ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 08)(جاری)

امت محمدیہ کے اندر سب سے حیادار شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ :

شرم و حیا اسلام کا زیور ہے ،اسلام دینِ فطرت ہے جو ہمیشہ انسانیت کی بھلائی اور عظمت و تعظیم کا درس دیتا ہے ،اعلی' اخلاق و کردار کی تکمیل کے لیے حیا کو ایمان کا حصہ بھی قرار دیا گیا ہے ایک وقت تھا جب معاشرے میں انسانیت سوز رویہ روا رکھا جاتا تھا عورت کی عزت کو تار تار کیا جاتا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر عورتوں کی عصمت دری کی جاتی، جانوروں سے بھی بدترین سلوک کیا جاتا تھا ، ﷲ تعالی کو اس سسکتی بلکتی انسانیت پر رحم آیا اور اس انسانیت کی راہنمائی کیلئے انبیاء کے امام حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم جیسی بے مثل ولاریب کتاب سے نوازا ۔

آج ہمارے مسلم معاشرے میں بھی مغربی تہذیب و کلچر کی یلغار نے فحاشی و عریانی کا چلن عام کر دیا ہے۔

علامہ اقبال ؒنے کافی عرصہ قبل متنبہ کیا تھا :

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

انسانیت کی زندگی وبقا شرم و حیا کی دولت میں پنہاں ہے.
اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" ہے اور حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اللہ تعالی نے خود اپنی اس صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"{إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا}"(112)
اللہ تعالی قطعاً اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کسی مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی مثال بیان کرے ۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالی کا یہ نام بتلاتے ہوئے فرمایا:
:" إن الله حيي يستحي من عبده إذا مدَّ يديه إليه أن يردهما صفراً "(113)

بیشک اللہ تعالی"اَلْحَيِيُّ" اور "اَلسِتِّیْرُ" ہے، اور حیا سمیت پردہ پوشی کو بھی پسند فرماتا ہے ،اللہ تعالی کو اٹھے ہوئے ہاتھ خالی لوٹانے سے بھی حیا آتی ہے۔

حیا انسان کے اندر پائی جانے والی وہ خوبی یا صفت ہے جس کی وجہ سے وہ غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں انقباض (گھٹن) محسوس کرتا ہے۔
انبیائے کرام اپنی اقوام میں حیا داری میں مشہور ہوتے ہیں، روزِ قیامت جب لوگ (آدم ،نوح اور موسی علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے تو انہیں اپنی اپنی غلطی یاد آ جائے گی اور شفاعت کرنے سے شرما جائیں گے۔

آدم و حوا علیہما السلام سے غلطی سرزد ہو جانے کے نتیجے میں جب ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں تو وہ اس فطری حیا ہی کی وجہ سے خود کو پتوں سے ڈھانکنے لگے تھے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ. "(114)
''پھر جب انھوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا تو ان کی شرم گاہیں ان کے سامنے بے پردہ ہو گئیں اور وہ اپنے آپ کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔''

شرم گاہوں کو چھپانے کا یہ اضطراری عمل اس فطری حیا ہی کا ظہور تھا، اس لیے کہ انسان فطری طور پر یہ جانتا ہے کہ شرم گاہیں چھپانے کی چیز ہیں۔

موسی علیہ السلام کے واقعے میں مدین والے کی بیٹی جب چلتی ہوئی آئیں تو مکمل طور پر حیا کی پیکر تھی، انہوں نے اپنا چہرہ کپڑے اور ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا ،موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے کنویں پر ان دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تھا، ان میں سے ایک جب انھیں اپنے باپ کے پاس لے جانے کے لیے بلانے آئی تو اس وقت اس کے آنے میں حیا کی جو صفت نمایاں تھی، قرآن نے درج ذیل الفاظ میں اس کا ذکر کیا ہے:

" فَجَآءَ تْهُ اِحْدٰهُمَا تَمْشِيْ عَلَی اسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْکَ لِيَجْزِيَکَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا."(115)
''پس ان میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی، کہا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ جو پانی آپ نے ہماری خاطر پلایا ہے، اس کا آپ کو صلہ دیں۔''

قرآن نے یہاں ایک کنواری عورت کی اس فطری حیا کا ذکر کیا ہے جواسے کسی غیر محرم مرد سے بات کرتے ہوئے محسوس ہو سکتی ہے۔
خواتین کو پیدا ہی حیا پر کیا گیا ہے، در حقیقت حیا ہی عورت کا زیور اور زینت ہے، یہی حیا عورت کیلیے تحفظ اور امن کی ضامن ہے،

اسی طرح ایک کریم النفس آدمی دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے بعض اوقات اس سے اپنا حق وصول کرنے میں بھی حیا محسوس کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَلٰکِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ يُؤْذِی النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْکُمْ وَاللهُ لَا يَسْتَحْيٖ مِنَ الْحَقِّ."(116)
''ہاں جب تمھیں (نبی کے گھر میں) کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو،یہ باتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ تم سے کہتے ہوئے شرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں نہیں شرماتا۔''

یہ شرمانا دراصل دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اس کا لحاظ کرنا ہے، چنانچہ اس حوالے سے بھی ایک کریم النفس آدمی کئی جگہوں پر شرم محسوس کرتا ہے۔

ﷲ تعالی نے قرآن کریم میں مسلمانوں میں برائی اور بے حیائی کے فروغ کی انتہائی سخت الفاظ سے مذمت فرمائی ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔:" إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ "(117)
’’بیشک وہ لوگ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے ۔‘‘

قرآن کریم میں جہاں مرد و عورت کو شرم وحیا کا پیکر بن کر نگاہیں جھکا کررہنے کی تلقین کی گئی وہاں عورت کی عفت کے تحفظ کے لیے غیر محرم مرد وں سے پردے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور امام الأنبیاء صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بے شمار مقامات پر شرم و حیا کی فضیلت واہمیت کو بیان فرمایا ہے جن میں سے بطور نمونہ یہ احادیث مبارکہ ہیں ۔
"اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ اَلْاِيْمَانِ." ''(118)
ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔''
اور اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ : ایمان زبانی اقرار، عقیدے اور عمل کا نام ہے، پھر حیا ایمان کا ایک درجہ ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایمان کے ساٹھ سے زائد درجے ہیں اور حیا بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔
نیز آپ نے فرمایا: "اَلْحَيَاءُ کُلُّهُ خَيْرٌ".(119)
''حیا تو خیر ہی خیر ہے۔''

نبی اکرم ﷺجس معاشرے میں پیدا ہوئے تھے، اس میں دیگر اخلاقی خوبیوں کے معدوم ہوجانے کی طرح شرم وحیا کا وصف بھی تقریباً ختم ہوچکا تھا، بے حیائی کے تمام مظاہر کھلے عام نظر آتے تھے، ایسے ماحول میں جنم پانے کے باوجود آپﷺ اپنے بچپن اور لڑکپن میں بھی کبھی ننگے جسم گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے، آپﷺ نے کبھی مخلوط محفلوں میں بھی شرکت نہیں کی تھی، ایک غیرمحرم مرد اور عورت کا کسی جگہ تنہائی میں اکٹھے ہونا شرم وحیا کے نازک آبگینے کو توڑ دینے کے مترادف ہے۔

اسی لیے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:
"ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان. ”(120)
جب دو غیرمحرم مرد اور عورت آپس میں ملتے ہیں تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔

ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو مگر اس وقت جب اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۔: ((لا يخلُوَنَّ رجلٌ بامرأة إلا ومعها ذو محرم،"(121)

