملین سے مراد: وہ لوگ ہیں جن کو امام مسلمین یا اس کے نائب نے زکوۃ کا مال جمع کرنے کے لئے بھیجا ہو، ان میں زکوۃ کا مال لکھنے اور اسے تقسیم کرنے والا بھی شامل ہے.
جن کے دلوں کی تالیف کی جاتی ہے ان سے مراد: وہ ہیں جو اسلام میں داخل ہوئے لیکن کمزور ایمان کی وجہ سے وہ تالیف قلب اور دلداری کے حاجتمند ہیں۔
اور اللہ تعالی کے اس فرمان سے مراد: ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻥ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ زکوۃ کے مال سے مسلمان غلام کو آزاد کرانا ہے، خواہ غلام ہو یا لونڈی، اور اسی ضمن میں قیدیوں کی رہائی اور مکاتبوں کی مدد بھی شامل ہے.
غارمین سے مراد: جس نے جائز قرض لیا ہو، لیکن اب اسے ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو،اور جو مشروع صلح کے لئے قرض لیا ہو۔
اور اللہ تعالى کے اس فرمان سے مراد: ﺍﻭﺭ ﺍﹴللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ غازیوں اور سرحدوں کی پاسبانی کرنے والوں کو زکوۃ کا مال دینا تاکہ جنگ اور پہرہ داری میں اسے خرچ کریں.
اور ابن سبیل سے مراد: ایسا مسافر ہے جس کے پاس اپنے شہر پہنچنے کے لئے زاد راہ نہ بچا ہو، تو اس کو زکوۃ سے اتنا مال دیا جائے گا جس سے وہ اپنے وطن تک پہنچ سکے، اگرچہ وہ اپنے ملک میں مالدار ہی کیوں نہ ہو۔
: مقبول احمد سلفی
 
Top