علم مصطلح الحدیث احادیث نبویہ کی صحت و ضعف کی معرفت کے لئے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس پر متعدد علماء ومحدثين کی تصانیف کا ایک بڑا ذخیرہ ہمارے درمیان موجود ہے، جس کے اندر اس علم کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، نیز اس کی تحصیل اور تسہیل کے لئے متعدد مختصر کتابیں منظوم و منثور پیراے میں تحریر کی گئی ہیں، لیکن جب بات اس علم کے بنیادی قواعد کے حفظ کی جائے تو اکثر طلباء کے اذہان میں ایک ہی متن گردش کرنے لگتا ہے، جو طلباء کے مابین "متن البیقونیہ" یا "منظومۃ البیقونیہ" کے نام سے معروف ہے - یوں تو اس فن میں متعدد منظومات ترتیب دی گئیں، جن میں قابلِ ذکر "طرفة الطرف في مصطلح من سلف للفاسي" اور " قصب السكر في منظومة نخبة الفكر للصنعاني" وغیرہ ہیں، لیکن متعلقہ فن میں بحیثیت منظومہ جو پذیرائی "منظومہ البیقونیہ " کو حاصل ہوئی اتنی مقبولیت کسی دوسرے متن کو نصیب نہیں ہوئی.

زیر بحث "منظومہ" کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک متعدد زاویوں سے اس کی خدمت انجام دی جاچکی ہیں، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اہل علم کے مابین امام بیقونی رحمہ اللہ کی وجہ شہرت یہی واحد متن ہے، حتی کی عرب علماء آپ کو (العالِم صاحب الورقة الواحدة) سے بھی موسوم کرتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کی کسی تالیف کا ذکر اہل تراجم کے یہاں نہیں ملتا، بلکہ بعض علماء نے آپ کے اصل نام میں بھی اختلاف کیا ہے، حتی کہ امام زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "ولم أقف له على اسم، ولا ترجمة ولا ما ھو منسوب إليه" کہ میں ان کے نام، تذکرہ اور نسبت پر مطلع نہیں ہوسکا.

جب بندہ اپنے عمل میں مخلص ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس عمل کے اثر کو باقی رکھتا ہے اور اسے مبارک بھی بنا دیتا ہے، خواہ وہ عمل بادی النظر میں معمولی ہی کیوں نہ ہو، امام بیقونی کا یہ منظومہ اسی بات کی غمازی کرتا ہے.
یہ منظومہ مصطلح الحدیث کے صرف ٣٤ اقسام پر مشتمل یک ورقی منظومہ ہے، لیکن اس کی شہرت و مقبولیت اس فن میں کئی مجلد گمنام کتابوں سے زیادہ ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر عرب ممالک میں بالعموم اور سعودی عرب میں بالخصوص فن مصطلح الحديث میں اس متن کے حفظ کی ترغیب دی جاتی ہے، حتی کہ حرمین شریفین اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے متون کے حلقے میں بھی یہ کتاب شامل نصاب ہے، نیز بر صغیر کے بعض مدارس کے نصاب کا بھی حصہ ہے۔

صاحب منظومہ کا تعارف :

نام ونسب :
عمر بن محمد بن فتوح البيقوني الدمشقي الشافعي - جبکہ بعض لوگوں نے آپ کا نام طہ بھی ذکر کیا ہے.

جائے پیدائش : علماء کی ایک رائے کے مطابق آپ کا تعلق "بیقون" نامی بستی سے تھا، جس کا محل وقوع ملک آذربیجان کے علاقہ کرد کے قریب ہے، آپ کے ہم عصر امام حموی رحمہ اللہ آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "میں ناظم کے نام و نسب پر مطلع نہیں ہوسکا، نہ ہی "بیقون " کے تعلق سے مجھے کوئی جانکاری ہے کہ آیا وہ کسی شہر کا نام ہے یا قریہ کا یا قبیلہ کا "- (۱)

بعض دوسرے مؤرخین کے مطابق مذکورہ نسبت ملک لبنان میں بیروت سے ٥٥ کلو میٹر کی مسافت پر واقع ایک بستی کی طرف ہے، اور جیسا کہ صاحب منظومہ کی نسبت میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ دمشقی ہیں، لہذا أقرب الی الصواب یہی لگتا ہے کہ آپ کی ولادت اسی بستی میں ہوئی۔

مؤلفات :

(١) منظومہ بیقونیہ (مطبوع).
(۲) فتح القادر المغیث (مفقود). (۲)

وفات :

آپ کی تاریخ ولادت اور وفات کے متعلق اہل تراجم خاموش ہیں، البتہ اکثر محققین کے مطابق امام بیقونی رحمہ اللہ کا زمانہ ١٠٨٠ھ بمطابق ١٦٦٩ء سے ماقبل کا ہے۔

