ذیشان خان

Administrator
سوشل میڈپا پہ اسلام کی غلط ترجمانیاں

ویسے میڈیا پوارا کا پورا ہی بے لگام ہے مگر سوشل میڈیا اس میں بہت آگے ہے ۔ سوشل میڈیا سے مراد انٹرنیٹ بلوگز، سماجی روابط کی ویب سائٹس یعنی موبائل ایس ایم ایس, فیس بک , ٹوئٹر، مائی اسپیس، گوگل پلس ، ڈگ ، یوٹیوب, واٹس ایپ اور دیگر روابط ہیں۔آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اہمیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔۔ سوشل میڈیا ,الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کا سوشل میڈياسے منسلک ہونا ہے۔ اس میڈیا میں خبروں اور معلومات کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ معلومات کا ذخیرہ آپ تک خود بخود پہنچ جاتا ہے ۔۔ ایک چھوٹی سے چھوٹی خبر کو مقبول کرنے کے لئے کسی بھی سوشل سائٹ میں صرف ایک پوسٹ شیئر کرنے کی ضرورت ہے پھر یہ خود بخود ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے فرد تک پہنچ جائے گی۔
اس میڈیا سے جہاں کچھ فائدہ ہوا ،وہیں اس کے بہت برے اثرات بھی سماج پہ مرتب ہوئے ، خاص طور سے دشمنان اسلام اور شرک و بدعات میں ڈوبی قومیں اپنے مقاصد کی برآوری کے لئے اس میڈیا سے خوب خوب فائدہ اٹھایا اور عوام الناس کو اصل اسلام سے برگشتہ اور متنفر کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی چند جھلکیاں:
(1) سیدھے سادھے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایک جھوٹ کو اس قدر پھیلایا کہ عوام اسے سچ سمجھنے لگی ۔
(2) چونکہ سماجی میڈیا پہ اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی ہیں، انہیں گمراہ کرنے کے لئے قرآنی آیات اور احادیث کا سہارا لیا اور نصوص کا مفہوم توڑمروڑ کے پیش کیا ۔
(3) اس کے ذریعہ ایک فرقے والا دوسرے فرقے پہ بری طرح حملہ کرتا ہے اور اس کی آڑ میں دبے طورپر یا بسا اوقات کھلے طور پر سنت کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔
(4)اس میڈیا پہ بہت ساری باتیں بے اصل و بے بنیاد ہیں مگر انہیں عوام نہیں جانتی ۔
(5) اپنی جھوٹی بات کو مستحکم بنانے کے لئے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے۔ نعوذباللہ من ذلک ۔
(6) بعض منسوب جھوٹی باتوں میں کتب احادیث کا بھی حوالہ دے دیا جاتا ہے ۔
(7) یہی نہیں بلکہ اچھے اچھے لوگوں کو چکمہ دینے کے لئے صحیح بخاری اور صحیح مسلم تک کا حوالہ دیا جاتا ہے جبکہ یہ چیز وہاں موجود نہیں ہوتی۔
(8) بدعتی لوگ تو وارے کے نیارے ہوگئے کیونکہ انہیں بہترین و دلکش ڈیزائن والے امیج کے ساتھ ضعیف، موضوع اور جھوٹی روایات پھیلانے کا جو سنہرا موقع ہاتھ آگیا۔
(9)کشف و کرامات والے بھی اس میدان میں پیچھے نہیں جو جوٹھے قصے کہانیاں بزرگوں کی طرف منسوب کرکے سوشل میڈیا پہ نشر کرتے ہیں ۔
(10) اس میڈیا میں ایک دوسرے کو برے برے القاب سے ملقب کرنا، صحابہ و ائمہ پہ جرح کرنا اور علمائے کرام پہ کفر کے فتوے لگانا، نیز علماء کی توہین آمیز تصویر پوسٹ کرنا۔ نعوذباللہ علماء کی تصاویر کا کچھ حصہ لیکر عریاں و فحش تصاویر میں سیٹ کرکے ان کی کھلی اڑانا وغیرہ وغیرہ جو بیان سے باہرہے ۔ الحفظ والامان
ان کے علاوہ بے شمار خرابیاں ہیں جو یہ میڈیا اور اس سے جڑے بدطینت افراد انجام دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے ہیں۔
آپ لوگوں سے مخلصانہ و مؤدبانہ التماس ہے کہ اس میڈیا کا صحیح استعمال کریں اور اس کے ذریعہ اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کا سد باب کریں اور عوام الناس میں پھیلے شکوک وشبہات کا ہرممکن طور پر ازالہ کریں ۔
اللہ تعالی ہم سب سچے مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو اور دین کے خلاف سرگرم عمل عناصر پر اس کا غیض و غضب نازل ہو۔ آمین
دکھ بھرے لہجے کے ساتھ
آپ کا دینی بھائی
مقبول احمد سلفی
طائف اسلامی سنٹر
 
Top