ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 07) (جاری)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے صلح حدیبیہ کے موقع پر سفارت کا شرف حاصل ہونا :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اشاروں پر فوراً لبیک کہنے والوں میں سے تھے۔

سن 628ء (6 ھجری) میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تیار ہوگئے تو یہ قافلہ جب "حدیبیہ"(مکہ معظمہ سے ایک منزل کے فاصلے پر ایک کنواں حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے, وہاں مدینہ اورمشرکینِ مکہ کے درمیان مارچ 628ء کو ایک معاہدہ ہوا جسے صلح حدیبیہ (عربی میں صلح الحديبية) کہتے ہیں) کے مقام پر پہونچا تو قریش مکہ کے قدآور لیڈران نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مصالحت کی غرض سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا، تاکہ قریش مکہ کو اطمینان ہوجائے کہ ہم عمرہ کے لیے آئے ہیں ہمارا ارادہ دوسرا کچھ بھی نہیں ہے ۔

عمرہ ٔ حدیبیہ کا سبب :

جب جزیرہ ٔ نمائے عرب میں حالات بڑی حد تک مسلمانوں کے موافق ہوگئے تو اسلامی دعوت کی کامیابی اور فتح ِ اعظم کے آثار رفتہ رفتہ نمایاں ہونا شروع ہوئے اور مسجدِ حرام میں جس کا دروازہ مشرکین نے مسلمانوں پر چھ بر س سے بند کررکھا تھا مسلمانوں کے لیے عبادت کا حق تسلیم کیے جانے کی تمہیدات شروع ہوگئیں۔

رسول اللہﷺ کو مدینہ کے اندر یہ خواب دکھلایا گیا کہ آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد حرام میں داخل ہوئے، آپﷺ نے خانہ کعبہ کی کنجی لی، اور صحابہ سمیت بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کیا، پھر کچھ لوگوں نے سر کے بال منڈائے اور کچھ نے کٹوانے پر اکتفاکی, آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ا س خواب کی اطلاع دی تو انھیں بڑی مسرت ہوئی اورانہوں نے یہ سمجھا کہ اس سال مکہ میں داخلہ نصیب ہوگا، آپﷺ نے صحابہ کرام کو یہ بھی بتلایا کہ آپﷺ عمرہ ادا فرمائیں گے، لہٰذا صحابہ کرام بھی سفر کے لیے تیار ہوگئے۔

مدینہ منورہ سے مسلمانوں کی روانگی کا اعلان:

آپﷺ نے مدینہ اور گردوپیش کی آبادیوں میں اعلان فرمادیا کہ لو گ آپ کے ہمراہ روانہ ہوں ، لیکن بیشتر اعراب نے تاخیر کی، ادھر آپﷺ نے اپنے کپڑے دھوئے، مدینہ پر ابن اُم ِ مکتوم یا نمیلہ لیثی کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، اور اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوکر یکم ذی قعد ہ 6/ ھ بروز دوشنبہ کو مدینہ سے مکہ روانہ ہوگئے۔
آپ کے ہمراہ اُم المومنین حضرت ام سلمہ ؓ بھی تھیں ، چودہ سو (اور کہا جاتا ہے کہ پندرہ سو ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمرکاب تھے، آپﷺ نے مسافرانہ ہتھیار یعنی میان کے اندر بند تلواروں کے سوا اور کسی قسم کا ہتھیار نہیں لیاتھا۔

مکہ کی جانب مسلمانوں کی حرکت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ مکہ کی جانب تھا، ذو الحلیفہ پہنچ کر آپ نے" ہدی "(99) کو قلادے پہنائے، کوہان چیر کر نشان بنایا، اور عمرہ کا احرام باندھا تاکہ لوگوں کو اطمینان رہے کہ آپ جنگ نہیں کریں گے۔

