ذیشان خان

Administrator
سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 09)(جاری)

امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی مصحف پر اکھٹا کرنے میں آپ کا اہم کارنامہ :

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں امت مسلمہ کو ایک ایسا حسین تحفہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک سب کے کام آتا رہے گا اور وہ کارنامہ ہے امت مسلمہ کو ایک ہی مصحف اور قرأت پر لوگوں کو اکٹھا کرنا ۔

قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے اٹھائی ہے یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس میں کوئی تحریف وتصحیف سامنے نہیں آئی، اور اگر کسی نے یہ مذموم کوشش کی بھی تو اللہ تعالی نے اسے ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا،قرآن مجید عہد نبویﷺ سے ہی زبانی حفظ کے ساتھ ساتھ کتابی شکل میں بھی لکھا جاتا رہا ہے،آپ ﷺ نے متعدد صحابہ کرام کو کاتب وحی کے طور پر مقرر کر رکھا تھا، کلمات قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اور رسم کے خلاف اس معروف کتاب کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔

تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے،لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف وقیاسی عربی رسم میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے ۔

پہلا مرحلہ: قرآن کریم کی جمع و تدوین عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں

قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب ِ ہدایت میں انسان کو پیش آنے والے تمام مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشاد گرامی ہے کہ "﴿ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ﴾(139)

" قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے، مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اورسمجھا نہ جائے، اسے پڑھنے اور سمجھنے کا شعور اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک اس کی اہمیت کا احساس نہ ہو، اور قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے، یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس کی میں کوئی تحریف و تصحیف سامنے نہیں آئی، اور اگر کسی نے یہ مذموم کوشش کی بھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا، قرآن مجید عہد نبویﷺ سے ہی زبانی حفظ کے ساتھ ساتھ کتابی شکل میں بھی لکھا جاتا رہا ہے، آپ ﷺ نے متعدد صحابہ کرام کو کاتبین وحی کے طور پر مقرر کر رکھا تھا، خلیفہ ثالث سید نا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں قرآن مجید کو مکمل کتابی صورت میں جمع کیا اور اس کے نسخے مختلف علاقوں کی طرف بھی روانہ کیے۔

جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا، خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔
اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک مسلمان کے لئے جاننا بہت اہم ہے،تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟

قرآن کریم کے جمع وتدوین کا مقصد:

مقصد جمع قرآن:

جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے، یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔

جمع قرآن کی دلیل:

آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے، اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا ابن عباس رض اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔

تو اللہ تعالی نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا :
{" لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ، إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ، فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَٱتَّبِعْ قُرْآنَهُ ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ " (140)

آپ قرآن پاک کو حاصل کرنے میں جلدی مت کیا کیجئے یقیناً اس قرآن کو جمع کرنا اور اسے پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔

جمع کرنے سے مراد یہاں اس دور کی اور مستقبل کی قرآنی جمع ہے،جو سینوں میں بھی ہوا اور سفینوں میں بھی،قرآن سے مراد آپ ﷺ سے اسے ویسے ہی ترتیل سے پڑھوانا جس طرح آپ پر تازہ بتازہ اترتا تھا اور مستقبل میں مختلف قراء کی آوازوں سے بھی چنانچہ جبریل امین آپ ﷺ کے پاس جب آتے تو آپ غور سے سنا کرتے پھر جب وہ چلے جاتے تو آپ اسے ویسا ہی پڑھ لیتے جیسا انہوں نے اسے پڑھا ہوتا۔

آپﷺ نے صحابہ کو صرف قرآن کے معنی وعمل ہی نہیں سکھائے بلکہ اسے حفظ بھی کراتے، جب بھی کوئی شخص ہجرت کر کے مدینہ آتا آپﷺ اسے انصار و مہاجرین کے سپرد کر دیتے کہ اسے قرآن سکھائیں ، اس طرح مسجد نبویؐ میں قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کی اتنی تعداد رہتی کہ ان کی آوازوں کا شور ہوتا اور نبی اکرم ﷺ کو تاکید کرنا پڑتی کہ اپنی آواز کو پست رکھا کرو تاکہ مغالطہ پیش نہ آئے۔(141)