نبی ﷺ نے زندگی بھر قضائے حاجت کے وقت اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا کر رکھا حالانکہ عرب کے اس معاشرے میں اس کا ایسا زیادہ اہتمام نہیں ہوتا تھا، آپﷺ شہروں اور آبادیوں سے دور جنگل اور جھاڑیوں کی طرف نکل جایا کرتے تھے، یہ آداب بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر ان کی بہت بڑی معاشرتی اہمیت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب کوئی آدمی شرم وحیا کے حصار میں رہتا ہے تو ذلت ورسوائی سے اس کا دامن بچا رہتا ہے جب وہ اس صفت سے عاری ہوجائے تو پھر رذالت وخباثت کا ہرکام ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔

آج کل فحاشی وعریانی جدید ثقافت کا اُسی طرح حصہ بن چکی ہے جس طرح جاہلی ثقافت کا حصہ تھی، مخلوط محفلیں روشن خیالی اور جدّت وترقی کی دلیل سمجھی جاتی ہیں حالانکہ یہ قدیم جاہلیت کا بھی طُرّہ امتیاز تھا۔

آج کل فیشن کے نام پر مردوخواتین کے لباس ساترہونے کے بجائے عریانی کے پیامی ہوتے ہیں, حیا، اللہ رب العالمین کی طرف سے بندے کے لیے اس کی حفاظت کا قلعہ ہے ،حیا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندوں سے عذاب ٹالتا رہتا ہے، حیا سے محرومی بہت بڑی مصیبت اور بدنصیبی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو ابتدائی عمرہی میں حیا کے قیمتی زیور سے محروم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے،ذرائع ابلاغ نے لوگوں کا مزاج اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ شرم وحیا پر مبنی لباس ہو یا ادب، کتاب ہو یا خطاب، اس معاشرے میں اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔

آپ ﷺخود بہت حیادار تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں بھی آپﷺ نے اس کی جوت جگائی اور پورا معاشرہ شرم وحیا کی حیات آفرین فضاؤں میں پروان چڑھایا۔

ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ حیا کرتے تھے، آپ ﷺ کی حیا آپ کے چہرے سے عیاں ہو جاتی تھی، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے صحابۂ کرام بتاتے ہیں کہ آپ بہت حیادار تھے:چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
"کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَشَدَّ حَيَآءً مِّنَ الْعَذْرَآءِ فِيْ خِدْرِهَا."(122)
''نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں بیٹھنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔''


جس وقت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی ہوئی تو اسی مناسبت سے لوگوں کو کھانے کی دعوت دی گئی ؛ لوگوں نے کھانا کھایا اور چل دئیے ، لیکن گھر میں تین لوگ باتیں کرتے ہوئے بیٹھے رہے، تو نبی ﷺ انہیں چلے جانے سے متعلق کچھ کہنے سے شرمائے، یہاں تک کہ آپ انہیں تنہا گھر چھوڑ کر باہر چلے گئے اور پھر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرما دیں: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ } اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو؛ الّا یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے اور کھانے کی تیاری کا انتظار نہ کرنے لگو۔ البتہ جب تمہیں (کھانے پر) بلایا جائے تو آؤ اور جب کھا چکو تو چلے جاؤ اور باتوں میں دل لگائے وہیں نہ بیٹھے رہو, تمہاری یہ بات نبی کے لئے تکلیف دہ تھی مگر تم سے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہتے تھے اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا ۔(123)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیاداری کا یہ عالم تھا کہ اپنے حجرے میں عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد ان سے شرم کرتی تھیں، چنانچہ آپ کہتی ہیں:

" عن عائشة رضي الله عنها قالت: (كنت أدخل بيتي، الذي دُفِنَ فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي، فأضع ثوبي، فأقول إنَّما هو زوجي وأبي، فلمَّا دُفِنَ عمر معهم، فو الله ما دخلت إلَّا وأنا مَشْدُودَةٌ عليَّ ثيابي؛ حَيَاءً مِن عمر)"(124)

میں اپنے اس گھر میں داخل ہو جاتی تھی جہاں آپ ﷺ اور میرے والد مدفون ہیں ، میں وہاں لباس بھی اتار لیتی تھی اور یہ کہتی کہ میرے خاوند اور والد ہی مدفون ہیں! لیکن جب عمر ان کے ساتھ دفن ہو گئے تو اللہ کی قسم میں جب بھی داخل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہوئے مکمل لباس کے ساتھ داخل ہوتی ہوں۔"

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات انسان کی فطرت مسخ ہو جاتی ہے یا بعض صورتوں میں وہ بالکل بے حس ہو جاتی ہے چنانچہ پھر وہ کوئی حیا محسوس نہیں کرتا، بہرحال، اصولی بات یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان تمام غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں فطری طور پر حیامحسوس کرتا ہے۔

حیا اشرف المخلوقات کی صفت ہے، اللہ تعالی نے حیا داروں کی مدح سرائی فرمائی ، فرشتے بھی حیا سے متصف ہیں، آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: (کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مشہور ترین اخلاق میں سے تھی،حیا کی صفت کتنی بہترین اور شیریں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مزین فرمایا تھا،یہ آپ کے اندر خیر کا منبع اور شفقت ورحمت کا مصدر تھا۔
آپ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حیا دار شخص تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " أرحَمُ أمَّتي بأمَّتي أبو بَكْرٍ ، وأشدُّهم في دينِ اللَّهِ عُمرُ وأصدقُهُم حياءً عُثمانُ"(125)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ رحم دلی کرنے والے امتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ،اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور میری امت میں سب سے زیادہ حیادار (سچے حیادار) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نہایت شرم و حیا والے تھے ،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے درمیان ضرب المثل تھے، (ایک بار عثمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اپنا لباس سیدھا کر لیا ، تو آپ ﷺ سے لباس سیدھا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: عثمان بہت شرمیلے ہیں، مجھے خدشہ تھا کہ اگر عثمان میرے پاس اسی حالت میں آ جاتے تو وہ اپنا مافی الضمیر بیان نہ کر پاتے ۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے ۔
عن عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي ، كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ ، أَوْ سَاقَيْهِ ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَذِنَ لَهُ ، وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ ، وَهُوَ كَذَلِكَ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَوَّى ثِيَابَهُ ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ ؟!
فَقَالَ: ( أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ) ؟! " (126)

وفي لفظ لہ ( : ( إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي خَشِيتُ ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ) .

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے،آپ کی ران مبارک سے کپڑا ہٹا ہوا تھا،اس دوران سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،جو مرحمت فرمائی گئی وہ حاضر ہوئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح بیٹھے رہے ،پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے،انھوں نے بھی داخل ہونے کی اجازت مانگی جو عطا کی گئی،وہ داخل ہوئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تشریف فرما رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے کپڑا ہٹا رہا ،تھوڑی دیر بعد سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حاضری کی اجازت طلب کی،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑوں کو درست کرلیا،اور ران پر کپڑا ڈال لیا ۔

جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما گھر میں اندر آئے تو آپ اسی طرح تشریف فرما رہے ،مگر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیا اس کی کیا وجہ ہے ؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" : ( أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ) ؟! " يعني عثمان "
کیا میں ایسے شخص سے شرم نہ کھاؤں جس سے فرشتے شرماتے ہیں "۔

اور صحیح مسلم میں دوسرے الفاظ میں اتنا اضافہ ہے کہ حضرت عثمان شرمیلے مزاج کے آدمی ہیں میں ڈرا کہ اگر میں اسی حال میں ران کھولے بیٹھا رہا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی مافی الضمیر ادا نہ کرپاتے۔


در حقیقت حیا ہی خوشحالی اور ترقی کا سبب ہے، حیا ساری کی ساری خیر ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حیا خیر ہی خیر ہے)یا آپ ﷺ نے فرمایا تھا: (ساری کی ساری حیا خیر ہے" "الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ""(127)