نسبت رسالہ :-

چونکہ ابھی تک اس منظومہ کی جتنی شروحات وتعلیقات کی گئی ہیں، تمام شراح کرام اس رسالہ کی نسبت امام بیقونی کی طرف ہی کرتے آئے ہیں، گرچہ کہ صاحب منظومہ کی سوانح، تاریخ و تراجم میں مذکور نہیں، اسی طرح اگر امام بیقونی رحمہ اللہ کے ہمعصر علماء کو دیکھیں جنہوں نے اس منظومہ کی شرح کی ہے، جیسے امام عبد القادر المحلی، امام حموی وغیرہ، تو انہوں نے بھی اس رسالہ کی نسبت امام بیقونی کی طرف ہی کی ہے، لیکن شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ یہ بیقونیہ مصحفہ ہے، اسی طرح کا قول محمد زیاد تکلہ کا بھی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ گیارہویں صدی کے ایک شافعی امام "عمر بیلونی" گزرے ہیں جن کی وفات ١٠٢٧ھ کی ہے، شہر حلب کی مسجد اموی کے امام رہے ہیں، تو نساخ کی جانب سے یہ تصحیف ہوئی کہ انہوں نے ان کی نسبت میں لام کے بجائے قاف کی زیادتی کردی۔ جوابا عرض ہے کہ ان کے قول پر کوئی ایسی دلیل یا ایسا قرینہ موجود نہیں ہے جس سے عمر بیلونی کی طرف اس رسالہ کی نسبت کی جائے، کیونکہ جتنے نسخے آج موجود ہیں، سب میں "البيقوني" ہی کا ذکر ہے۔

تعارف رسالہ منظومہ بیقونیہ :-

ویسے فن علوم الحدیث پر کئی منظومات لکھی گئی ہیں جس میں ہر ایک نظم کی اپنی خصوصیت ہے، جیسے کہ امام اشبیلی کی نظم قصیدہ غرامی ہے، امام ابو الفضل کی نظم التبصرۃ والتذکرۃ ہے جو الفیۃ العراقی کے نام سے مشہور ہے، اسی طرح امام سیوطی کی الفیۃ الحدیث ہے، سو انہی منظومات میں منظومہ بیقونیہ بھی ہے جس کا نبذہ مضمون ہذا میں قارئین کے سامنے پیش خدمت ہے۔

یہ رسالہ "بحر رجز" پر لکھا گیا ایسا منظومہ ہے جو علوم الحدیث کے ٣٤ اقسام پر مشتمل ہے، جس کا نام مؤلف کی جانب سے "المنظومة البيقونية" رکھا گیا ہے، جس کی صراحت خود امام بیقونی رحمہ اللہ نے اپنے منظومہ کے آخر میں کی ہے کہ "سَمَّيْتُهَا: مَنْظُومَةَ الْبَيْقُونِي"-

چونکہ یہ رسالہ فن مصطلح الحدیث پر ہے تو اس میں صرف اہم ومبادی ٣٤ مصطلحات ہی کو ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے علماء نے اس منظومہ کو بوابۃ الدخول الی علم الحدیث سے تعبیر کیا ہے، ان ٣٤ مصطلحات کا مجملاً تذکرہ من خلال المنظومۃ درج ذیل ہے :



حمد و صلاۃ کے بعد :

(١) الصحيح :
صحیح حدیث وہ ہے جس کی سند متصل ہو ،اسے روایت کرنے والے راوی اول تا آخر عادل و ضابط ہوں وہ شاذ یا معلول نہ ہوں ۔ (۳)

أَوَّلُهَا : الصَّحِيحُ وَهْوَ مَا اتَّصَلْ
إِسْنَادُهُ وَلَمْ يَشِذَّ أَوْ يُعَلْ
يَرْوِيهِ عَدْلٌ ضَابِطٌ عَنْ مِثْلِهِ
مُعْتَمَدٌ فِي ضَبْطِهِ وَنَقْلِهِ

(٢) الحسن : حسن وہ حدیث ہے جس کی سند متصل ہو ،اسے نقل کرنے والے راوی اول تا آخر عادل ہوں، لیکن ضبط اور یادداشت خفیف اور کم ہو اور وہ حدیث معلل اور شاذ نہ ہو۔

وَالْحَسَنُ الْمَعْرُوفُ طُرْقًا وَغَدَتْ
رِجَالُهُ لَا كَالصَّحِيحِ اشْتَهَرَتْ

(٣) الضعيف : وہ خبر جو حسن کی خوبی اور صفت کو جمع نہ کر پائے ،حسن کی شرطوں میں سے کسی شرط کے مفقود ہونے کے ساتھ۔

وكُلُّ مَا عَنْ رُتْبَةِ الحُسْنِ قَصُرْ
فَهْوَ الضَّعِيفُ وَهْوَ أَقْسَامًا كُثُرْ

(٤) المرفوع : مرفوع سے مراد وہ قول ، فعل ،تقریر یا صفت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو اور اس کی اضافت آپ کی طرف ہو ۔

وَمَا أُضِيفَ لِلنَّبِيْ الْمَرْفُوعُ

(٥) المقطوع : مقطوع سے مراد وہ قول یا فعل جو تابعی یا اس سے نیچے طبقے والے کی طرف منسوب ہو -

وَمَا لِتَابِعٍ هُوَ الْمَقْطُوعُ

(٦)المسند : مسند وہ حدیث جس کی سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع متصل ہو .