آگے آگے قبیلہ خزاعہ کا ایک جاسوس بھیج دیا تاکہ وہ قریش کے عزائم کی خبر لائے، عسفان کے قریب پہنچے تو اس جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ میں کعب بن لوی کو اس حالت میں چھوڑ کر آرہا ہوں کہ انھوں نے آپ سے مقابلہ کرنے کے لیے"احابیش" (100) (حلیف قبائل ) کو جمع کررکھا ہے اور بھی جمعیتیں فراہم کی ہیں، اور وہ آپ سے لڑنے اورآپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔

اس اطلاع کے بعد نبیﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور فرمایا : کیا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ لوگ جو قریش کی اعانت پر کمر بستہ ہیں ہم ان کے اہل وعیال پر ٹوٹ پڑیں اور قبضہ کرلیں ؟

اس کے بعد اگر وہ خاموش بیٹھتے ہیں تو اس حالت میں خاموش بیٹھتے ہیں کہ جنگ کی مار اور غم والم سے دوچار ہوچکے ہیں اور بھاگتے ہیں تو وہ بھی اس حالت میں کہ اللہ ایک گردن کا ٹ چکا ہوگا ، یا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ہم خانہ کعبہ کا رُخ کریں اور جو راہ میں حائل ہو اس سے لڑائی کریں ؟

اس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، مگر ہم عمرہ ادا کرنے آئے ہیں، کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں، البتہ جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگا اس سے ضرور لڑائی کریں گے نبیﷺ نے فرمایا : اچھا تب چلو، چنانچہ لوگوں نے سفر جاری رکھا۔

ادھر مکہ مکرمہ میں بیت اللہ سے مسلمانوں کو روکنے کی کوشش:

ادھر قریش کو رسول اللہﷺ کی روانگی کا جب عِلم ہوا تو انھوں نے ایک مجلس ِ شوریٰ منعقد کی اور طے کیا کہ جیسے بھی ممکن ہو مسلمانوں کو بیت اللہ سے دور رکھا جائے۔

چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب احابیش سے کتراکر اپنا سفر جاری رکھا تو بنی کعب کے ایک آدمی نے آکر آپ کو اطلاع دی کہ قریش نے مقام " ذی طویٰ" میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے اور خالد بن ولید دوسو سواروں کا دستہ لے کر "کُرَاع الغمیم" میں تیا ر کھڑے ہیں (101) خالد نے مسلمانوں کو روکنے کی بھی کوشش کی چنانچہ انہوں نے اپنے سواروں کو ایسی جگہ تعینات کیا جہاں سے دونوں فریق ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، خالد نے ظہر کی نماز میں یہ بھی دیکھا کہ مسلمان رکوع اور سجدے کررہے ہیں تو کہنے لگے : کہ یہ لوگ غافل تھے ہم نے حملہ کردیا ہوتا تو انھیں مارلیاہوتا۔

اس کے بعد طے کیا کہ عصر کی نماز میں مسلمانوں پر اچانک ٹوٹ پڑیں گے ، لیکن اللہ نے اسی دوران صلوٰۃ خوف (حالت جنگ کی مخصوص نماز) کا حکم نازل کردیا اور خالد کے ہاتھ سے موقع جاتا رہا۔

ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش اور راستے کی تبدیلی :

ادھر رسول اللہﷺ" کُراع الغمیم" کا مرکزی راستہ چھوڑ کر ایک دوسرا پُر پیچ راستہ اختیار کیا جو پہاڑی گھاٹیوں کے درمیان سے ہوکر گزرتا تھا، یعنی آپ داہنے جانب کترا کر "حمش" کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک ایسے راستے پر چلے جو "ثنیۃ المرار" پر نکلتا تھا(ثنیۃالمرار سے حدیبیہ میں اترتے ہیں اور حدیبیہ مکہ کے زیریں علاقہ میں واقع ہے)۔