باحیا شخص کیلیے حیا کا نتیجہ ہمیشہ خیر ہوتا ہے، حیا کی وجہ سے انسان کو کبھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حیا خیر کا باعث ہی بنتی ہے)
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ""(128)
کہ حیا صرف خیر (نیکی ) ہی لاتی ہے ،اور حیا ایمان کا ایک جزء بھی ہے "والحياء شعبة من الإيمان "(129)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت سے آراستہ و پیراستہ تھے"وما كانَ الحياءُ في شيءٍ إلَّا زانَهُ"(130)
حیا ایسی عادت ہے جو قبیح اور بری چیز کے چھوڑنے پر ابھارتی ہے،(131)


حیا ایک ایسی اخلاقی قدر ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے مطلوب اور اخلاقی فرائض میں شامل ہے، تمام کے تمام انبیائے کرام نے اپنی امتوں کو حیا کی ترغیب دلائی، نیز سابقہ انبیائے کرام کی شریعتوں کی تنسیخ کے دوران حیا کو منسوخ نہیں کیا گیا، نہ ہی اس کا کوئی متبادل لایا گیا؛ کیونکہ حیا سر تا پا اعلی' اور افضل ترین خصلت ہے، عقل اس کی خوبیوں کی معترف ہے؛ چنانچہ جس چیز میں اتنی خوبیاں پائی جاتی ہوں اس کی تنسیخ یا اس میں تبدیلی روا نہیں ہو سکتی ۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے: (لوگوں نے ابتدائی نبوتوں کی تعلیمات میں سے جو چیز [آج تک] پائی وہ یہ ہے کہ: "جب حیا نہ ہو تو جو مرضی کر"
"عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم"إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى' :"إذا لم تستحيى فاصنع ما شئت "(132)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی نبوت کی جو بات لوگوں نے پائی وہ یہ ہے کہ اگر تو بے حیاء ہے تو پھر جو تیرا جی چاہے کرتا رہ ۔

اس حدیث سے حیا کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ یہ گناہوں سے بریک کا کام دیتا ہے۔
حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے۔
حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے۔

حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے۔

حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں, آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے،حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا کی وجہ سے ہمیشہ خیر ہی برآمد ہوتی ہے، حیا کی بدولت انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے، اور تمام اہل سنت کے ہاں حیا ایمان کا حصہ ہے، حیا چھن جائے تو یہ ایمان چھن جانے کی علامت ہوتی ہے، اور جب حیا ہی نہ رہے تو انسان جو چاہے کرتا جائے، اگر انسان گناہ کرے تو اس کے حیا میں کمی آ جاتی ہے، حیا کسی بھی چیز میں پائی جائے تو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، جو شخص اللہ تعالی سے حیا کرے تو اللہ تعالی بھی اس کی لاج رکھ لیتا ہے، حیا کا اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی سے حیا کرے، حیا ایک نور ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں استقامت پر مجبور کرتا ہے، دل میں حیا پختہ کرنے کیلیے اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کو یاد کریں اور اس کے مقابلے میں اپنی کارستانیوں کو مد نظر رکھیں، اور یہ تصور بنائیے کہ اللہ تعالی اسے ہر وقت دیکھ اور سن رہا ہے، انسان کو اپنے ساتھیوں سمیت نگراں فرشتوں سے بھی حیا کرنی چاہیے، بلکہ تنہائی میں اپنے آپ سے بھی حیا کرے، اگر کوئی شخص تنہائی میں اپنے آپ سے حیا نہیں کرتا تو اس کے ضمیر میں لوگوں کی اپنے آپ سے زیادہ اہمیت ہے؛ اسی لیے تو جو گناہ لوگوں کے سامنے نہیں کرتا وہ تنہائی میں کر گزرتا ہے۔


نبی ﷺ کی گفتگو میں موجود حیا سے مراد ایسی اخلاقی قدر ہے جو انسان کو اچھے کاموں پر ابھارے اور برے کاموں سے روکے، لیکن جس حیا سے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کمی آتی ہے تو در حقیقت اس کا حیا سے کوئی تعلق نہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
بے حیا باش ہر چہ خواہی کن "

جب انسان کے اندر سے حیا ختم ہوجائے تو اسے فواحش اور منہیات کے ارتکاب کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

اللہ جسے اس صفت سے متصف کردے تو اللہ کا فضل واحسان ہے کہ اس نے اسے بہت بڑی چیز عطا کردی ۔(133)

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہر روز اپنے گھر میں غسل کرتے تھے،آپ کا غسل بند کمرے ہوتا اس کے باوجود انھوں نے کبھی ننگے غسل نہیں کیا،آپ ہمیشہ چادر باندھ کر غسل کرتے۔(134)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے ان کے بارے میں فرمایا تھا:" و أصدقهم حياء عثمان " میری امت میں سب سے زیادہ حیادار حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔(135)

حیا انسان کو اچھے کاموں پر ابھارتی ہے اور حیا دار انسان کو تقوی کی جانب لے جاتی ہے، لیکن اگر کسی میں حیا باقی نہ رہے تو وہ پھر مخالف سمت میں چل پڑتا ہے،انسان اور گناہوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ یہی حیا بنتی ہے، چنانچہ باحیا شخص اسی طرح گناہوں سے دور رہتا ہے جس طرح ایمان کی بنا پر گناہوں سے دور رہتا ہے، اور اگر انسان سے حیا ہی چھین لی جائے تو قبیح، مذموم اور گری ہوئی حرکتوں سے کوئی چیز مانع نہیں رہتی۔

حیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے اور مذموم صفات سے دور رہتا ہے، اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے ، اپنی کوتاہیوں کو چھپاتا ہے اور اپنا مثبت کردار سامنے لاتا ہے۔
حیا اللہ تعالی کی جانب سے ایک نور ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے ، یہ نور انسان کو اس بات کا تصور دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہے اسی بنا پر انسان خلوت اور جلوت ہر حالت میں اللہ سے حیا کرتا ہے۔

انسان کے دل میں اللہ تعالی سے حیا اس وقت پختہ ہوتی ہے جب انسان اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات پر نظر دوڑائے اور ان کے مقابلے میں اپنے کمی کوتاہی کو سامنے رکھے نیز یہ بھی تصور اجاگر کرے کہ اللہ تعالی ہر خفیہ اور اعلانیہ چیز سے واقف ہے؛ چنانچہ جس وقت انسان یہ بات اچھی طرح جانتا ہو کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے اور اس کی ہر چیز اللہ تعالی کی نظروں اور سماعت کے زیر اثر ہے تو انسان اللہ تعالی سے بہت زیادہ حیا کرے گا اور اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث بننے والے امور سے دور رہے گا۔

انسان کے ساتھ ہر وقت فرشتے ہوتے ہیں ، ان فرشتوں کے احترام میں یہ شامل ہے کہ ان سے حیا کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ} اور بیشک تم پر محافظ مقرر ہیں، [10] وہ معزز کاتب ہیں [11] انہیں معلوم ہے جو تم کرتے ہو۔(136)

لوگوں سے حیا اور شرم انسان کو اچھے کاموں پر ابھارتی ہے، اگر کسی انسان کو اپنے مسلمان بھائی سے صرف اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے شرماتے ہوئے گناہ نہیں کرتا تو یہی اس کیلیے کافی ہے، لوگوں سے حیا اللہ تعالی سے حیا کا ذریعہ ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص لوگوں سے حیا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالی سے بھی حیا نہیں کرتا، نیز اگر کوئی شخص باحیا لوگوں سے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے تو اس کی حیا تروتازہ ہو جاتی ہے۔