والمُسْنَدُ الْمُتَّصِلُ الإِسْنَادِ مِنْ
رَاوِيهِ حَتَّى المُصْطَفَى وَلَمْ يَبِنْ

(٧) المتصل : متصل وہ مرفوع یا موقوف حدیث جس کی سند متصل ہو .

وَمَا بِسَمْعِ كُلِّ رَاوٍ يتَّصِلْ
إِسْنَادُهُ لِلْمُصْطَفَى فَالْمُتَّصِلْ

(٨) المسلسل : مسلسل سے مراد اسناد کے رجال کا ایک صفت یا حالت پر تسلسل سے اور لگاتار ہونا یہ تسلسل کبھی راویوں کے لیے اورکبھی روایت کے لیے ہوتا ہے ۔

مُسَلْسَلٌ قُلْ مَا عَلَى وَصْفٍ أَتَى
مِثْلُ: أَمَا والله أَنْبَانِي الْفَتَى
كَذَاكَ قَدْ حَدَّثَنِيهِ قَائِمَا
أَوْ بَعْدَ أنْ حَدَّثَنِي تَبَسَّمَا

(٩) العزيز : عزیز وہ حدیث ہے جس کے راوی سند کے تمام طبقوں میں دو سے کم نہ ہوں۔

عَزِيزُ مَرْوِيْ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَهْ

(١٠) المشهور : مشہور وہ حدیث ہے جسے ہر طبقے میں تین یا تین سے زیادہ روایت کریں مگر تواتر کی حد کو نہ پہونچے.

مَشْهُورُ مَرْوِي فَوْقَ مَا ثَلَاثَهْ

(١١) المعنعن : راوی کا یہ کہنا کہ " فلان عن فلان".

مَعَنْعَنٌ كَعَنْ سَعِيدٍ عَنْ كَرَمْ

(١٢) المبهم : مبھم وہ راوی جس کا نام حدیث میں واضح اور صراحت سے بیان نہ ہو ۔

وَمُبْهَمٌ مَا فِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمْ

(١٣) العالي : عالی اسناد سے مراد وہ سند جس کے راویوں کی تعداد بہ نسبت دوسری سند کے کم ہو اسی حدیث کے وارد ہونے کے لحاظ سے ۔

وَكُلُّ مَا قَلَّتْ رِجَالُهُ عَلَا

(١٤) النازل : نازل وہ سند جس کے راویوں کی تعداد بہ نسبت اس حدیث کی دوسری سند کے زیادہ ہو.

وَضِدُّهُ ذَاكَ الَّذِي قَدْ نَزَلَا

(١٥) الموقوف : موقوف وہ قول ،فعل یا سکوت جس کی اضافت صحابی کی طرف ہو.

وَمَا أَضَفْتَهُ إِلَى الْأَصْحَابِ مِنْ
قَولٍ وَفِعْلٍ فَهْوَ مَوْقُوفٌ زُكِنْ

(١٦) المرسل : مرسل وہ حدیث جس کے آخر سند میں تابعی کے بعد انقطاع ہو اور راوی حذف ہوں ۔

وَمُرْسَلٌ مِنْهُ الصَّحَابِيُّ سَقَطْ

(١٧) الغريب : غریب وہ حدیث جسے ایک منفرد راوی بیان کرے.

وَقُلْ: غَرِيبٌ مَا رَوَى رَاوٍ فَقَطْ

(١٨) المنقطع : منقطع وہ روایت جس کی سند متصل نہ ہو چاہے یہ انقطاع کسی بھی وجہ سے ہو۔

وَكُلُّ مَا لَمْ يَتَّصِلْ بِحَالِ
إِسْنَادُهُ مُنْقَطِعُ الأَوْصَالِ

(١٩) المعضل : معضل وہ روایت جس کی سند سے دو یا دو سے زیادہ راوی مسلسل حذف اور ساقط ہوں۔

وَالْمُعْضَلُ السَّاقِطُ مِنْهُ اثْنَانِ

(٢٠) التدليس : تدلیس کی دو قسمیں ہیں:

١- تدلیس اسناد : راوی حدیث اس استاد سے بیان کرے جس سے اس نے یہ حدیث سنی نہیں اس کو ذکر کئے بغیر جس سے اس نے یہ حدیث سنی ہے.

٢- تدلیس شیوخ : راوی اپنے شیخ سے وہ حدیث بیان کرتا ہے جو کہ اس نے اس سے سنی ہوتی ہے لیکن شیخ کو اس نام یا کنیت یا نسب یا وصف سے بیان کرتا ہے جس کے ساتھ وہ نہیں ہوتا ،تاکہ وہ شیخ پہچانا نہ جاسکے ۔

وَمَا أَتَى مُدَلَّسًا نَوْعَانِ :
الأوَّلُ: الإِسْقَاطُ لِلشَّيْخِ وَأَنْ
يَنْقُلَ مِمَّنْ فَوْقَهُ بِعَنْ وَأنْ
وَالثَّانِي: لَا يُسْقِطُهُ لَكِنْ يَصِفْ
أوْصَافَهُ بِمَا بِهِ لَا يَنْعَرِفْ


(٢١) الشاذ : شاذ وہ روایت ہے جسے مقبول اور ثقہ راوی بیان کرے جس میں وہ اپنے سے بہتر اور اوثق کی مخالفت کررہا ہو .