اس راستے کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ "کُراع الغمیم" کا وہ مرکزی راستہ جو تنعیم سے گزر کر حرم تک جاتا تھا ، اور جس پر خالد بن ولید کا رسالہ تعینات تھا وہ بائیں جانب چھوٹ گیا، خالد نے مسلمانوں کے گرد وغبار کو دیکھ کر جب یہ محسوس کیاکہ انہوں نے راستہ تبدیل کردیا ہے تو گھوڑے کو ایڑ لگائی اور قریش کو اس نئی صورت ِ حال کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے بھاگم بھاگ مکہ پہنچے۔

ادھر رسول اللہﷺ نے اپنا سفر بدستور جاری رکھا ، جب "ثنیۃ المرار" پہنچے تو اونٹنی بیٹھ گئی، لوگو ں نے کہا : حل حل ، لیکن وہ بیٹھی ہی رہی

لوگوں نے کہا : قصواء اڑ گئی ہے،
آپ نے فرمایا :قصواء اڑی نہیں ہے اور نہ اس کی یہ عادت ہے ، لیکن اسے اس ہستی نے روک رکھا ہے جس نے ہاتھی(اصحاب الفیل) کوروک دیا تھا۔

پھر آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!
" یہ لوگ کسی بھی ایسے معاملے کا مطالبہ نہیں کریں گے جس میں اللہ کی حُرمتوں کی تعظیم کررہے ہوں لیکن میں اسے ضرور تسلیم کر لوں گا۔"

اس کے بعد آپ نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اچھل کر کھڑی ہوگئی ، پھر آپ نے راستہ میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور اقصائے حدیبیہ میں ایک چشمہ پر نزول فرمایا، جس میں تھو ڑا سا پانی تھا اور اسے لوگ ذرا ذرا سا لے رہے تھے، چنانچہ چند ہی لمحوں میں ساراپانی ختم ہوگیا ، اب لوگوں نے رسول اللہﷺ سے پیاس کی شکایت کی، آپ نے ترکش سے ایک تیر نکالا اور حکم دیا کہ چشمے میں ڈال دیں۔
لوگوں نے ایسا ہی کیا اس کے بعد واللہ! اس چشمے سے مسلسل پانی ابلتا رہا یہاں تک کہ تمام لوگ آسودہ ہوکر واپس ہوگئے۔

بدیل بن ورقاء کا توسط :

رسول اللہﷺ مطمئن ہوچکے تو بُدَیل بن ورقاء خزاعی اپنے قبیلہ خزاعہ کے چند افراد کی معیّت میں حاضر ہوا، تہامہ کے باشندوں میں یہی قبیلہ (خزاعہ ) رسول اللہﷺ کا خیر خواہ تھا۔
بدیل نے کہا : میں کعب بن لؤی کو دیکھ کر آرہا ہوں کہ وہ حدیبیہ کے فراواں پانی پر پڑ اؤ ڈالے ہوئے ہیں، ان کے ہمراہ عورتیں اور بچے بھی ہیں، وہ آپ سے لڑنے اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا : ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں ،قریش کو لڑائیوں نے توڑ ڈالا ہے اور سخت ضرر پہنچا یا ہے اس لیے اگر وہ چاہیں تو ان سے ایک مدت طے کرلوں اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں، اور اگر وہ چاہیں تو جس چیز میں لوگ داخل ہوئے ہیں اس میں وہ بھی داخل ہوجائیں ورنہ ان کو راحت تو حاصل ہی رہے گی۔

اور اگر انہیں لڑائی کے سو ا کچھ منظور نہیں تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اپنے دین کے معاملے میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک کہ میری گردن جدا نہ ہوجائے یا جب تک اللہ اپنا امر نافذ نہ کردے۔
بُدَیل نے کہا :

آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں میں اسے قریش تک پہنچادوں گا۔ اس کے بعد وہ قریش کے پاس پہنچا، اور بولا:
میں ان صاحب کے پا س سے آرہا ہوں میں نے ان سے ایک بات سنی ہے ، اگر چاہو تو پیش کردوں۔

اس پر بیوقوفوں نے کہا:ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہم سے ان کی کوئی بات بیان کرو، لیکن جو لوگ سوجھ بوجھ رکھتے تھے انہوں نے کہا : لاؤ سناؤ تم نے کیا سنا ہے ؟