سب سے اعلی بات تو یہ ہے کہ انسان خود اپنے آپ سے حیا کرے، چنانچہ اگر کوئی شخص تنہائی میں ایسا کام کرتا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کرتا تو در حقیقت وہ شخص خود اپنا احترام نہیں کر رہا، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں سے تو شرماتا ہے لیکن خود اپنے آپ سے نہیں شرماتا تو اس نے اپنے آپ کو لوگوں سے بھی حقیر اور ذلیل بنایا ہوا ہے، لیکن اگر اپنے آپ اور لوگوں سے شرماتا ہے لیکن اللہ تعالی سے حیا نہیں کرتا تو وہ معرفت الہی سے نابلد ہے،اگر کسی شخص کی پردہ پوشی حیا کے ذمے ہو تو لوگ اس کے عیب نہیں دیکھ پاتے۔

محترم قارئین:

احادیث نبویہ کی روشنی میں قابل ستائش حیا ایسی اخلاقی قدر ہے جو انسان کو اچھے کام کرنے پر ابھارے اور برے کاموں سے روکے، جبکہ ایسی سستی اور کاہلی جس کی وجہ سے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کمی واقع ہو تو اس کا حیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص حیا کے باعث خیر سے محروم ہو تو یہ بھی اچھی چیز نہیں ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ. "بہترین خواتین انصاری خواتین ہیں، وہ دینی مسائل سمجھنے میں حیا کو رکاوٹ نہیں بناتیں"(137)

لہذا دینی مسائل سیکھنے میں حیا اور شرم کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی شخص شرم کھاتے ہوئے حصولِ علم کیلیے آگے نہیں بڑھتا تو وہ ہمیشہ علم سے محروم رہتا ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا اور تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا"(138)

آپﷺ کے صحابہؓ میں بھی اسلام اور سنت رسولﷺ کی برکات سے شرم وحیا کی اعلیٰ صفات پروان چڑھیں، خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفانؓ کایہ اعزاز تمام صحابہؓ میں ممتاز ہے حدیث میں آتا ہے کہ وہ شرم وحیا کا پتلا تھے، ان کے بارے میں سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ زندگی بھر انھوں نے اپنا جسم ننگا نہیں ہونے دیا، غسل کے وقت بھی وہ اپنا ستر کسی کپڑے سے ڈھانپنے کا اہتمام کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)
حوالہ جات :

____________________________________________
(112) [البقرة: 26]
(113) رواه أبو داود (1488)، والترمذي (3556)، وابن ماجه (3865) بلفظ ((ربكم حيي كريم))، والحاكم (1/718). من حديث سلمان الفارسي رضي الله عنه. قال الترمذي: هذا حديث حسن غريب ورواه بعضهم ولم يرفعه. وقال الحاكم: هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه. وقال الألباني في ((صحيح سنن أبي داود)): صحيح.
(114)(الاعراف7: 22)
(115)(القصص28: 25)
(116)(الاحزاب33: 53)
(117)(النور:19)
(118) صحیح البخاری(حدیث نمبر :9)
(119) صحیح مسلم، حدیث نمبر:37)
(120)رواه أحمد 1/ 18، والترمذي في كتاب الفتن، باب ما جاء في لزوم الجماعة 4/ 465 (2165) وهذا لفظه، والنسائي في السنن الكبرى 5/ 387 (9219)، وصححه ابن حبان 10/ 436 (4576)، و15/ 122 (6728)، والضياء في الأحاديث المختارة 1/ 191 - 192 (96)، وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم.
(121)رواه البخاري في كتاب الجهاد والسير، باب من اكتُتِبَ في جيش فخرجت امرأته حاجَّةً وكان له عذر، هل يؤذن له؟ 3/ 1094 (2844)، ومسلم في كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره 2/ 978 (1341)، وهذا لفظه
(122) صحیح بخاری،حدیث نمبر:3562)
(123)[الأحزاب: 53]
(124) [1371] رواه أحمد (6/202) (25701)، والحاكم (3/63) (4402) مِن حديث عروة بن الزُّبير -رحمه الله-. قال الهيثمي في ((مجمع الزوائد)) (8/29): رجاله رجال الصَّحيح. ومثله قال الألباني في ((تخريج المشكاة)) (1712).
(125) أخرجه الترمذى في كتاب المناقب،باب مناقب عثمان رضى الله عنه ،3790/ رقم وابن ماجه،رقم :155/154 واللفظ له، وأحمد (12927)وصححه الالباني رحمه الله
(126) رواہ مسلم فی کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل عثمان،حدیث نمبر:2401/ وفي لفظ لہ (2402) : ( إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي خَشِيتُ ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ) .
فهذا استحياء رسول الله صلى الله عليه وسلم منه رضي الله عنه ،ورواہ الطبراني في "المعجم الأوسط" (8601) عَنْ عَائِشَةَ عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( إِنَّ عُثْمَانَ حَيِيٌّ سَتِيرٌ، تَسْتَحْييِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ) .وصححه الألباني في "صحيح الجامع" (2106)
(127) أخرجه البخاري في "كتاب الأدب" "باب الحياء"، حديث (6117).صحيح مسلم،كتاب الإيمان ،باب بيان عدد شعب الإيمان،حدیث نمبر:61 و /37
(128) التجريد الصحيح لأحاديث الجامع الصحيح،فى كتاب الأدب،باب الحياء،حديث نمبر:2043/
(129) صحيح البخارى ،كتاب الأدب ،باب الحياء،حديث نمبر:6117/
(130)رواه الترمذى فى سننه ،كتاب البر،باب ما جاء فى الفحش ,(1974)و 6120، وابن ماجة في كتاب الزهد،باب الحياء (4185)، وأحمد (12689)
(131)فتح الباري لإبن حجر 522/10
"(132) صحيح البخارى ،كتاب الأدب ،باب الحياء،حديث نمبر:6120/
(133) موسوعۃ الدفاع عن الصحابۃ،936/02/
(134) صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ ذی النورین،ص:43/
(135) رواہ الترمذی فی کتاب المناقب،باب مناقب عثمان رضی اللہ عنہ ،حدیث نمبر:3701/
(136)[الانفطار: 10 - 12]
(137) صحيح البخاري كتاب العلم باب من خص بالعلم قوما دون قوم، كراهية أن لا يفهموا حديث نمبر: 128/
(138)فتح الباري شرح صحيح البخاري » كتاب العلم » باب الحياء في العلم،276/01)
 
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 08)(جاری)

امت محمدیہ کے اندر سب سے حیادار شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ :

شرم و حیا اسلام کا زیور ہے ،اسلام دینِ فطرت ہے جو ہمیشہ انسانیت کی بھلائی اور عظمت و تعظیم کا درس دیتا ہے ،اعلی' اخلاق و کردار کی تکمیل کے لیے حیا کو ایمان کا حصہ بھی قرار دیا گیا ہے ایک وقت تھا جب معاشرے میں انسانیت سوز رویہ روا رکھا جاتا تھا عورت کی عزت کو تار تار کیا جاتا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر عورتوں کی عصمت دری کی جاتی، جانوروں سے بھی بدترین سلوک کیا جاتا تھا ، ﷲ تعالی کو اس سسکتی بلکتی انسانیت پر رحم آیا اور اس انسانیت کی راہنمائی کیلئے انبیاء کے امام حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم جیسی بے مثل ولاریب کتاب سے نوازا ۔

آج ہمارے مسلم معاشرے میں بھی مغربی تہذیب و کلچر کی یلغار نے فحاشی و عریانی کا چلن عام کر دیا ہے۔

علامہ اقبال ؒنے کافی عرصہ قبل متنبہ کیا تھا :