وَمَا يُخَالِفْ ثِقَةٌ فِيهِ الْمَلَا
فَالشَّاذُ ---------------------

(٢٢) المقلوب : مقلوب سے مراد حدیث کی سند یا اس کے متن میں تقدیم یا تاخیر وغیرہ کرکے ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ بدل لینا -

----- وَالْمَقْلُوبُ قِسْمَانِ تَلَا
إِبْدَالُ رَاوٍ مَا بِرَاوٍ قِسْمُ
وقَلْبُ إِسْنَادٍ لِمَتْنٍ قِسْمُ

(٢٣) الفرد : فرد وہ حدیث ہے جسے ایک منفرد راوی بیان کرے۔

وَالْفَرْدُ مَا قَيَّدْتَّهُ بِثِقَةِ
أَوْ جَمْعٍ أوْ قَصْرٍ عَلَى رِوَايَةِ

(٢٤) المعلل : معلل وہ حدیث جس میں ایسی علت معلوم ہوجائے جو اس کی صحت میں ضعف کا سبب ہو اگرچہ ظاہراً وہ عیب سے سلامت معلوم ہو۔

وَمَا بِعِلَّةٍ غُمُوضٍ أوْ خَفَا
مُعَلَّلٌ عِنْدَهُمُ قَدْ عُرِفَا

(٢٥) المضطرب : مضطرب وہ حدیث جو ایسے مختلف طریقوں سے مروی ہو جو قوت میں مساوی اور برابر ہوں۔

وَذُو اخْتِلافِ سَنَدٍ أوْ مَتْنِ
مُضْطَرِبٌ عِنْدَ أُهَيْلِ الفَنِّ

(٢٦) المدرج : مدرج یعنی جس حدیث کی سند کا سیاق بدلا گیا ہو یا اس کے متن میں بغیر فرق و وضاحت کئے ایسی چیز داخل کردی گئی ہو جو اس کا حصہ نہیں۔

وَالْمُدْرَجَاتُ فِي الحَديثِ مَا أتَتْ
مِنْ بَعْضِ ألْفَاظِ الرُّوَاةِ اتَّصَلَتْ

(٢٧) المدبج : مدبج وہ ہے کہ دو قرینوں (ساتھیوں) میں سے ہر ایک دوسرے سے روایت کرے ۔

وَمَا رَوَى كُلُّ قَرِينٍ عَنْ أَخِهْ
مُدَبَّجٌ فَاعْرِفْهُ حَقًّا وَانْتَخِهْ

(٢٨) المتفق : متفق یعنی راویوں اور ان کے باپوں کے نام اور اوپر تک کے نام خط اور تلفظ میں متفق ہوں جب کہ اشخاص مختلف ہوں ، ایسے ہی ان کے نام اور کنیتیں یا ان کے نام اور نسبتیں وغیرہ متفق اور ایک جیسی ہوں۔

مُتَّفِقٌ لَفْظًا وَخَطًّا مُتَّفِقْ

(٢٩) المفترق : مفترق مذکورہ متفق کی ضد مفترق کہلاتی ہے۔

وَضِدُّهُ فِيمَا ذَكَرْنَا الْمُفْتَرِقْ

(٣٠) المؤتلف : مؤتلف یعنی راویوں کے نام یا لقب یا کنیتیں یا نسب اور نسبتیں خط میں متفق ہوں اور تلفظ میں مختلف ہوں۔

مُؤْتَلِفٌ مُتَّفِقُ الْخَطِّ فَقَطْ

(٣١) المختلف : مختلف مذکورہ مؤتلف کی ضد مختلف کہلاتی ہے ۔

وَضِدُّهُ مُخْتَلِفٌ فَاخْشَ الغَلَطْ

(٣٢) المنكر : منکر وہ روایت ہے جس میں ضعیف راوی ثقہ کی مخالفت کررہا ہو۔

وَالْمُنْكَرُ الفَرْدُ بِهِ رَاوٍ غَدَا
تَعْدِيلُهُ لَا يَحْمِلُ التَّفَرُّدَا

(٣٣) المتروك : متروک وہ حدیث جس کی سند میں متہم بالکذب راوی ہو۔

مَتْرُوكُهُ مَا وَاحِدٌ بِهِ انْفَرَدْ
وَأَجْمَعُوا لِضَعْفِهِ فَهْوَ كَرَدْ

(٣٤) الموضوع : موضوع وہ بنایا یا گھڑا ہوا جھوٹ جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو۔ (٣)