نیزصحابہ کی بڑی تعداد اطراف مدینہ میں جا کر قریہ قریہ اور بستی بستی قرآن سکھاتی رہی اس طرح ان نوجوانوں کی قوت حافظہ بہت کام آئی اور سینکڑوں حفاظ تیار ہو گئے ۔
جن میں خلفاء اربعہ، عبد اللہ بن مسعودؓ، حذیفہؓ، سالم ؓمولی ابی حذیفہ، ابی ؓبن کعب، معاذ ؓ بن جبل، زیدؓ بن ثابت ، ابو الدرداءؓ ، طلحہؓ، سعدؓ، ابو ہریرہؓ، عبد اللہ بن عمر وابن عباسؓ، عبادہ بن صامتؓ، عبداللہ وعمرو بن العاصؓ، انس بن مالکؓ، امیرمعاویہؓ، فضالۃ بن عبید، مسلمۃ بن مخلد، ابو زید بن السکن اور عبد اللہ بن السائب جبکہ خواتین میں عائشہؓ، حفصہؓ، ام سلمہؓ، اور ام درقہ ؓ ، شامل ہیں۔

ان کی تعداد کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ غزوہ بئرمعونہ کے موقع پر جن ستر صحابہ کو شہید کیا گیاوہ قراء کہلاتے تھے اور حفاظ قرآن تھے۔(142)

کتابت:

حفاظت قرآن کا اصل دارومدار تو حفظ تھا مگر نبی اکرم ﷺ نے قرآن کی کتابت کا بھی اہتمام کرڈالا، یہ بھی قرآن مجید کا جمع کرنا ہے، نزول کے بعد آپ ﷺ کاتبان وحی کو جبریل امین کی ہدایت کے مطابق فرماتے کہ یہ آیات نازل ہوئی ہیں جنہیں فلاں سورہ کی فلاں آیت کے سرے پر رکھو اور لکھو۔

اس طرح قرآن کریم کے ایک ایک حرف، آیت، سورۃ کو کتابت کے ذریعے آپ ﷺ نے صحیفوں اور سطور میں ترتیب دے کرمحفوظ کردیا۔

امام حاکم رحمہ اللہ مستدرک میں بیان فرماتے ہیں:
"جُمِعَ الْقُرْآنُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، أَحَدُہَا بِحَضْرَۃِ النَّبِیِّ، وَالثَّاِنیَۃُ: بِحَضْرَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَالْجَمْعُ الثَّالِثُ فِی زَمَنِ عُثْمَانَ۔"
قرآن کریم تین بار جمع کیا گیا، پہلی بار آپ ﷺ کی موجودگی میں، دوسری بار سیدنا ابوبکر صدیق ؓکی موجودگی میں اور تیسری بار سیدنا عثمان ؓکے عہد میں۔
یوں قرآن کریم مرتب صورت میں کتابی شکل میں بھی محفوظ ہوگیا،اس کتابت کے بارے میں سیدنا زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں:

قرآن کی جو آیات نازل ہوتیں آپ ﷺ مجھے لکھوا دیتے، اس کے بعد میں آپ ﷺکو سناتا، اگر اصلاح کی ضرورت ہوتی تو آپﷺ اصلاح فرما دیتے ،پھر اس کے بعد اس لکھے ہوئے کو میں لوگوں کے سامنے لاتا، جو کچھ بھی لکھا جاتا وہ آپﷺ کے گھر میں رکھ دیا جاتا تھا، اس دور میں قرآن کاغذوں پر لکھا جاتا نہ ہی باقاعدہ مصحف کی صورت میں تھا بلکہ متفرق طور پر پتھر کی تختیوں ، چمڑے کے ٹکڑوں ، درخت کی چھا لوں اور چوڑی ہڈیوں وغیرہ پر لکھا جاتا تھا۔(143)

اسی لئے تو سیدنا زید ؓ کا یہ کہنا ہے۔

" قبض النبی ﷺ ولم یکن القرآن جمع فی شـئ۔"
آپ ﷺ کا انتقال ہوا اور قرآن کریم کسی بھی شے میں جمع نہ تھا۔(144)

کتابت وحی کا کام دیگر صحابہ بھی کرتے، کاتبین وحی میں حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان، علی، عبد اللہ بن ابی سرح، زبیر بن عوام، خالد بن سعید بن العاص، ابان بن سعید بن العاص، خالد بن الولید، معاویہ، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن العاص، عامر بن فہیرہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں۔(145)

