ذیشان خان

Administrator
فیس بوک پہ لڑکی کے نام سے ID چلانا

مقبول احمد سلفی
سوشل میڈیا اس وقت بہت ترقی کر گیا ہے، بایں سبب اکثروبیشتر مرد و خاتوں اس سے جڑے ہوئے ہیں. اس میڈیا نے جہاں کچه اچهے اثرات چهوڑے وہیں اس کے منفی اثرات بهی سماج پہ بہت مرتب ہوئے.
سوشل میڈیا میں فیس بوک کافی مقبول خاص و عام ہے ، اس سے ہر ایرا غیرا جڑ گیا ہے جس کی وجہ سے خصوصا خواتیں کو بہت دقت کا سامنا ہے .
فیس بوک پہ موجود بدقماشوں نے خواتین سے اس لئے رابطہ بنایا کہ ان سے لذت اندوز ہوا جائے.
اس خطرہ کے علاوہ فیس بوک پہ ایک خطرناک پہلو لڑکوں کا لڑکی کے نام سے آئی چلانا ہے.
اس پہ کئی پہلو سے بات کروں گا.
(1) لڑکی کے نام سے آئی ڈی چلانے کی وجہ؟
اس کے چند وجوہات ہیں.
▪ مرکزی وجہ لڑکیوں اور فحش اشیاء سے لطف اندوز ہونا ہے.
▪ایک وجہ اپنی پوسٹ پہ زیادہ سے زیادہ تعریف،کمنٹ اور لائک جمع کرناہے.
▪چونکہ لڑکی کی آئی ڈی کو فیس بوک لوگ کافی اہمیت دیتے ہیں، بنابریں کچه لوگ خاص ہدف کے لئے لڑکی کا نام استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ دین کا کام بهی کرتے ہیں.
▪اور کچه لوگ اپنے رشتے دار خواتین کے نام سے آئی ڈی چلاتے ہیں مثلا شوہر بیوی کے نام سے، عاشق معشوقہ کے نام سے وغیرہ.
(2) مثبت یا منفی اثرات:
اس طرح کی آئی ڈی سے مجهے کوئی مثبت اثر تو نظر نہیں آتا مگر منفی اثرات نے ہزاروں لڑکی کی زندگی تباہ و برباد کرڈالے. چند مثالیں.
▪کسی لڑکی سے گہری دوستی کرکے برہنہ تصویر کا مطالبہ
▪ کهلم کهلا بات چیت
▪پیار اور شادی کا جهانسہ دیکر عزت سے کهلواڑ
▪یہاں تک کہ قتل غیر فطری موت یعنی خود کشی تک معاملہ پہنچ گیا.
(3) شرعی موقف:
اسلامی اعتبار سے کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ایک لڑکا کسی لڑکی کے نام سے آئی ڈی بنائے کیونکہ اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو شرعا ممنوع ہیں.
▪دوسروں کے نام کا غلط استعمال
▪وجوہات سے واضح ہے کہ اس کی اصل وجہ لڑکیوں سے لطف اندوز ہونا ہے جو کہ حرام ہے.
▪یہ مکمل فراڈ ، دهوکہ اور جهوٹ کا پلندہ ہے.
▪اگر کسی نے مجبوری ، خاص مقصد یا دینی غرض کے تحت بهی ایسا کیا تو یہ ناجائز ہے.
یعنی اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے.
(4) حرف آخر:
جنہوں نے بهی اس قسم کی آئی ڈی بنائی ہے وہ فورا اپنی آئی ڈی ڈیلیٹ کرے اور اپنے سابقہ گناہوں سے اللہ تعالی سے معافی مانگے ، اگر کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس سے معافی طلب کرے.
اور خصوصا میری نصیحت ہے خواتین حضرات کے لئے کہ ایسے پرفتن دور میں آپ کا فیس بوک سے الگ رہنا ہی بہترہے، پهر بهی اگر آپ فیس بوک استعمال کرتی ہیں تو احتیاطی تدابیر اپنائیں.
▪انجان کو دوست نہ بنائیں
▪اپنی تصویر کبهی بهی اپ لوڈ نہ کریں،پروفائل میں بهی نہیں.
▪بلکہ اپنے گهر والوں کی بهی تصویر سے گریز کریں.
▪کسی اجنبی سے چیٹ یا انجان کال پہ بات نہ کریں.
▪شرعی حدود میں رہ کر ہی فیس بوک کا استعمال کریں.
 
Top