وَالْكَذِبُ المُخْتَلَقُ الْمَصْنُوعُ
عَلَى النَّبِيْ فَذَلِكَ الْمَوضُوعُ


یہ علم اصول حدیث کے وہ مصطلحات ہیں جن کی معرفت سے حدیث کے صحت و ضعف کا پتہ لگایا جاتا ہے نیز جن کے ذریعہ سے سند ومتن کی تحقیق کی جاتی ہے ۔ لیکن صاحب منظومہ نے اس نظم میں جمیع اقسام اصول حدیث کا احاطہ واستیعاب نہیں کیا ، ہاں البتہ اہم مبادی اقسام کا ذکر ضرور کیا ہے۔ جس کو ایک مبتدی طالب حدیث یاد کرکے اس فن میں تدرجا پہلا زینہ طے کرسکتا ہے۔

شیخ عبد الکریم الخضیر حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منظومہ فن مصطلح الحدیث میں "اختصار مخل" ہے کہ کچھ اہم اقسام علوم حدیث اس میں ناپید ہیں، لہذا ایک طالب کو اس کے ساتھ یا تو الفیہ عراقی حفظ کرنی چاہیے یا منظومہ نخبۃ الفکر للصنعانی (قصب السکر) یاد کرنی چاہیے تاکہ اکثر اصول الحدیث ازبر ہوں اور فہماً وتطبیقاً سمجھ آسکیں۔

مخطوطات (نسخ معتمدة) اور اس کی تحقیق :-

رسالہ بیقونیہ کے قلمی نسخے دنیا کے مختلف لائبریریوں میں موجود ہیں، البتہ شیخ عبد المحسن القاسم (امام حرم مدنی) سلمہ اللہ نے اس کی تحقیق میں جن مخطوطات پر
اعتماد کیا ہے وہ درج ذیل ہے :

(١) خطی نسخہ – دار الکتاب والوثائق القومیہ - مصر – رقم : ۱۸۰ – تاریخ النسخ : ۱۲۳۲ھ – اسم الناسخ : محمد حسن ابو بکر (ایضا رقم : ١٧٨ – ورقم : ١٧٩ – لیکن ان پر تاریخ نسخ مذکور نہیں ہے)-
(۲) خطی نسخہ – مکتبہ مجلس شوریٰ – ایران – رقم : ٨٧٣٤٢ – تاریخ النسخ : ١٢٧٠ھ
(۳) خطی نسخہ – مکتبہ حرم مکی – السعودیہ – رقم : ٤/٣٩١٢
(٤) خطی نسخہ – مکتبہ محمودیہ – مکتبہ ملک عبد العزیز - السعودیہ – رقم : ٢٧٢٨
(٥) خطی نسخہ – مکتبہ عارف حکمت – مکتبہ ملک عبد العزیز - السعودیہ – رقم : ١١/۲۰٦
(٦) خطی نسخہ – جامعہ ملک سعود – السعودیہ – رقم : ٧٧٤

منظومہ کے شروحات :-

اس منظومہ کی متعدد شروحات، تعليقات، حواشی وامالي یہاں تک کہ استدراکات بھی لکھی گئی ہیں، جن کی تعداد 80 سے متجاوز ہے، اور تمام شروحات وتعلیقات عربی میں ہے، اور بزبان اردو اس کی شرح تو راقم کو نہیں مل سکی ہاں البتہ شیخ ارشد بشیر مدنی حفظہ اللہ کے اشراف میں اس رسالہ کا اردو و رومن اردو میں ترجمہ ضرور ہوا ہے جس کو askislampedia.com سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ذیل میں ان عربی شروحات وتعلیقات، حواشی وامالی پر مبنی کتب کا تذکرہ ہے جس میں سے اکثر تو مطبوع ہیں، بس چند کتب ہی ایسی ہیں جو ابھی تک مخطوطات کی دنیا میں زیور طبع سے آراستہ ہونے کی منتظر ہیں :


شروحات، تعلیقات، حواشی وامالی :

