ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 05) (جاری)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ذو النورین ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سے شادی کا شرف) :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مسلمان انتہائی خوش ہوئے، آپ کے اور اہل ایمان کے درمیان اخوت و محبت کا رشتہ مزید مضبوط ہوا، حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عقد عتبہ بن ابی لہب اور حضرت ام کلثوم بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عقد عتیبہ بن ابی لہب سے کر رکھا تھا لیکن جب سورۃ " المسد" تبت یدا ابی لہب" نازل ہوئی تو دونوں میاں بیوی (ابولہب و ام جمیل بنت ابی حرب ) نے اپنے دونوں بیٹوں کو طلاق دینے کا حکم دیا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی،دونوں لڑکوں نے اپنے والدین کے حکم پر عمل کرتے ہوئے طلاق دے دیا ۔(77)

ام جمیل اور اس کے شوہر ابولہب نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دلوا کر محمدی گھرانے کو زک پہونچائیں گے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لیے خیر و بھلائی منتخب فرمایا،اور بد بخت ابو لہب و ام جمیل کو رسوا و ذلیل کیا ،وہ اپنا منھ لے کر رہ گئے اور محمدی گھرانے کو ان کے شر سے محفوظ رکھا،اور اللہ تعالیٰ کا حکم مقدر تھا اور نافذ ہوکر رہا ۔(78)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جب اس کی خبر ملی بے حد خوش ہوئے اور حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کا پیغام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام کو قبول کرتے ہوئے شادی کردی،ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رخصت کیا ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قریش میں انتہائی خوبصورت تھے اور حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں آپ سے کم نہ تھیں ، رخصتی کے وقت لوگوں کی زبان پر یہ شعر تھا :

أحسن زوجين رآهما انسان
رقية و زوجها عثمان (79)

خوبصورت جوڑے جنہیں کسی انسان نے دیکھا حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ۔

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کے لیے روانہ ہونے لگے تو اس وقت سیدۃ رقیہ رضی اللہ عنہا شدید بیمار تھیں یعنی چیچک کے مرض میں مبتلا تھیں لیکن اس کے باوجود جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے قریش کے تجارتی قافلے کو چھیڑنے کے لئے نکلنے کا حکم دیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی تکمیل میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لئے مدینہ ہی میں رک جاؤ ، آپ نے برضا و رغبت فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل فرمائی اور اپنی زوجہ محترمہ صابرہ وطاھرۃ رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں رہے۔

جب مرض بڑھ گیا اور موت کے آثار نمودار ہوئے اس حالت میں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو جب کہ موت نے انہیں گھیر رکھا تھا اپنے والد محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو بدر میں مشغول تھے اور اپنی ہمشیرہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی دیدار کے انتہائی شوق میں بے تاب تھیں جو مکہ ہی میں تھیں ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آنسوؤں کے ساتھ ان پر ٹکٹکی لگائے ہوئے تھے اور جیسے دل غم سے پھٹا جارہا تھا۔(80)

حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے" لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " کی شہادت کے ساتھ موت کو لبیک کہا اور رفیق اعلیٰ سے جا ملیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کا دیدار نہ ہوسکا ۔

مدینہ واپسی پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کی خبر ملی،آپ بقیع تشریف لے گئے،ان کی قبر پر کھڑے ہو کر آپ نے بخشش و غفران کی ان کے لیے دعا کی ۔(81)

سیدۃ حضرت رقیہ اللہ عنہا کی وفات کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی سیدۃ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کردی۔

روایات کے مطابق یہ نکاح منشائے الٰہی کے عین مطابق تھا،وہ بھی 9/ ھ میں آپ کی زندگی ہی میں انتقال کر گئیں(82)

خلاصہ کلام : کسی بھی نبی کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے ایک آدمی کے نکاح میں نہیں آئیں ، یہ صرف سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہی کے نکاح میں آئیں ، یہ سعادت آپ سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
یہ آپ کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے اور ایسا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت اور لگاؤ کی وجہ سے تھی، اسی لیے آپ کو ذوالنورین (دو نور والے) کہا جاتا ہے۔
یہ کیوں نہ ہو جب کہ ایک مومنہ عورت کافر کے لیے حلال نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان :"فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ۖ" (83)

اگر وہ تمہیں ایماندار معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو ،یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں ۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دینی و اخلاقی دونوں طور پر محبوب وپسندیدہ تھے،ایک لمبے زمانے تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد رہے۔(84)

ابن سبرۃ العامری رحمہ اللہ ( جنہوں نے ابوبکر،عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے استفادہ کیا جو کہ شعبی ،ضحاک اور اس طبقے کے لوگوں کے استاد بھی ہیں فرماتے ہیں : کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : ہمیں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتلائیے تو آپ نے کہا : کہ یہ وہی ہیں جو فرشتوں کے درمیان" ذوالنورین" کے لقب سے بلائے جاتے ہیں۔(85)

اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)

حوالہ جات :

____________________________________________

(77) ذوالنورین عثمان بن عفان ص: 12/, الذریۃ الطاھرۃ النبویۃ للدولابی ،ص: 53/ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام 322/01)
(78) دماء علی' قمیص عثمان، ص: 84/
(79) تاریخ دمشق ،18/41 ، أنساب الاشراف،ص: 89/
(80) نساء اہل البیت،ص: 491/
(81) دماء علی' قمیص عثمان ،ص: 20/
(82) الذریۃ الطاھرۃ النبویۃ للدولابی ،ص: 59/و موسوعۃ الدفاع عن الصحابہ،930/02
(83) سورۃ الممتحنہ، آیت نمبر :10/
(84)موسوعۃ الدفاع عن الصحابۃ 931/02/
(85) العواصم من القواصم ،ص: 54/
 
Top