بدیل نے کہا : میں نے انہیں یہ اور یہ بات کہتے سنا ہے ، اس پر قریش نے مکرز بن حفص کو بھیجا، اسے دیکھ کر رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ بد عہد آدمی ہے، چنانچہ جب اس نے آپ کے پاس آکر گفتگو کی تو آپ نے اس سے وہی بات کہی جو بدیل اور ا س کے رفقاء سے کہی تھی، اس نے واپس پلٹ کر قریش کو پوری بات سے باخبر کیا۔

قریش کے ایلچی(قاصد) :

اس کے بعد حلیس بن علقمہ نامی بنوکنانہ کے ایک آدمی نے کہا: مجھے ان کے پاس جانے دو، لو گوں نے کہا: جاؤ.
جب وہ نمودار ہوا تو نبیﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : یہ فلاں شخص ہے، یہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جو ہَدْی کے جانوروں کا بہت احترام کرتی ہے، لہٰذا جانوروں کو کھڑا کردو، صحابہ نے جانوروں کو کھڑا کردیا اور خود بھی لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔

اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا : سبحان اللہ ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا ہرگز مناسب نہیں اور وہیں سے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پلٹ گیا اور بو لا : میں نے ہدی کے جانور دیکھے ہیں جن کے گلوں میں قلادے ہیں اورجن کی کوہان چیری ہوئی ہیں، اس لیے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ انہیں بیت اللہ سے روکا جائے اس پر قریش اور اس شخص میں کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ وہ تاؤ میں آگیا۔

اس موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی نے مداخلت کی اور بو لا : اس شخص (محمدﷺ ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے لہٰذا اسے قبول کرلو اور مجھے ان کے پاس جانے دو، لوگوں نے کہا : جاؤ ! چنانچہ وہ آپ کے پاس حاضر ہوا اور گفتگو شروع کی، نبیﷺ نے اس سے بھی وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی، اس پر عروہ نے کہا : اے محمد ! یہ بتایئے کہ اگر آپ نے اپنی قوم کا صفایا بھی کردیا تو کیا اپنے آپ سے پہلے کسی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا صفایا کردیا ہو اور اگر دوسری صورتِ حال پیش آئی تو اللہ کی قسم! میں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی لائق ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔

اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا: لات کی شرمگاہ کا لٹکتا ہوا چمڑا چوس ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگیں گے ؟

عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟

لوگوں نے کہا : ابو بکرؓ ہیں،
اس نے حضرت ابو بکر کو مخاطب کرکے کہا :

دیکھو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی کہ تم نے مجھ پر ایک احسان کیا تھا اور میں نے اس کا بدلہ نہیں دیا ہے ، تو میں یقینا تمہاری اس بات کا جواب دیتا۔

اس کے بعد عروہ پھر نبیﷺ سے گفتگو کرنے لگا وہ جب گفتگو کرتا تو آپ کی داڑھی پکڑ لیتا، مغیرہ بن شعبہؓ نبیﷺ کے سر کے پاس ہی کھڑے تھے، ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خُود ، عروہ جب نبیﷺ کی داڑھی پر ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کے دستے سے اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ نبیﷺ کی داڑھی سے پرے رکھ، آخر عروہ نے اپناسر اٹھایا ، اور بولا: یہ کون ہے ؟

لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں ،
اس پر اس نے کہا: ... او ...بدعہد ... ! کیا میں تیری بدعہدی کے سلسلے میں دوڑ دھوپ نہیں کررہا ہوں ؟

واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ کچھ لوگوں کے ساتھ تھے، پھر انہیں قتل کرکے ان کا مال لے بھاگے تھے اور آکر مسلمان ہوگئے تھے، اس پر نبیﷺ سے فرمایا تھا کہ میں اسلام تو قبول کرلیتا ہوں ، لیکن مال سے میرا کوئی واسطہ نہیں (اس معاملے میں عروہ کے دوڑدھوپ کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مغیرہ اس کے بھتیجے تھے )


