ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 06)
(جاری)

ذو الھجرتین (دو ہجرت والے ) :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ حبشہ سے مدینہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور تمام مہاجرین حبش سے پہلے پہونچے، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف پہلی اور دوسری مرتبہ جن نفوس کو حاصل ہوا ان میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے چیچک کی وجہ سے ان کی تیمارداری میں مشغول ہو کر غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے،جب کہ دیگر مہاجرین حبشہ مدینہ منورہ جنگ خیبر کے بعد پہونچے ۔(86)

عببیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

" أما بعد ! فإن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق،وأنزل عليه الكتاب،وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت بما بعث به محمد صلى الله عليه وسلم،وها جرت الهجرتين الأوليين وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورأيت هديه" (87)

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا،میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر ابتداء ہی میں لبیک کہا اور میں ان تمام چیزوں پر ایمان لے آیا جنہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر بھیجے گئے تھے، پھر میں نے دو ہجرتیں کیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا اور آپ کے طریقے کو دیکھا ۔

"ونلت صهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وبايعته ،فوالله ما عصيته ولا غششته حتى ' توفاه الله ثم ابوبكر، ثم عمر مثله" (88)
اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دوہری دامادی کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا ،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بیعت کی،
اللہ تعالیٰ کی قسم کہ میں نے آپ کی نہ کبھی نافرمانی کی اور نہ کبھی آپ سے دھوکہ بازی کی یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہوگیا،
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے ،ان کے بعد پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔

کثرت سے انفاق فی سبیل اللہ :

آپ کے انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں بے شمار واقعات ہیں جیسے بئر رومہ کا خریدنا ،جیش عسرۃ (غزوۂ تبوک ) کی تیاری میں حصہ لینا، اور بھی کئی دیگر مواقع پر اپنے مال کو خرچ کرتے تھے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے "أن عثمان بن عفان رضي الله عنه حيث حوصر أشرف عليهم ،وقال : أنشدكم ولا أنشد إلا أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ، ألستم تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : "من حفر رومة فله الجنة"(89) عند الترمذي (90) من يشتري بئر رومة"

لیکن حقیقت میں دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خریدنے کے بعد کنویں کو وسیع کروایا ہو اور اس کا منڈیر بنوایا ہو اس لیے کھودنے کی نسبت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ہے۔(91)

فحفرتها ،ألستم تعلمون أنه قال : "من جهز جيش العسرة فله الجنة فجهزت "(92) قال : فصدقوه بما قال ، وفى رواية النسائى "فجهزتهم حتى لم يفقدوا عقالا ولا خطاما "(93)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تم لوگ جانتے ہو جو اس لشکر کو تیار کرے گا اس کے لیے جنت تو میں نے اس کو تیار کیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کے بات کی تصدیق کی ،اور نسائی کی روایت میں ہے کہ میں نے رسی اور نکیل تک کا بھی انتظام کیا۔

مدینہ طیبہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے پینے کے پانی کا مسئلہ بن گیا کیونکہ وہاں میٹھے پانی کے واحد کنویں بئر رومہ کا مالک بنو غفار کا ایک آدمی تھا وہ بہت مہنگا پانی فروخت کرتا تھا،حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بئر رومہ کو اپنے مال سے خرید کر لوگوں کے لئے وقف کیا مگر آج تم مجھے روزہ افطار کرنے کے لیے پانی نہیں لینے دیتے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے جنت کی بشارت دی جو بئر رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے 35/ ہزار درہم میں وہ کنواں خرید لیا اور مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔(94)

آپ حد درجہ فیاض اور سخی انسان تھے،آپ کا مال مسلمانوں کی فلاح و بہبود میں استعمال ہوتا تھا،غزوات کے موقع پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے،عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسجد نبوی کی توسیع کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے مسجد کے قریب واقع زمین کا ایک ٹکڑا خرید کر وقف کردیا۔(95)

جیش العسرۃ (غزوۂ تبوک) کے موقع پر آپ نے بڑی فیاضی ودریا دلی سے کام لیا،دور دراز کا سفر اور اس وقت کی سب سے بڑی قوت رومن امپائر (ہرقل کی فوج سے 09ھجری میں) کے ساتھ مقابلہ

اس تناظر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ترغیب دی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کثرت سے مال خرچ کریں ،

اس غزوۂ تبوک میں خرچ کرنے میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سب سے آگے رہے،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کے ساتھ ساتھ نقود بھی خرچ کیے۔(96)

عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ (97) سے روایت ہے:
"جاء عثمان إلى النبي صلى الله عليه وسلم بألف دينار حين جهز جيش العسرة فنثرها فى حجره،فجعل يقلبها
وهو يقول :
"ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم"(98) آپ نے دو مرتبہ دوہرایا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار لے آئے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش مبارک میں ڈال دیا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الٹتے جاتے اور فرماتے جاتے:" آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں انہیں کوئی نقصان نہ ہوگا"۔

آپ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اشاروں پر فوراً لبیک کہنے والوں میں سے تھے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)

حوالہ جات :

____________________________________________
(86) ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء ص:253/
(87)رواہ البخاری فی مناقب الأنصار،باب ھجرۃ الحبشۃ،حدیث نمبر:3872/
(88) رواہ البخاری فی مناقب الأنصار،باب ھجرۃ الحبشۃ،حدیث نمبر:3927/
(89) صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب اذا وقف أرضا أو بئرا (778) و فی کتاب المساقاۃ ،باب من رأی صدقۃ الماء ،حدیث نمبر:2351)
(90) رواہ الترمذی فی سننہ ،کتاب المناقب عن رسول صلی اللہ علیہ وسلم،باب فی مناقب عثمان رضی اللہ عنہ ،حدیث نمبر :3703) والنسائی فی سننہ ،کتاب الأحباس،باب وقف المساجد،حدیث نمبر:3608) وحسنہ الالبانی رحمہ اللہ فی ارواء الغلیل (1594)
(91) فتح الباری 408/05،
(92)أخرجہ النسائی فی کتاب الأحباس،باب وقف المساجد،حدیث نمبر:3608/
(93) صحیح سنن النسائی،حدیث نمبر :2374/
(94) أخرجہ الطبرانی فی الکبیر 41/02، حدیث نمبر :1226/
(95)أخرجہ الترمذی فی کتاب المناقب،باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر :3703)
(96)السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ،ص:615/
(97) عبدالرحمن بن سمرہ صحابی ہیں،50ہجری میں بصرۃ کے اندر وفات ہوئی،الاصابۃ لابن حجر 400/02،
(98) أخرجہ الترمذی فی کتاب المناقب،باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر :3700) فضائل الصحابہ لامام احمد 458/01, مستدرک الحاکم 102/03, المعرفۃ والتاریخ للفسوی 283/01, موسوعۃ الدفاع عن الصحابہ 936/02، العشرون المبشرون بالجنۃ ص:31،
 
Top