(١) فتح القادر المعين المغيث بشرح منظومة البيقوني في علم الحديث – لعبد القادر ابن جلال الدين المحلي - (ت ١٠٦٥)
(۲) تلقيح الفكر بشرح منظومة الأثر - لأحمد بن محمد الحموي - (ت ١٠٩٨)
(٣) شرح المنظومة البيقونية – لمحمد بن عبد الباقي الزرقاني - (ت ١١٢٢)
(٤) شرح المنظومة البيقونية - لمحمد زيتونة التونسي (ت ١١٣٨)
(٥) صفوة الملح بشرح منظومة البيقوني في فن المصطلح - لشهاب الدين الدمياطي المعروف بابن المیت (ت ١١٤٠)
(٦) شرح منظومة البيقونية في مصطلح الحديث - لعبد الغني السوداني البرهاني – (۱۱۵۱) – (مخطوط)
(٧) حاشية الأجهوري على شرح الزرقاني للمنظومة البيقونية - للامام عطية الأجهوري - (ت ١١٩٠)
(٨) شرح المنظومة البيقونية - لحسن بن غالي الأزهري الجداوي - (ت ١٢٠٢)
(٩) حاشية على المنظومة البيقونية - لمحمد بن معدان الحاجري الأسناوي – (ت ١٢٢٩) – (مخطوط)
(١٠) الكواكب النورانية على البيقونية - لعبد الله بن علي الأزبكي الدمليجي – (ت ١٢٣٤)
(۱١) حاشية على المنظومة البيقونية - مصطفى بن علي البلتاني – (١٢٤٩) – (مخطوط)
(۱٢) الحواشي على المنظومة البيقونية - لعبد الرحمن الأهدل (ت ١٢٥٠)
(۱٣) لطائف منح المغيث في مصطلح البيقوني في الحديث – لمحمد بن عثمان الميرغني المكي الحنفي – (ت ١٢٦٨)
(١٤) شرح المنظومة البيقونية - لأحمد الترمانيني (١٢٩٣)
(۱٥) التقاييد الدسوقية البيومية على المنظومة البيقونية - لبيومي بن فراج المشهور بالزيات الجرجاوي - (ت ١٢٩٣)
(۱٦) التحفة الزينية على المنظومة البيقونية - لزين الصياد المرصفي الشافعي – (١٣٠٠) – (مخطوط)
(١٧) العرجون في شرح البيقون – للعلامة نواب صديق حسن خان القنوجي (ت ١٣٠٧)
(١٨) البهجة الوضية شرح متن البيقونية - لمحمود بن محمد بن عبد الدائم الشهير بنشابة – (ت ١٣٠٨)
(۱٩) الزهرة السمية شرح المنظومة البيقونية - لخالد الجزماتي (ت ١٣١٥)
(٢٠) القلائد العنبرية على المنظومة البيقونية - لعثمان بن المكي الزبيدي (ت ١٣٣٠)
(٢١) شرح المنظومة البيقونية - لعلي بن محمد بن عامر النجاري (ت ١٣٥١)
(٢٢) الدرر البهية شرح البيقونية - لبدر الدين الحسني - (ت ١٣٥٤)
(٢٣) تحفة الأحباب للمسترشدين من الطلاب - لداؤد التكريتي (ت ١٣٦٠)
(٢٤) النخبة النبهانية بشرح المنظومة البيقونية - لمحمد بن خليفة بن الحمد النبهاني المالكي (١٣٦٩)
(٢٥) شرح المنظومة البيقونية في مصطلح الحديث – لعبد الله سراج الدين (طبع ۱۳۷۲)
(٢٦) التقريرات السنية شرح منظومة البيقونية في مصطلح الحديث – لحسن بن محمد المشاط المالکی – (ت ١٣٩٩)
(٢٧) التوضيحات البسيطة على المنظومة البيقونية - لسعد بن عمر الفوتي التجاني (طبع ۱٤۰۰)
(٢٨) شرح البيقونية في مصطلح الحديث -للشيخ حسنين محمد مخلوف – (١٤١٠)
(٢٩) صقل الأفهام الجلية بشرح المنظومة البيقونية – لمصطفى بن محمد بن سلامة (طبع ١٤١٢).
(٣٠) الأمالي المكية على المنظومة البيقونية - لسليمان بن ناصر العلوان ( طبع ١٤١٣)
(٣١) التعليقات الأثرية على المنظومة البيقونية (الشرح الموجز) - لأبي الحارث علي الحلبي الأثري (طبع ١٤١٣)
(٣٢) تنوير الأفئدة الذكية في شرح المنظومة البيقونية (الشرح المفصل) - لأبي الحارث علي الحلبي الأثري (طبع ١٤١٣)
(٣٣) الحاشية المرتية على المنظومة البيقونية - لمفتاح بن مأمون بن عبد الله – (طبع ١٤١٧)
(٣٤) الثمرات الجنية شرح منظومة البيقونية - للشيخ عبد الله بن عبد الرحمن الجبرين – (طبع ١٤١٧)
(٣٥) شرح منظومة البيقونية - للشيخ محمد بن بن صالح العثيمين - (طبع ١٤۱٥)
(٣٦) الدرر النقية في شرح المنظومة البيقونية – لأحمد بن حمود الخالدي – (١٤٢٢)
(٣٧) التعريفات الندية على المنظومة البيقونية - لحمد صالح المري (١٤٢٧)
(٣٨) شرح المنظومة البيقونية في مصطلح أهل الحديث والأثر - لخالد بن صالح الغصن - (ط ١٤٢٨)
(٣٩) التعليقات الرضية على المنظومة البيقونية - لعبد الله بن عبد الرحيم البخاري (طبع ١٤٢٩)
(٤٠) شرح المنظومة البيقونية - لأبي معاذ طارق بن عوض الله بن محمد (طبع ١٤٣٠)
(٤١) الدرر النقية في شرح المنظومة البيقونية - لتركي بن مسفر بن هادي مجلي العبديني – (طبع ١٤٣٥)
(٤٢) الكواكب الدرية على المنظومة البيقونية - لسليمان بن خالد الحربي.
(٤٣) السهل المسهل في مصطلح الحديث على البيقونية - لسيف الرحمن احمد الهندي - (سؤالا وجوابا)
(٤٤) شرح المنظومة البيقونية - لصالح الاسمري.
(٤٥) أحسن الحديث – لعبد الرحمن المحلاوي.
(٤٦) كشف الظنون والدر المصون بشرح متن البيقون - لمصطفى ملا محمد.
(٤٧) شرح المنظومة البيقونية - لماهر الفحل.
(٤٨) أطيب المنح بشرح المنظومة البيقونية في علم المصطلح - لمجدي بن محمد بن عرفات المصري - (٤)
(٤٩) شرح المنظومة البيقونية - لمحمد بن ابراهيم السلفي الجزائري.
(٥٠) الباكورة الجنية من قطاف متن البيقونية – لمحمد أمين بن عبد الله الأثيوبي.
(٥١) إمتاع الأسماع بشرح ما نظم البيقوني من الأنواع - لأبي عبد الله محمد عيسى حاج.
(٥٢) الأمالي السليمانية على المنظومة البيقونية - لأبي الحسن مصطفى بن سليمان المأربي.
(٥٣) القطرات السخية في شرح المنظومة البيقونية - لأبي القاسم المقدسي.
(٥٤) الشرح الميسر للمنظومة البيقونية في علم مصطلح الحديث والأثر – لخالد بن محمود الجهني.
(٥٥) أهم المسائل الجلية في شرح البيقونية - لأبي عبد الرحمن الفلازوني.
(٥٦) اللمع البهية بشرح البيقونية - لأبي محمد الألفي.
(٥٧) الأسئلة السنية على المنظومة البيقونية - لأم الليث - (سؤالا وجوابا)
(٥٨) حاشية الفيشي على البيقونية - لمحمد بن محمد الفيشي - (القرن العاشر) – (مخطوط)
(٥٩) التيسير التأصيل والسلفية في شرح المنظومة البيقونية - لعبد المنعم إبراهيم عمارة.
(٦٠) خلاصة التيسير والسلفية في شرح البيقونية - لعبد المنعم إبراهيم عمارة.
(٦١) إظهار المكنون من نظْم البيقون - لأبي أسامة جمال الأثري.
(٦٢) بلوغ الأمنية في شرح المنظومة البيقونية - للقمان الحكيم الإندونيسي.
(٦٣) المفاتيح الربانية في حل المنظومة البيقونية - لهشام بن محمد حيجر.