اس کے بعد عروہ نبیﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کے تعلق ِ خاطر کا منظر دیکھنے لگا، پھر اپنے رفقاء کے پاس واپس آیا اور بولا : اے قوم ! واللہ میں قیصر وکسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جاچکا ہوں، واللہ میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اُس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد کے ساتھی محمدﷺ کی تعظیم کرتے ہیں، اللہ کی قسم ! وہ کھنکار بھی تھوکتے تھے تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا اور وہ شخص اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا تھا، اور جب وہ کوئی حکم دیتے تھے تواس کی بجا آوری کے لیے سب دوڑ پڑتے تھے، اور جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑپڑیں گے، اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کرلیتے تھے، اور فرطِ تعظیم کے سبب انہیں بھرپورنظر نہ دیکھتے تھے، اور انہوں نے تم پر ایک اچھی تجویز پیش کی ہے، لہٰذااسے قبول کرلو۔

اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روکے :

جب قریش کے پُر جوش اور جنگ باز نوجوان نے دیکھا کہ ان کے سر برآوردہ حضرات صلح کے خواہاں ہیں تو انہوں نے صلح میں ایک رخنہ اندازی کا پروگرام بنایا، اور یہ طے کیا کہ رات میں یہاں سے نکل کر چپکے سے مسلمانوں کے کیمپ میں گھس جائیں اور ایسا ہنگامہ برپا کردیں کہ جنگ کی آگ بھڑک اٹھے، پھر انہوں نے اس پروگرام کی تنفیذ کے لیے عملی قدم بھی اٹھا یا، چنانچہ رات کی تاریکی میں ستر یا اسیّ نوجوانوں نے "جبل تنعیم" سے اتر کر مسلمانوں کے کیمپ میں چپکے سے گھسنے کی کوشش کی لیکن اسلامی پہرے داروں کے کمانڈر محمد بن مسلمہ نے ان سب کو گرفتار کر لیا پھر نبیﷺ نے صلح کی خاطر ان سب کو معاف کرتے ہوئے آزاد کر دیا۔

اسی کے بارے میں اللہ کا یہ ارشاد نازل ہوا :
وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَ‌كُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرً‌ا "(102)
''وہی ہے جس نے بطن ِ مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے روکے اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے، اس کے بعد کہ تم کو ان پر قابو دے چکا تھا،اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا تھا۔''

اسی موقع پر حضرت عثما نؓ کی سفارت :

اب رسول اللہﷺ نے سوچا کہ ایک سفیر روانہ فرمائیں جو قریش کے سامنے مؤکد طریقے پر آپ کے موجودہ سفر کے مقصد وموقف کی وضاحت کردے، اس کام کے لیے آپﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو بلایا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ اے اللہ کے رسول ! اگر مجھے اذّیت دی گئی تو مکہ میں بنی کعب کا ایک فرد بھی ایسا نہیں جو میری حمایت میں بگڑ سکتا ہو، آپﷺ حضرت عثمان بن عفانؓ کو بھیج دیں، ان کا کنبہ قبیلہ مکہ ہی میں ہے وہ آپﷺ کا پیغام اچھی طرح پہنچا دیں گے۔

آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو بلایا اور قریش کے پاس روانگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
انہیں بتلادو کہ ہم لڑنے نہیں آئے ہیں، عمرہ کرنے آئے ہیں۔ انہیں اسلام کی دعوت بھی دو آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ مکہ میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے پاس جاکر انہیں فتح کی بشارت سنا دیں اور یہ بتلادیں کہ اللہ عزوجل اب اپنے دین کومکہ میں ظاہر وغالب کرنے والا ہے یہاں تک کہ ایمان کی وجہ سے کسی کو یہاں روپوش ہونے کی ضرورت نہ ہوگی۔

