ذیشان خان

Administrator
واٹس ایپ یا فیس بوک پہ حائضہ عورت کا قرآن کی آیت پڑھنا

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل علم کے درمیان حائضہ کے قرآن پڑھنے میں آراء مختلف ہیں ۔ امام بخاری، ابن جریر طبری، ابن المنذر ، امام مالک ، امام شافعی، ابراہیم نخصی رحمتہ اللہ علیہ ان سب کے نزدیک حائضہ عورت کا قرآن کی تلاوت میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ راحج بات بھی یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ قرآن و سنت میں کوئی صریح اور صحیح دلیل موجود نہیں جس میں حیض والی عورتوں کو قرآن مجید کی تلاوت سے روکا گیا ہو اور یہ ظاہر ہے کہ عورتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی حائضہ ہوتی تھیں ۔ اگر قرآن مجید کی تلاوت ان کیلئے حرام ہوتی تو اللہ کے رسول انہیں قرآن مجید کی تلاوت سے روک دیتے جسے طرح کہ نماز پڑھنے اور ورزہ رکھنے سے روک دیا تھا اور جب حیض کی کثرت کے باوجود کسی صحابی رسول نے یا اُمہات المؤ منین رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے بھی امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ممانعت نقل نہیں کی تو معلوم ہوا کہ جائز ہے۔ اب اس چیز کا علم ہونے کے باوجود کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ممانعت بالکل منقول نہیں اس کو حرام کہنا درست نہیں ۔
جب حائضہ کے لئے قرآن پڑھنے کی ممانعت وارد نہیں تو بلاشبہ واٹس ایپ یا فیس بوک پہ بھی قرآن پڑھ سکتی ہے ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ حائضہ کے قرآن پڑھنے کی ممانعت سے متعلق احادیث قابل استدلال نہیں ہیں۔

مفتی اعظم شیخ ابنِ باز نے کہا ہے کہ ایسی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتی۔ منہ زبانی پڑھ سکتی ہے لیکن مجھے اس کی کوئی دلیل نہیں ملی۔
کہ قرآں کو طہار کے سواء کوئی نہ چھوئے، سے اسے پر استدلال درست نہیں ہے کیونکہ الاطاہر کا معنی بخاری شریف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث متعین کرتی ہے۔ کہ اس کا معنی ہے مومن کے سوا ء قرآن کو کوئی نہ چھوئے۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔
 
Top