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

انسانیت کی زندگی وبقا شرم و حیا کی دولت میں پنہاں ہے.
اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" ہے اور حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اللہ تعالی نے خود اپنی اس صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"{إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا}"(112)
اللہ تعالی قطعاً اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کسی مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی مثال بیان کرے ۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالی کا یہ نام بتلاتے ہوئے فرمایا:
:" إن الله حيي يستحي من عبده إذا مدَّ يديه إليه أن يردهما صفراً "(113)

بیشک اللہ تعالی"اَلْحَيِيُّ" اور "اَلسِتِّیْرُ" ہے، اور حیا سمیت پردہ پوشی کو بھی پسند فرماتا ہے ،اللہ تعالی کو اٹھے ہوئے ہاتھ خالی لوٹانے سے بھی حیا آتی ہے۔

حیا انسان کے اندر پائی جانے والی وہ خوبی یا صفت ہے جس کی وجہ سے وہ غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں انقباض (گھٹن) محسوس کرتا ہے۔
انبیائے کرام اپنی اقوام میں حیا داری میں مشہور ہوتے ہیں، روزِ قیامت جب لوگ (آدم ،نوح اور موسی علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے تو انہیں اپنی اپنی غلطی یاد آ جائے گی اور شفاعت کرنے سے شرما جائیں گے۔

آدم و حوا علیہما السلام سے غلطی سرزد ہو جانے کے نتیجے میں جب ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں تو وہ اس فطری حیا ہی کی وجہ سے خود کو پتوں سے ڈھانکنے لگے تھے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ. "(114)
''پھر جب انھوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا تو ان کی شرم گاہیں ان کے سامنے بے پردہ ہو گئیں اور وہ اپنے آپ کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔''

شرم گاہوں کو چھپانے کا یہ اضطراری عمل اس فطری حیا ہی کا ظہور تھا، اس لیے کہ انسان فطری طور پر یہ جانتا ہے کہ شرم گاہیں چھپانے کی چیز ہیں۔

موسی علیہ السلام کے واقعے میں مدین والے کی بیٹی جب چلتی ہوئی آئیں تو مکمل طور پر حیا کی پیکر تھی، انہوں نے اپنا چہرہ کپڑے اور ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا ،موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے کنویں پر ان دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تھا، ان میں سے ایک جب انھیں اپنے باپ کے پاس لے جانے کے لیے بلانے آئی تو اس وقت اس کے آنے میں حیا کی جو صفت نمایاں تھی، قرآن نے درج ذیل الفاظ میں اس کا ذکر کیا ہے:

" فَجَآءَ تْهُ اِحْدٰهُمَا تَمْشِيْ عَلَی اسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْکَ لِيَجْزِيَکَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا."(115)
''پس ان میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی، کہا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ جو پانی آپ نے ہماری خاطر پلایا ہے، اس کا آپ کو صلہ دیں۔''

قرآن نے یہاں ایک کنواری عورت کی اس فطری حیا کا ذکر کیا ہے جواسے کسی غیر محرم مرد سے بات کرتے ہوئے محسوس ہو سکتی ہے۔
خواتین کو پیدا ہی حیا پر کیا گیا ہے، در حقیقت حیا ہی عورت کا زیور اور زینت ہے، یہی حیا عورت کیلیے تحفظ اور امن کی ضامن ہے،

اسی طرح ایک کریم النفس آدمی دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے بعض اوقات اس سے اپنا حق وصول کرنے میں بھی حیا محسوس کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَلٰکِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ يُؤْذِی النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْکُمْ وَاللهُ لَا يَسْتَحْيٖ مِنَ الْحَقِّ."(116)
''ہاں جب تمھیں (نبی کے گھر میں) کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو،یہ باتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ تم سے کہتے ہوئے شرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں نہیں شرماتا۔''

یہ شرمانا دراصل دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اس کا لحاظ کرنا ہے، چنانچہ اس حوالے سے بھی ایک کریم النفس آدمی کئی جگہوں پر شرم محسوس کرتا ہے۔

ﷲ تعالی نے قرآن کریم میں مسلمانوں میں برائی اور بے حیائی کے فروغ کی انتہائی سخت الفاظ سے مذمت فرمائی ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔:" إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ "(117)
’’بیشک وہ لوگ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے ۔‘‘

قرآن کریم میں جہاں مرد و عورت کو شرم وحیا کا پیکر بن کر نگاہیں جھکا کررہنے کی تلقین کی گئی وہاں عورت کی عفت کے تحفظ کے لیے غیر محرم مرد وں سے پردے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور امام الأنبیاء صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بے شمار مقامات پر شرم و حیا کی فضیلت واہمیت کو بیان فرمایا ہے جن میں سے بطور نمونہ یہ احادیث مبارکہ ہیں ۔
"اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ اَلْاِيْمَانِ." ''(118)
ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔''
اور اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ : ایمان زبانی اقرار، عقیدے اور عمل کا نام ہے، پھر حیا ایمان کا ایک درجہ ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایمان کے ساٹھ سے زائد درجے ہیں اور حیا بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔
نیز آپ نے فرمایا: "اَلْحَيَاءُ کُلُّهُ خَيْرٌ".(119)
''حیا تو خیر ہی خیر ہے۔''

نبی اکرم ﷺجس معاشرے میں پیدا ہوئے تھے، اس میں دیگر اخلاقی خوبیوں کے معدوم ہوجانے کی طرح شرم وحیا کا وصف بھی تقریباً ختم ہوچکا تھا، بے حیائی کے تمام مظاہر کھلے عام نظر آتے تھے، ایسے ماحول میں جنم پانے کے باوجود آپﷺ اپنے بچپن اور لڑکپن میں بھی کبھی ننگے جسم گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے، آپﷺ نے کبھی مخلوط محفلوں میں بھی شرکت نہیں کی تھی، ایک غیرمحرم مرد اور عورت کا کسی جگہ تنہائی میں اکٹھے ہونا شرم وحیا کے نازک آبگینے کو توڑ دینے کے مترادف ہے۔

اسی لیے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:
"ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان. ”(120)
جب دو غیرمحرم مرد اور عورت آپس میں ملتے ہیں تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔

ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو مگر اس وقت جب اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۔: ((لا يخلُوَنَّ رجلٌ بامرأة إلا ومعها ذو محرم،"(121)

نبی ﷺ نے زندگی بھر قضائے حاجت کے وقت اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا کر رکھا حالانکہ عرب کے اس معاشرے میں اس کا ایسا زیادہ اہتمام نہیں ہوتا تھا، آپﷺ شہروں اور آبادیوں سے دور جنگل اور جھاڑیوں کی طرف نکل جایا کرتے تھے، یہ آداب بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر ان کی بہت بڑی معاشرتی اہمیت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب کوئی آدمی شرم وحیا کے حصار میں رہتا ہے تو ذلت ورسوائی سے اس کا دامن بچا رہتا ہے جب وہ اس صفت سے عاری ہوجائے تو پھر رذالت وخباثت کا ہرکام ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔

آج کل فحاشی وعریانی جدید ثقافت کا اُسی طرح حصہ بن چکی ہے جس طرح جاہلی ثقافت کا حصہ تھی، مخلوط محفلیں روشن خیالی اور جدّت وترقی کی دلیل سمجھی جاتی ہیں حالانکہ یہ قدیم جاہلیت کا بھی طُرّہ امتیاز تھا۔