حضرت عثمانؓ آپﷺ کا پیغام لے کر روانہ ہوئے، "مقام بلدح" میں قریش کے پاس سے گذرے تو انہوں نے پوچھا :
کہاں کا ارادہ ہے ؟
فرمایا: مجھے رسول اللہﷺ نے یہ اور یہ پیغام دے کر بھیجا ہے۔
قریش نے کہا : ہم نے آپ کی بات سن لی، آپ اپنے کام پر جایئے، ادھر سعید بن عاص نے اُٹھ کر حضرت عثمانؓ کو مرحبا کہا، اور اپنے گھوڑے پر زین کس کر آپ کو سوار کیا اور ساتھ بٹھا کر اپنی پناہ میں مکہ لے گیا ، وہاں جاکر حضرت عثمانؓ نے سربراہان ِ قریش کو رسول اللہﷺ کا پیغام سنایا، اس سے فارغ ہوچکے تو قریش نے پیشکش کی کہ آپ بیت اللہ کا طواف کرلیں مگر آپ نے یہ پیش کش مسترد کردی اور یہ گورا نہ کیا کہ رسول اللہﷺ کے طواف کرنے سے پہلے خود طواف کر لیں۔


حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مستضعفین مکہ(مکہ کے غریب و کمزور مسلمان مردو عورت) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہونچایا اور بہت جلد ان مشکلات سے نجات پانے کی بشارت و خوشخبری دی جن میں وہ مبتلا تھے۔(103)

حضرت عثما نؓ کی شہادت کی افواہ اور بیعت رضوان :

حضرت عثمانؓ اپنی سفارت کی مہم پوری کر چکے تھے ، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا غالباً وہ چاہتے تھے کہ پیش آمدہ صورتِ حال پر باہم مشورہ کر کے کوئی قطعی فیصلہ کرلیں اور حضرت عثمانؓ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا جواب دے کر واپس کریں، مگر حضرت عثمانؓ کے دیر تک رُکے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے جب رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہم اس جگہ سے ٹل نہیں سکتے یہاں تک کہ لوگوں سے معرکہ آرائی کرلیں۔

پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیعت کی دعوت دی، صحابہ کرام ٹوٹ پڑے اور اس پر بیعت کی کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے،(104) ایک جماعت نے موت پر بیعت کی،(105) یعنی مر جائیں گے مگر میدان ِ جنگ نہ چھوڑیں گے،ایک روایت میں ہے کہ یہ بیعت صبر پر تھی(106) ۔
سب سے پہلے ابو سنان اسدی نے بیعت کی، حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے تین بار بیعت کی ، شروع میں ، درمیان میں اور اخیر میں۔
اس دوران چشم فلک نے ایک حیرت انگیز یہ منظر بھی دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھتے ہوئے فرمایا " ھذہ ید عثمان "(107)
یہ عثمان کا ہاتھ ہے،اس بیعت میں صرف ایک آدمی نے جو منافق تھا شرکت نہیں کی ، اس کا نام جد بن قیس تھا۔

رسول اللہﷺ نے یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی ،حضرت عمرؓ دست مبارک تھا مے ہوئے تھے اور حضرت معقل بن یسارؓ نے درخت کی بعض ٹہنیاں پکڑ کر رسول اللہﷺ کے اوپر سے ہٹا رکھی تھیں، اسی بیعت کا نام بیعت ِ رضوان ہے۔(108)
اور اسی کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے:
لَّقَدْ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَ‌ةِ (109)
''اللہ مومنین سے راضی ہوا۔ جب کہ وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دینا اتنا بڑا اعزاز ہے کہ عام حالات میں اس کا تصور و ادراک بھی نہیں کیا جاسکتا،یہ حضرت عثمان رضی اللہ کی خوش قسمتی تھی یہ ان کے لیے بہت بڑے نصیب کی بات تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دینا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی دلفریب ادا تھی اور اپنائیت کا کیسا دلبرانہ انداز ہے(110)۔