عہد رسالت ﷺ میں ایک نسخہ تو وہ تھا جونبی اکرم ﷺ کے پاس تھا اس کے علاوہ صحابہ نے خود اپنے نسخے بھی تیار کر رکھے تھے۔جن صحابہؓ کے پاس اپنے لکھے ہوئے مصاحف تھے ان میں حضرات عبد اللہ بن مسعود، علی، عائشہ، ابی بن کعب، عثمان بن عفان، تمیم الداری، ابوالدرداء، ابو ایوب انصاری، عبد اللہ بن عمر، عبادہ بن صامت، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھم شامل ہیں، آپ ﷺنے انہی صحابہ سے فرمایا: سیدنا ابن عمر ؓ سے مروی ہے ’’رسول اللہﷺ نے قرآن کریم کو دشمن کی زمین میں لے جانے سے منع فرمایا۔‘‘(146)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مختلف صحیفوں،تختیوں،کھجور کی ٹہنیوں،تنوں اور بانس و دیگر اشیاء پر تحریر کیا گیا تھا۔(147)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ " لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ.........(148)

نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا : ‏"‏ ادْعُ لِي زَيْدًا وَلْيَجِئْ بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ وَالْكَتِفِ ـ أَوِ الْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ " ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اكْتُبْ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ ‏"‏ "(149)

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلاؤ تختی اور دوات و شانہ یا شانہ اور دوات لے کر آجائیں اور کہا لکھو "لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ"الی آخرہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت مکمل قرآن تحریری شکل میں موجود تھا لیکن سب ایک جلد کے اندر جمع نہ کیا جاسکا تھا،کھجور کی شاخوں اور پتھروں وغیرہ پر لکھا ہوا تھا،لوگوں کے سینے میں محفوظ تھا،اسی طرح سینوں اور صحیفوں میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر سال رمضان المبارک میں ایک مرتبہ جبریل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پیش فرماتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال رمضان المبارک میں دو مرتبہ پیش فرمایا :" كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ القُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي العَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ"(150)

زمانہ نبوی میں قرآن کریم ایک ہی مصحف میں جمع کیوں نہ ہوسکا ؟؟

اس کے کئی جوابات علماء نے دئیے ہیں۔

1۔ قرآن کریم یکبارگی نہیں بلکہ تیئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا، اس لئے بھی ایک مصحف میں جمع کرنا ممکن نہ تھا بلکہ مشکل امر تھا ۔

2۔ آپ ﷺ نے اسے اس لئے بھی ایک ہی مصحف میں جمع نہیں فرمایا کیونکہ قرآن میں نسخ(ایک حکم کو ساقط کرکے اس کے بالمقابل دوسرا حکم لانا شرعی دلیل کے ذریعے) واقع ہورہا تھا اگر آپ ﷺ اسے جمع کردیتے پھر کچھ حصے کی تلاوت منسوخ ہوجاتی تو یہ اختلاف اور دین میں اختلاط کا سبب بنتا ، آپ ﷺ بھی قرآن کریم کے بعض احکام یا تلاوت کے بارے میں منتظر رہتے کہ شاید کچھ منسوخ ہوجائے اس لئے بھی آپ ﷺ نے جمع نہیں کروایا، جب اس کا نزول مکمل ہوگیا اور زمانہ نسخ کے اختتام تک یہ قرآن سینوں میں محفوظ بھی رہا اورآپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو اللہ تعالی نے خلفاء راشدین کو اس کے جمع کرنے کا الہام کردیا۔(151)

3۔ قرآن کریم میں آیات وسور کی ترتیب نزولی نہیں، اگر اس وقت قرآن ایک مصحف میں جمع کردیا جاتا تو یہ ترتیب ہر نزول کے وقت ہی تبدیلی کا سامنا کرتی، اس لئے صحابہ کرام کے مابین جب کسی آیت میں اختلاف ہوتا تو وہ مکتوب قرآن کی بجائے رسول اکرم ﷺ سے ہی رجوع کرتے، وفات رسول اور بعض قراء صحابہ کرام کی شہادت کے بعد یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ایک ہی مصحف میں قرآن جمع کرلیا جائے اور یہ سعادت سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی۔

4۔ عہد رسول میں جو کچھ لکھا گیا اس کی کچھ تلاوت منسوخ ہوگئی تھی، مگر وہ آپ ﷺ کی وفات تک مکتوب صورت میں موجود رہی۔

5۔آپ ﷺ کے عہد میں قرآن کریم مختلف پارچات پر مکتوب اور الگ الگ تھا، آپ ﷺ کو بھولنا بھی نہیں تھا ہاں یہ امکان آپ کی وفات کے بعد دوسروں سے تھا، اس لئے آپ ﷺ کی وفات کے بعد اسے ایک ہی مصحف میں لکھنے کی صحابہ کرام نے جلد از جلد کوشش کی۔