افضل و بہترین شرح :

کثرت شروح کے سبب ان کا استیعاب اور بہترین شرح کا انتخاب یقیناً مشکل امر ہے، البتہ ان میں بعض اہم شروحات کا دراسہ و مطالعہ طالب علم کو رسالہ کی تفہیم میں مدد دیگا باذن اللہ۔ بعض اہل علم نے صراحتاً وکنایۃً کچھ اہم شروح کی طرف اشارہ بھی کیا ہے جن میں معاصرین میں سے شیخ عبد الکریم الخضیر حفظہ اللہ نے "شرح الزرقانی" بہترین شرح مانا ہے، جبکہ شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ کے نزدیک اس کی بہترین شرح "صفوۃ الملح للدمیاطی" ہے ، اسی طرح امام حرم مدنی شیخ عبد المحسن القاسم متعہ اللہ العافیہ نے طلبہ علم کیلئے "شرح البیقونیہ لحسن المشاط" کا انتخاب کیا ہے۔ جبکہ بعض علماء نے شیخ طارق بن عوض اللہ کی شرح کو بہترین شرح قرار دیا ہے۔

اگر کوئی طالب علم اختصار کے ساتھ اس منظومہ کو سمجھنا چاہتا ہو تو اس کیلئے درج ذیل 5 کتب میں سے کوئی ایک کتاب کافی ہوگی ان شاء اللہ :

(۱) شرح الشیخ عبد الکریم الخضیر حفظہ اللہ.
(۲) شرح الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ.
(۳) شرح الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین رحمہ اللہ.
(٤) شرح الشیخ طارق بن عوض اللہ حفظہ اللہ.
(۵) شرح الشیخ خالد بن صالح الغصن حفظہ اللہ.

اور اگر کوئی بغرض تدریس اس کی شروحات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو ان کیلئے مذکورہ ٥ کتب میں سے کسی ایک کتاب کے ساتھ درج ذیل دو کتابیں معاون ثابت ہونگی ان شاء اللہ، جس میں منظومہ کو سوال جواب کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

(۱) السھل المسھل لسیف الرحمن الھندی.
(۲) الأسئلة السنية على المنظومة البيقونية لأم الليث.