صلح حدیبیہ اور دفعات ِ صلح:

بہر حال قریش نے صورتِ حال کی نزاکت محسوس کرلی، لہٰذا جھٹ سُہیل بن عَمرو کو معاملات صلح طے کرنے کے لیے روانہ کیا اور یہ تاکید کردی کہ صلح میں لازما ً یہ بات طے کی جائے کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں ایسا نہ ہو کہ عرب یہ کہیں کہ آپﷺ ہمارے شہر میں جبراً داخل ہوگئے۔

ان ہدایات کو لے کر سہیل بن عمرو آپﷺ کے پاس حاضر ہوا نبیﷺ نے اسے آتا دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تمہارا کام تمہارے لیے سہل کردیا گیا۔
اس شخص کو بھیجنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ قریش صلح چاہتے ہیں، سُہیل نے آپﷺ کے پاس پہنچ کر دیر تک گفتگو کی، اور بالآخر طَرفَین میں صلح کی دفعات طے ہوگئیں جو یہ تھیں:

رسول اللہﷺ اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس جائیں گے.
اگلے سال مسلمان مکہ آئیں گے اور تین روز قیام کریں گے، ان کے ساتھ سوار کا ہتھیار ہوگا، میانوں میں تلواریں ہوں گی، اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جائے گا۔

دس سال تک فریقین جنگ بندرھیں گے اس عرصے میں لوگ مامون رہیں گے، کوئی کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھائے گا، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکے گا اور جو قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکے گا، جو قبیلہ جس فریق میں شامل ہوگا اس فریق کا ایک جزو سمجھا جائے گا لہٰذا ایسے کسی قبیلے پر زیادتی ہوئی تو خود اس فریق پر زیادتی متصور ہوگی۔

قریش کا جو آدمی اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر یعنی بھاگ کر محمد ﷺ کے پاس جائے گا محمدﷺ اسے واپس کردیں گے ، لیکن محمدﷺ کے ساتھیوں میں سے جو شخص پناہ کی غرض سے بھاگ کر قریش کے پاس آئے گا قریش اسے واپس نہ کریں گے۔

اس کے بعد آپﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا کہ تحریر لکھ دیں اور یہ املا کرایا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس پر سہیل نے کہا: ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہے ؟
آپ یوں لکھئے : باِسْمِک اللہمَّ (اے اللہ تیرے نام سے )
نبیﷺ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ یہی لکھو،

اس کے بعد آپ نے یہ املا کرایا، یہ وہ بات ہے جس پر محمد رسول اللہ نے مصالحت کی، اس پر سہیل نے کہا : اگر ہم جانتے کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں تو پھر ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے ، اور نہ جنگ کرتے ، لیکن آپﷺ محمد بن عبد اللہ لکھوایئے۔

آپﷺ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں اگر چہ تم لوگ جھٹلاؤ ، پھر حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ محمد بن عبد اللہ لکھیں، اور لفظ ''رسول اللہ '' مٹادیں ، لیکن حضرت علیؓ نے گوارا نہ کیا کہ اس لفظ کو مٹائیں، لہٰذا نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے مٹادیا، اس کے بعد پوری دستاویز لکھی گئی۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علی بن ابی طالب سے یہ صلح نامہ لکھوایا گیا، صلح حدیبیہ تک مسلمان انتہائی طاقتور ہو چکے تھے مگر یہ یاد رہے کہ اس وقت مسلمان جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے، اسی لیے بعض لوگ چاہتے تھے کہ جنگ ضرور ہو، خود مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جن کو معاہدہ کی شرائط پسند نہیں تھیں، مثلاً اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دانشمندی سے صلح کا معاہدہ ہو گیا ،اس کی بنیادی شق یہ تھی کہ دس سال تک جنگ نہیں لڑی جائے گی اور مسلمان اس سال واپس چلے جائیں گے اور عمرہ کے لیے اگلے سال آئیں گے چنانچہ مسلمان واپس مدینہ آئے اور پھر 629ء میں عمرۃ کیا، اس معاہدہ کے بہت سود مند اثرات برآمد ہوئے۔