آج کل فیشن کے نام پر مردوخواتین کے لباس ساترہونے کے بجائے عریانی کے پیامی ہوتے ہیں, حیا، اللہ رب العالمین کی طرف سے بندے کے لیے اس کی حفاظت کا قلعہ ہے ،حیا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندوں سے عذاب ٹالتا رہتا ہے، حیا سے محرومی بہت بڑی مصیبت اور بدنصیبی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو ابتدائی عمرہی میں حیا کے قیمتی زیور سے محروم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے،ذرائع ابلاغ نے لوگوں کا مزاج اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ شرم وحیا پر مبنی لباس ہو یا ادب، کتاب ہو یا خطاب، اس معاشرے میں اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔

آپ ﷺخود بہت حیادار تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں بھی آپﷺ نے اس کی جوت جگائی اور پورا معاشرہ شرم وحیا کی حیات آفرین فضاؤں میں پروان چڑھایا۔

ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ حیا کرتے تھے، آپ ﷺ کی حیا آپ کے چہرے سے عیاں ہو جاتی تھی، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے صحابۂ کرام بتاتے ہیں کہ آپ بہت حیادار تھے:چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
"کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَشَدَّ حَيَآءً مِّنَ الْعَذْرَآءِ فِيْ خِدْرِهَا."(122)
''نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں بیٹھنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔''


جس وقت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی ہوئی تو اسی مناسبت سے لوگوں کو کھانے کی دعوت دی گئی ؛ لوگوں نے کھانا کھایا اور چل دئیے ، لیکن گھر میں تین لوگ باتیں کرتے ہوئے بیٹھے رہے، تو نبی ﷺ انہیں چلے جانے سے متعلق کچھ کہنے سے شرمائے، یہاں تک کہ آپ انہیں تنہا گھر چھوڑ کر باہر چلے گئے اور پھر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرما دیں: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ } اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو؛ الّا یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے اور کھانے کی تیاری کا انتظار نہ کرنے لگو۔ البتہ جب تمہیں (کھانے پر) بلایا جائے تو آؤ اور جب کھا چکو تو چلے جاؤ اور باتوں میں دل لگائے وہیں نہ بیٹھے رہو, تمہاری یہ بات نبی کے لئے تکلیف دہ تھی مگر تم سے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہتے تھے اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا ۔(123)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیاداری کا یہ عالم تھا کہ اپنے حجرے میں عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد ان سے شرم کرتی تھیں، چنانچہ آپ کہتی ہیں:

" عن عائشة رضي الله عنها قالت: (كنت أدخل بيتي، الذي دُفِنَ فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي، فأضع ثوبي، فأقول إنَّما هو زوجي وأبي، فلمَّا دُفِنَ عمر معهم، فو الله ما دخلت إلَّا وأنا مَشْدُودَةٌ عليَّ ثيابي؛ حَيَاءً مِن عمر)"(124)

میں اپنے اس گھر میں داخل ہو جاتی تھی جہاں آپ ﷺ اور میرے والد مدفون ہیں ، میں وہاں لباس بھی اتار لیتی تھی اور یہ کہتی کہ میرے خاوند اور والد ہی مدفون ہیں! لیکن جب عمر ان کے ساتھ دفن ہو گئے تو اللہ کی قسم میں جب بھی داخل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہوئے مکمل لباس کے ساتھ داخل ہوتی ہوں۔"

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات انسان کی فطرت مسخ ہو جاتی ہے یا بعض صورتوں میں وہ بالکل بے حس ہو جاتی ہے چنانچہ پھر وہ کوئی حیا محسوس نہیں کرتا، بہرحال، اصولی بات یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان تمام غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں فطری طور پر حیامحسوس کرتا ہے۔

حیا اشرف المخلوقات کی صفت ہے، اللہ تعالی نے حیا داروں کی مدح سرائی فرمائی ، فرشتے بھی حیا سے متصف ہیں، آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: (کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مشہور ترین اخلاق میں سے تھی،حیا کی صفت کتنی بہترین اور شیریں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مزین فرمایا تھا،یہ آپ کے اندر خیر کا منبع اور شفقت ورحمت کا مصدر تھا۔
آپ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حیا دار شخص تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " أرحَمُ أمَّتي بأمَّتي أبو بَكْرٍ ، وأشدُّهم في دينِ اللَّهِ عُمرُ وأصدقُهُم حياءً عُثمانُ"(125)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ رحم دلی کرنے والے امتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ،اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور میری امت میں سب سے زیادہ حیادار (سچے حیادار) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نہایت شرم و حیا والے تھے ،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے درمیان ضرب المثل تھے، (ایک بار عثمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اپنا لباس سیدھا کر لیا ، تو آپ ﷺ سے لباس سیدھا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: عثمان بہت شرمیلے ہیں، مجھے خدشہ تھا کہ اگر عثمان میرے پاس اسی حالت میں آ جاتے تو وہ اپنا مافی الضمیر بیان نہ کر پاتے ۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے ۔
عن عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي ، كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ ، أَوْ سَاقَيْهِ ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَذِنَ لَهُ ، وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ ، وَهُوَ كَذَلِكَ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَوَّى ثِيَابَهُ ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ ؟!
فَقَالَ: ( أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ) ؟! " (126)

وفي لفظ لہ ( : ( إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي خَشِيتُ ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ) .

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے،آپ کی ران مبارک سے کپڑا ہٹا ہوا تھا،اس دوران سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،جو مرحمت فرمائی گئی وہ حاضر ہوئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح بیٹھے رہے ،پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے،انھوں نے بھی داخل ہونے کی اجازت مانگی جو عطا کی گئی،وہ داخل ہوئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تشریف فرما رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے کپڑا ہٹا رہا ،تھوڑی دیر بعد سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حاضری کی اجازت طلب کی،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑوں کو درست کرلیا،اور ران پر کپڑا ڈال لیا ۔

جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما گھر میں اندر آئے تو آپ اسی طرح تشریف فرما رہے ،مگر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیا اس کی کیا وجہ ہے ؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" : ( أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ) ؟! " يعني عثمان "
کیا میں ایسے شخص سے شرم نہ کھاؤں جس سے فرشتے شرماتے ہیں "۔

اور صحیح مسلم میں دوسرے الفاظ میں اتنا اضافہ ہے کہ حضرت عثمان شرمیلے مزاج کے آدمی ہیں میں ڈرا کہ اگر میں اسی حال میں ران کھولے بیٹھا رہا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی مافی الضمیر ادا نہ کرپاتے۔


در حقیقت حیا ہی خوشحالی اور ترقی کا سبب ہے، حیا ساری کی ساری خیر ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حیا خیر ہی خیر ہے)یا آپ ﷺ نے فرمایا تھا: (ساری کی ساری حیا خیر ہے" "الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ""(127)

باحیا شخص کیلیے حیا کا نتیجہ ہمیشہ خیر ہوتا ہے، حیا کی وجہ سے انسان کو کبھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حیا خیر کا باعث ہی بنتی ہے)
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ""(128)
کہ حیا صرف خیر (نیکی ) ہی لاتی ہے ،اور حیا ایمان کا ایک جزء بھی ہے "والحياء شعبة من الإيمان "(129)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت سے آراستہ و پیراستہ تھے"وما كانَ الحياءُ في شيءٍ إلَّا زانَهُ"(130)
حیا ایسی عادت ہے جو قبیح اور بری چیز کے چھوڑنے پر ابھارتی ہے،(131)