دوسرا مرحلہ: تدوین قرآن کریم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مصالح مرسلہ کے پیش نظر قرآن کریم کو جمع اور مدون کیا گیا، یمامہ کی جنگ میں حفاظ قرآن کریم کی ایک کثیر تعداد نے جام شہادت نوش کیا جس کے نتیجے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قرآن کو جمع کرایا ۔(152)

یہ عظیم ذمہ داری حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو سونپی،چنانچہ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں " أَرْسَلَ إلَيَّ أبو بَكْرٍ مَقْتَلَ أهْلِ اليَمَامَةِ وعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقالَ أبو بَكْرٍ: إنَّ عُمَرَ أتَانِي، فَقالَ: إنَّ القَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَومَ اليَمَامَةِ بالنَّاسِ، وإنِّي أخْشَى أنْ يَسْتَحِرَّ القَتْلُ بالقُرَّاءِ في المَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ القُرْآنِ إلَّا أنْ تَجْمَعُوهُ، وإنِّي لَأَرَى أنْ تَجْمع القُرْآنَ، قالَ أبو بَكْرٍ: قُلتُ لِعُمَرَ: كيفَ أفْعَلُ شيئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ؟ فَقالَ عُمَرُ: هو واللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فيه حتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذلكَ صَدْرِي، ورَأَيْتُ الذي رَأَى عُمَرُ، قالَ زَيْدُ بنُ ثَابِتٍ: وعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لا يَتَكَلَّمُ، فَقالَ أبو بَكْرٍ: إنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ، ولَا نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الوَحْيَ لِرَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فَتَتَبَّعِ القُرْآنَ فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لو كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الجِبَالِ ما كانَ أثْقَلَ عَلَيَّ ممَّا أمَرَنِي به مِن جَمْعِ القُرْآنِ، قُلتُ: كيفَ تَفْعَلَانِ شيئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ؟ فَقالَ أبو بَكْرٍ: هو واللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ أزَلْ أُرَاجِعُهُ حتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ له صَدْرَ أبِي بَكْرٍ وعُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ القُرْآنَ أجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ والأكْتَافِ، والعُسُبِ وصُدُورِ الرِّجَالِ، حتَّى وجَدْتُ مِن سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مع خُزَيْمَةَ الأنْصَارِيِّ لَمْ أجِدْهُما مع أحَدٍ غيرِهِ، {لقَدْ جَاءَكُمْ رَسولٌ مِن أنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عليه ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ علَيْكُم} إلى آخِرِهِمَا، وكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتي جُمِعَ فِيهَا القُرْآنُ عِنْدَ أبِي بَكْرٍ حتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بنْتِ عُمَرَ"(153)

کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس جنگ یمامہ کے مقتولین کی خبر بھیجی اور بلایا ،میں پہونچا تو وہاں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تھے اور کہا: معرکہ یمامہ میں بہت سے قراء قتل ہوگئے ہیں اور مجھے خوف ہے کہ اگر دوسرے معرکوں میں اسی طرح قراء قرآن کریم قتل ہوتے رہے تو قرآن کریم کا بہت سارا حصہ ضائع و برباد ہوجائے گا، میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ جمع قرآن کریم کا حکم صادر فرمائیں ،اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا : کہ میں قرآن کریم کو ایک جلد میں کیسے جمع کروں جب کہ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ایسا کرنا بہتر ہے۔
پھر برابر عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کے ایک جلد میں اکھٹا کرنے کے لئے میرا سینۂ کھول دیا ، اور میری بھی وہی رائے ہے جو عمر رضی اللہ عنہ کی ہے ۔

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: آپ عقلمند نوجوان آدمی ہو ،آپ پر کوئی اتہام والزام نہیں،اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے لہذا تمہارے پاس اور دوسرے لوگوں کے پاس جو نوشتے موجود ہیں اور جو لوگوں نے یاد کر رکھا ہے اس کی مدد سے قرآن کریم کو ایک مصحف (جلد) کی شکل میں مدون (جمع) کردو۔

حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی قسم : اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ میرے لیے قرآن کریم کے جمع کرنے سے زیادہ مشکل نہ تھا ، زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ لوگ ایسا کام کیسے کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ، کہتے ہیں کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ برابر مجھ سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا جس کام کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سینۂ کھول دیا تھا ۔

چنانچہ میں نے کھجور کی ٹہنیوں ،پتھر کی سلوں،لوگوں کے سینوں ،چمڑوں اور شانہ کی ہڈیوں سے جمع کیا ،یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آخری آیات
" {لقَدْ جَاءَكُمْ رَسولٌ مِن أنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عليه ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ علَيْكُم}"(154)
سے آخری سورت تک صرف ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں ۔