ذیقعدہ 6 ہجری میں ہونے والے اس واقعہ کو جو تاریخ اسلام میں صلح حدیبیہ کے نام سے موسوم ہے قرآن مجید نے فتح مبین قرار دیا اور حدیبیہ سے واپسی پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ’’بے شک ہم نے (اے محمدؐ) آپ کے لئے تابناک اور کھلی فتح کا فیصلہ فرمایا‘‘ (سورۃ الفتح۔01) ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مستضعفین مکہ(مکہ کے غریب و کمزور مسلمان مردو عورت) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہونچایا اور بہت جلد ان مشکلات سے نجات پانے کی بشارت وخوشخبری دی جن میں وہ مبتلا تھے۔
یہ طرۂ شرف اسلامی سفارتی تاریخ میں سب سے پہلے آپ کو حاصل ہوا ۔(111)

اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)

حوالہ جات :

____________________________________________

(99) وہ جانورجسے حج وعمرہ کرنے والے مکہ یامنیٰ میں ذبح کرتے ہیں، دور جاہلیت میں عرب کا دستور تھا کہ ہَدْی کا جانور اگر بھیڑ بکری ہے تو علامت کے طور پر گلے میں قلادہ ڈال دیا جاتا تھا اور اگر اونٹ ہے توکوہان چیر کر خون پوت دیا جاتا تھا، ایسے جانور سے کوئی شخص تعرض نہ کرتا تھا۔ شریعت نے اس دستور کو برقرار رکھا۔

(100)"احابیش "( یہ حبشی لوگ نہیں ہیں جیسا کہ بظاہر لفظ سے محسوس ہوتا ہے بلکہ بنوکنانہ اور دوسرے عرب قبائل کی چند شاخیں ہیں ، یہ حبشی ح کو پیش ، ب ساکن ش کو زیر پہاڑ کی طرف منسوب ہیں، جو وادی نعمان اراک سے نیچے واقع ہے ، یہاں سے مکہ کا فاصلہ چھ میل ہے، اس پہاڑ کے دامن میں بنوحارث بن عبد مناۃ بن کنانہ ، بنومصطلق بن حیا بن سعد بن عمر اور بنو الہون بن خزیمہ نے اکٹھے ہوکر قریش سے عہد کیا تھا، اور سب نے مل کر اللہ کی قسم کھائی تھی کہ جب تک رات تاریک اور دن روشن ہے ، اور حبشی پہاڑ اپنی جگہ برقرار ہے ہم سب دوسروں کے خلاف ایک ہاتھ ہوں گے۔ ( معجم البلدان 214/02 )

(101) کُراع الغمیم ، مکہ جانے والی مرکزی اور کاروانی شاہراہ پر واقع ہے ۔
(102)(سورۃ الفتح24:48)
(103) زاد المعاد 290/03,
(104) صحیح مسلم،حدیث نمبر:1856)
(105) رواہ البخاری فی کتاب المغازی،باب غزوۃ الحدیبیۃ،حدیث نمبر:4169/
(106) رواہ البخاری فی کتاب المغازی،باب غزوۃ الحدیبیۃ،حدیث نمبر:4169/
(107)رواہ البخاری فی کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،باب مناقب عثمان رضی اللہ عنہ ،حدیث نمبر:3699/ وفی کتاب فرض الخمس ،باب اذا بعث الامام رسولا فی حاجۃ أو أمر بالمقام ھل یسھم لہ،حدیث نمبر:3130/ والترمذی فی کتاب المناقب ،باب فی مناقب عثمان،حدیث نمبر :3607/
(108) صحیح السیرۃ النبویۃ،ص: 404/
(109)سورۃ الفتح،آیت نمبر :18/
(110) العواصم من القواصم،(ص:106-105)
(111) العواصم من القواصم،(ص:105)
 
Top