حیا ایک ایسی اخلاقی قدر ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے مطلوب اور اخلاقی فرائض میں شامل ہے، تمام کے تمام انبیائے کرام نے اپنی امتوں کو حیا کی ترغیب دلائی، نیز سابقہ انبیائے کرام کی شریعتوں کی تنسیخ کے دوران حیا کو منسوخ نہیں کیا گیا، نہ ہی اس کا کوئی متبادل لایا گیا؛ کیونکہ حیا سر تا پا اعلی' اور افضل ترین خصلت ہے، عقل اس کی خوبیوں کی معترف ہے؛ چنانچہ جس چیز میں اتنی خوبیاں پائی جاتی ہوں اس کی تنسیخ یا اس میں تبدیلی روا نہیں ہو سکتی ۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے: (لوگوں نے ابتدائی نبوتوں کی تعلیمات میں سے جو چیز [آج تک] پائی وہ یہ ہے کہ: "جب حیا نہ ہو تو جو مرضی کر"
"عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم"إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى' :"إذا لم تستحيى فاصنع ما شئت "(132)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی نبوت کی جو بات لوگوں نے پائی وہ یہ ہے کہ اگر تو بے حیاء ہے تو پھر جو تیرا جی چاہے کرتا رہ ۔

اس حدیث سے حیا کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ یہ گناہوں سے بریک کا کام دیتا ہے۔
حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے۔
حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے۔

حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے۔

حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں, آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے،حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا کی وجہ سے ہمیشہ خیر ہی برآمد ہوتی ہے، حیا کی بدولت انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے، اور تمام اہل سنت کے ہاں حیا ایمان کا حصہ ہے، حیا چھن جائے تو یہ ایمان چھن جانے کی علامت ہوتی ہے، اور جب حیا ہی نہ رہے تو انسان جو چاہے کرتا جائے، اگر انسان گناہ کرے تو اس کے حیا میں کمی آ جاتی ہے، حیا کسی بھی چیز میں پائی جائے تو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، جو شخص اللہ تعالی سے حیا کرے تو اللہ تعالی بھی اس کی لاج رکھ لیتا ہے، حیا کا اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی سے حیا کرے، حیا ایک نور ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں استقامت پر مجبور کرتا ہے، دل میں حیا پختہ کرنے کیلیے اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کو یاد کریں اور اس کے مقابلے میں اپنی کارستانیوں کو مد نظر رکھیں، اور یہ تصور بنائیے کہ اللہ تعالی اسے ہر وقت دیکھ اور سن رہا ہے، انسان کو اپنے ساتھیوں سمیت نگراں فرشتوں سے بھی حیا کرنی چاہیے، بلکہ تنہائی میں اپنے آپ سے بھی حیا کرے، اگر کوئی شخص تنہائی میں اپنے آپ سے حیا نہیں کرتا تو اس کے ضمیر میں لوگوں کی اپنے آپ سے زیادہ اہمیت ہے؛ اسی لیے تو جو گناہ لوگوں کے سامنے نہیں کرتا وہ تنہائی میں کر گزرتا ہے۔


نبی ﷺ کی گفتگو میں موجود حیا سے مراد ایسی اخلاقی قدر ہے جو انسان کو اچھے کاموں پر ابھارے اور برے کاموں سے روکے، لیکن جس حیا سے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کمی آتی ہے تو در حقیقت اس کا حیا سے کوئی تعلق نہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
بے حیا باش ہر چہ خواہی کن "

جب انسان کے اندر سے حیا ختم ہوجائے تو اسے فواحش اور منہیات کے ارتکاب کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

اللہ جسے اس صفت سے متصف کردے تو اللہ کا فضل واحسان ہے کہ اس نے اسے بہت بڑی چیز عطا کردی ۔(133)

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہر روز اپنے گھر میں غسل کرتے تھے،آپ کا غسل بند کمرے ہوتا اس کے باوجود انھوں نے کبھی ننگے غسل نہیں کیا،آپ ہمیشہ چادر باندھ کر غسل کرتے۔(134)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے ان کے بارے میں فرمایا تھا:" و أصدقهم حياء عثمان " میری امت میں سب سے زیادہ حیادار حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔(135)

حیا انسان کو اچھے کاموں پر ابھارتی ہے اور حیا دار انسان کو تقوی کی جانب لے جاتی ہے، لیکن اگر کسی میں حیا باقی نہ رہے تو وہ پھر مخالف سمت میں چل پڑتا ہے،انسان اور گناہوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ یہی حیا بنتی ہے، چنانچہ باحیا شخص اسی طرح گناہوں سے دور رہتا ہے جس طرح ایمان کی بنا پر گناہوں سے دور رہتا ہے، اور اگر انسان سے حیا ہی چھین لی جائے تو قبیح، مذموم اور گری ہوئی حرکتوں سے کوئی چیز مانع نہیں رہتی۔

حیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے اور مذموم صفات سے دور رہتا ہے، اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے ، اپنی کوتاہیوں کو چھپاتا ہے اور اپنا مثبت کردار سامنے لاتا ہے۔
حیا اللہ تعالی کی جانب سے ایک نور ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے ، یہ نور انسان کو اس بات کا تصور دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہے اسی بنا پر انسان خلوت اور جلوت ہر حالت میں اللہ سے حیا کرتا ہے۔

انسان کے دل میں اللہ تعالی سے حیا اس وقت پختہ ہوتی ہے جب انسان اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات پر نظر دوڑائے اور ان کے مقابلے میں اپنے کمی کوتاہی کو سامنے رکھے نیز یہ بھی تصور اجاگر کرے کہ اللہ تعالی ہر خفیہ اور اعلانیہ چیز سے واقف ہے؛ چنانچہ جس وقت انسان یہ بات اچھی طرح جانتا ہو کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے اور اس کی ہر چیز اللہ تعالی کی نظروں اور سماعت کے زیر اثر ہے تو انسان اللہ تعالی سے بہت زیادہ حیا کرے گا اور اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث بننے والے امور سے دور رہے گا۔

انسان کے ساتھ ہر وقت فرشتے ہوتے ہیں ، ان فرشتوں کے احترام میں یہ شامل ہے کہ ان سے حیا کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ} اور بیشک تم پر محافظ مقرر ہیں، [10] وہ معزز کاتب ہیں [11] انہیں معلوم ہے جو تم کرتے ہو۔(136)

لوگوں سے حیا اور شرم انسان کو اچھے کاموں پر ابھارتی ہے، اگر کسی انسان کو اپنے مسلمان بھائی سے صرف اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے شرماتے ہوئے گناہ نہیں کرتا تو یہی اس کیلیے کافی ہے، لوگوں سے حیا اللہ تعالی سے حیا کا ذریعہ ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص لوگوں سے حیا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالی سے بھی حیا نہیں کرتا، نیز اگر کوئی شخص باحیا لوگوں سے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے تو اس کی حیا تروتازہ ہو جاتی ہے۔

سب سے اعلی بات تو یہ ہے کہ انسان خود اپنے آپ سے حیا کرے، چنانچہ اگر کوئی شخص تنہائی میں ایسا کام کرتا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کرتا تو در حقیقت وہ شخص خود اپنا احترام نہیں کر رہا، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں سے تو شرماتا ہے لیکن خود اپنے آپ سے نہیں شرماتا تو اس نے اپنے آپ کو لوگوں سے بھی حقیر اور ذلیل بنایا ہوا ہے، لیکن اگر اپنے آپ اور لوگوں سے شرماتا ہے لیکن اللہ تعالی سے حیا نہیں کرتا تو وہ معرفت الہی سے نابلد ہے،اگر کسی شخص کی پردہ پوشی حیا کے ذمے ہو تو لوگ اس کے عیب نہیں دیکھ پاتے۔

محترم قارئین:

احادیث نبویہ کی روشنی میں قابل ستائش حیا ایسی اخلاقی قدر ہے جو انسان کو اچھے کام کرنے پر ابھارے اور برے کاموں سے روکے، جبکہ ایسی سستی اور کاہلی جس کی وجہ سے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کمی واقع ہو تو اس کا حیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص حیا کے باعث خیر سے محروم ہو تو یہ بھی اچھی چیز نہیں ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ. "بہترین خواتین انصاری خواتین ہیں، وہ دینی مسائل سمجھنے میں حیا کو رکاوٹ نہیں بناتیں"(137)

لہذا دینی مسائل سیکھنے میں حیا اور شرم کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی شخص شرم کھاتے ہوئے حصولِ علم کیلیے آگے نہیں بڑھتا تو وہ ہمیشہ علم سے محروم رہتا ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا اور تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا"(138)

آپﷺ کے صحابہؓ میں بھی اسلام اور سنت رسولﷺ کی برکات سے شرم وحیا کی اعلیٰ صفات پروان چڑھیں، خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفانؓ کایہ اعزاز تمام صحابہؓ میں ممتاز ہے حدیث میں آتا ہے کہ وہ شرم وحیا کا پتلا تھے، ان کے بارے میں سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ زندگی بھر انھوں نے اپنا جسم ننگا نہیں ہونے دیا، غسل کے وقت بھی وہ اپنا ستر کسی کپڑے سے ڈھانپنے کا اہتمام کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)
حوالہ جات :

____________________________________________
(112) [البقرة: 26]
(113) رواه أبو داود (1488)، والترمذي (3556)، وابن ماجه (3865) بلفظ ((ربكم حيي كريم))، والحاكم (1/718). من حديث سلمان الفارسي رضي الله عنه. قال الترمذي: هذا حديث حسن غريب ورواه بعضهم ولم يرفعه. وقال الحاكم: هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه. وقال الألباني في ((صحيح سنن أبي داود)): صحيح.
(114)(الاعراف7: 22)
(115)(القصص28: 25)
(116)(الاحزاب33: 53)
(117)(النور:19)
(118) صحیح البخاری(حدیث نمبر :9)
(119) صحیح مسلم، حدیث نمبر:37)
(120)رواه أحمد 1/ 18، والترمذي في كتاب الفتن، باب ما جاء في لزوم الجماعة 4/ 465 (2165) وهذا لفظه، والنسائي في السنن الكبرى 5/ 387 (9219)، وصححه ابن حبان 10/ 436 (4576)، و15/ 122 (6728)، والضياء في الأحاديث المختارة 1/ 191 - 192 (96)، وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم.
(121)رواه البخاري في كتاب الجهاد والسير، باب من اكتُتِبَ في جيش فخرجت امرأته حاجَّةً وكان له عذر، هل يؤذن له؟ 3/ 1094 (2844)، ومسلم في كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره 2/ 978 (1341)، وهذا لفظه
(122) صحیح بخاری،حدیث نمبر:3562)
(123)[الأحزاب: 53]
(124) [1371] رواه أحمد (6/202) (25701)، والحاكم (3/63) (4402) مِن حديث عروة بن الزُّبير -رحمه الله-. قال الهيثمي في ((مجمع الزوائد)) (8/29): رجاله رجال الصَّحيح. ومثله قال الألباني في ((تخريج المشكاة)) (1712).
(125) أخرجه الترمذى في كتاب المناقب،باب مناقب عثمان رضى الله عنه ،3790/ رقم وابن ماجه،رقم :155/154 واللفظ له، وأحمد (12927)وصححه الالباني رحمه الله
(126) رواہ مسلم فی کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل عثمان،حدیث نمبر:2401/ وفي لفظ لہ (2402) : ( إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي خَشِيتُ ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ) .
فهذا استحياء رسول الله صلى الله عليه وسلم منه رضي الله عنه ،ورواہ الطبراني في "المعجم الأوسط" (8601) عَنْ عَائِشَةَ عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( إِنَّ عُثْمَانَ حَيِيٌّ سَتِيرٌ، تَسْتَحْييِ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ) .وصححه الألباني في "صحيح الجامع" (2106)
(127) أخرجه البخاري في "كتاب الأدب" "باب الحياء"، حديث (6117).صحيح مسلم،كتاب الإيمان ،باب بيان عدد شعب الإيمان،حدیث نمبر:61 و /37
(128) التجريد الصحيح لأحاديث الجامع الصحيح،فى كتاب الأدب،باب الحياء،حديث نمبر:2043/
(129) صحيح البخارى ،كتاب الأدب ،باب الحياء،حديث نمبر:6117/
(130)رواه الترمذى فى سننه ،كتاب البر،باب ما جاء فى الفحش ,(1974)و 6120، وابن ماجة في كتاب الزهد،باب الحياء (4185)، وأحمد (12689)
(131)فتح الباري لإبن حجر 522/10
"(132) صحيح البخارى ،كتاب الأدب ،باب الحياء،حديث نمبر:6120/
(133) موسوعۃ الدفاع عن الصحابۃ،936/02/
(134) صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ ذی النورین،ص:43/
(135) رواہ الترمذی فی کتاب المناقب،باب مناقب عثمان رضی اللہ عنہ ،حدیث نمبر:3701/
(136)[الانفطار: 10 - 12]
(137) صحيح البخاري كتاب العلم باب من خص بالعلم قوما دون قوم، كراهية أن لا يفهموا حديث نمبر: 128/
(138)فتح الباري شرح صحيح البخاري » كتاب العلم » باب الحياء في العلم،276/01)
 
 
گھروں میں خفیہ کیمرے لگانے والے طاغوت کے بے غیرت ایجنٹ (ملازم)

اور

اس نئے بے حیا طاغوتی نظام کو نہ ماننے والے اللہ کے بندے (منکر)

کے درمیان ایک دلچسپ مکالمہ :-

ملازم :-

آپ ہم سے اپنے گھر میں خفیہ کیمرے لگوائیں :-

فوائد :-
۱ - جب چاہیں اپنی بیوی کی گھر کی ریکارڈنگ نکال کر دیکھ سکتے ہیں !

۲-جب چاہیں اپنے بچوں کی باتھ روم کی ریکارڈنگ دیکھ سکتے ہیں !

منکر :-

آپ مجھے قائل کرنے سے پہلے اپنی ماں،بہن،بیوی، بیٹی اور بہو کی گھر کی مکمل ریکارڈنگ اپنے تمام دوست احباب کے ساتھ مون لائٹ سینما میں دکھا دیں !

ملازم (روتے ہوئے) :-

جناب میری تو پہلے ہی جی ایچ کیو میں روزانہ دیکھی جاتی ہے !

میرا اگلا آرڈر آپ کو اس دلدل میں پھنسانے کا دیا گیا ہے نہیں تو مجھے “بے عزت” کر کے “ملازمت سے برخواست” کر دیا جائے گا !

منکر :-

آپ میں “غیرت” نام کی کوئ چیز بھی پائ جاتی ہے ؟

ملازم :-

جناب وہ تو ہمارے کورس سے حذف ہو چکی ہے !
ہمیں صرف ان چیزوں کے نام یاد رہ گئے ہیں :-
روٹی ، کپڑا ، مکان،نوکری،چھوکری،شراب،عیاشی،
جمعے کی نماز بادشاہی مسجد،
سارے مکان ہیرا منڈی

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط خیالات سے ا لگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

2 | 257

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے

4 | 51

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا

کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں

4 | 60

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا

اے نبیؐ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے

4 | 76

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا

جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، و ہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں

5 | 60

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ

پھر کہو "کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سَوَا٫ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں"

16 | 36

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ

ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ "اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو" اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے

39 | 17

وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فَبَشِّرْ عِبَادِ

بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو


مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُورُ

جو کوئی عزت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں، اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے

36 | 27
 
مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے

27 | 34

يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ

یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں

70 | 35
 
Top