اسی طرح کچھ علماء نے اس کی صوتی و ویڈیو جاتی شرح بھی کی ہے، جس میں درج ذیل معتبر وموثوق علماء کے دروس کی لنک بھی شامل مضمون کردی گئی ہے۔

صوتی و ویڈیو جاتی شروحات :

انٹرنیٹ پر منظومہ بیقونیہ کی بہت سے صوتی و ویڈیو جاتی شروحات دستیاب ہیں ، لیکن صحیح المنہج متقن علماء ومشائخ میں سے بعض کے ان کے دروس کی لنک کے ساتھ پیش کئے جارہے ہیں :

(١) الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ :

(٢) الشيخ احمد بن شهاب الحامد حفظہ اللہ :

(٣) الشيخ عبد المحسن محمد القاسم حفظہ اللہ :

(٤) الشيخ عبد الكريم الخضير حفظہ اللہ :


(٥) الشيخ عبد العزيز الشائع حفظہ اللہ :

(٦) الشيخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ :
(١)
- (الدرس الاول)
(٢)
- (الدرس الثاني)

(٧) الشيخ محمد سعيد رسلان حفظہ اللہ :

(٨) الشيخ بدر بن محمد البدر العنزي حفظہ اللہ :

(٩) الشيخ عبد الله بن عبد الرحيم البخاري حفظہ اللہ :

(١٠) الشيخ محمد بن شمس الدين حفظہ اللہ :


طبعات :-

رسالہ کے مختصر ہونے کے سبب اسے متون علمیہ وغیرہ میں شامل کرکے اکثر مکتبات نے شائع کیا ہے ، جبکہ کچھ مکتبات نے نوٹ بک کی شکل میں بھی اس رسالہ کو طبع کیا ہے تاکہ طلبہ دوران درس اس پر تعلیقات وحواشی بھی رقم کرسکیں، نیز کچھ تزیین کار حضرات نے اس منظومہ کی ایک دو صفحات میں بہترین تزیین کاری کے ساتھ انٹرنیٹ پر نشر کیا ہے جس میں ابو عبد الرحمن عمرو بن ھیمان المصری ہیں جن کا اس منظومہ کا مزین شدہ نسخہ حفظ و فہم کیلئے طلبہ کے حق میں کافی مفید ہے، اسی طرح کچھ حضرات نے بغرض افہام وتفہیم اس منظومہ کی تشجیر و تصمیم بھی کئے ہیں، جن میں احمد بن شہاب بن حسن حامد کا مشجرہ وتصمیم کافی بہتر ہے۔


استدراکات ومؤاخذات :-

علمی دنیا میں یہ عام ہے کہ کچھ کتابوں پر علماء وائمہ نے استدراک وتکمیل فن کے طور پر کتابیں تصنیف وتالیف کی ہیں، انہی میں یہ متن منظومہ بیقونیہ بھی ہے جس کے اختصار نے اس منظومہ کو اختصار مخل بنا دیا ہے، لہذا اس پر استدراکات کو جاننے سے قبل اس کے قابل مؤاخذہ امور کو جاننا ضروری ہے تاکہ علماء کے استدراک کی وجہ معلوم ہوسکے ؛

(۱) پہلی بات یہ ہے کہ اس میں کچھ اصطلاحات کی تعریفات میں نقص ہے، جیسے کہ منظومہ میں موجود حدیث مرسل کی تعریف پر کلام کیا گیا ہے۔ جس پر محدث مدینہ شیخ عبد المحسن العباد وفقہ اللہ نے بھی کلام کیا ہے۔

(۲) دوسری بات یہ ہے کہ یہ مکمل منظومہ کافی مختصر ہے۔ جس میں کئی اہم مبادیات مصطلح مذکور نہیں ہیں۔ جس پر کچھ علماء وشراح نے اس پر استدراک کیا ہے۔

منظومہ پر مستدرک کتب :-

(۱) استدراک عبد الستار ابو غدہ بتعلیق الشیخ علی بن حسن الحلبي (مطبوع)
(۲) التعلیقات الاثریة على المنظومة البيقونية لعلي بن حسن الحلبي (مطبوع)
(٣) طراز البيقونية لمحمود بن احمد النشوي (مطبوع)

اس آخر الذکر کتاب میں صاحب کتاب نے منظومہ سے ٣ اقسام (معنعن ،مبھم اور فرد) کو حذف کرنے کے بعد مزید ۵ اقسام کا اضافہ کیا ہے، جس میں (معلق ، محفوظ ومعروف، متابع وشاہد، حدیث غریب، مشتبہ و مشتبہ مقلوب) شامل ہیں، اور اس طرح بیقونیہ کے 34 اشعار پر 7 اشعار کا اضافہ کرکے اس طراز کو 41 اشعار والا منظومہ بنا دیا ہے۔

أبو المديح بلال الخليلي
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
___________________________________________________________________________
(۱) تلقیح الفکر بشرح منظومة الأثر
(۲) بعض علماء نے اس کتاب کی نسبت امام بیقونی رحمہ اللہ کی جانب کی ہے
(۳) اصطلاحات حدیث کا اردو ترجمہ ، کتاب تیسیر مصطلح الحدیث کے اردو ترجمہ سے ماخوذ ہے
(٤) متون طالب علم، مستوی ثالث صفحہ ٢٤
(٥) یاد رہے کہ قدرے تغیر کے ساتھ اسی نام سے اس فن میں ایک اور کتاب ہے "من أطيب المنح في علم المصطلح" جس کی جمع وتالیف جامعہ اسلامیہ کے سابقہ شیخین "شیخ عبد الکریم مراد اور شیخ عبد المحسن العباد" نے کی ہے اور جو جامعہ اسلامیہ میں معہد ثانویہ کے نصابی مقررات میں سے ہے
 
Last edited:
Top