یہ مصحف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تاحیات محفوظ رہا ،پھر یہی تیار شدہ مصحف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تحویل میں آگیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے پاس رہا ۔

معلوم ہوا کہ خیر کا وہ کام جس پر حالات متقاضی ہوں اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہیں ہوا وہ بدعت نہیں ہے۔
دوسری جانب اس بات کی طرف رہنمائی ملتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین کے معاملات میں آپس میں مشورہ کرتے تھے اور قرآن کی حفاظت کے لئے کافی حریص تھے ۔
مزید اس حدیث سے زید بن ثابت انصاری اور خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

جمع قرآن کے سلسلے میں سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہی کا انتخاب کیوں؟ :

سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو دو خلفاء نے کتابت قرآن اور اس کے جمع کرنے کی زحمت کیوں دی؟
اس پر ان کی نظر کیوں پڑی؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بعض مخصوص خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے غالباً ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ ﷺ سیدنازید ؓ کو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے دوسروں پر ترجیح دیتے اس لئے وحی کے بعد آپﷺ انہیں بلوا بھیجتے اور زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ وحی لکھ لیا کرتے تھے۔(155)

نیز مدینہ تشریف آوری کے ساتھ ہی بنونجار کے اس بچے کی تعریف جب اہل محلہ نے آپ ﷺ کے سامنے کی کہ دس سے زیادہ سورتیں یہ بچہ یاد کرچکا ہے تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا: زیدـؓ: تم یہود کی تحریر کو میرے لئے سیکھ لو ،
مراد یہ کہ ان کی زبان کو ایسا سیکھو کہ تم خود بولنا، لکھنا اورپڑھنا جان سکو۔

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے کہ :

"مَا مَرَّتْ بِیْ خَمْسَ عَشَرَۃَ لَیْلَۃً حَتّٰی حَذَقْتُہ"
پندرہ دن نہیں گذرے تھے کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کرلی۔
بعد میں عبرانی زبان کے ترجمان بھی یہی تھے اور انہیں جواب لکھنے والے بھی ۔(156)

ایک اور وجہ علماء نے یہ بیان کی ہے کہ سیدنا زیدؓ بن ثابت کو خود نبی اکرم ﷺ نے قرآن کریم حفظ کرایا تھا، اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ نے آخری رمضان میں دو مرتبہ قرآن کی دہرائی کی توسیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔(157)

سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور زید ؓبن ثابت کا قرآن مجید کو جمع کرنے پر تأمل بھی قابل غور ہے کہ وہ کسی کام کو شرعی حیثیت دینے میں اور اسے قبول کرنے میں کتنے محتاط تھے۔

جمع کردہ نسخہ کا نام اور خصوصیات:

قرآن جمع کرنے کے لیے جن لوگوں کی کمیٹی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بنائی تھی اس کمیٹی نے انتہائی احتیاط اورسخت محنت کے بعد قرآن کو ایک سال کی مدت میں جمع کردیا،جسے تمام صحابہ کرام نے اتفاقاً قبول کیا اور یوں امت بھی اس پرجمع ہوگئی ۔

اس نسخہ کی خصوصیات حسب ذیل تھیں:

1۔ نسخہ میں قرآنی آیات کی ترتیب آپ ﷺکی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق تھی لیکن سورتیں مرتب نہ تھیں بلکہ ہر سورت الگ اور علیحدہ صحیفہ میں تھی جن کی ترتیب عہد عثمان ؓ میں ہوئی، اس نسخہ کا نام مصحف اُم رکھا گیا۔
2۔ اس نسخہ میں ساتوں حروف جمع تھے۔
3۔ یہ نسخہ خط حیری میں لکھا گیا تھا۔
4۔ اس میں صرف وہ آیات لکھی گئیں جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ اس میں آیۃ الرجم نہیں لکھی گئی کیونکہ اس کی تلاوت منسوخ تھی مگر حکم باقی تھا۔
5۔ یہ امت کے لئے ایک ایسا متفقہ مرتب نسخہ تھا جواسے انتشار سے بچا گیا۔اسی لئے سیدنا ز یدؓ نے تمام گواہوں کی موجودگی میں اس کا اعلان کیا، جس کے صحیح ہونے کی سب نے بلا اعتراض گواہی دی۔

سیدنا زید ؓ نے تکمیل مصحف کے بعد اسے خلیفہ رسول ابو بکر صدیق ؓکے سپرد کردیا جو ان کے پاس وفات تک رہا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا ان کی وفات کے بعد یہ مصحف ام المؤمنین سیدہ حفصہ ؓ کے پاس اس وقت تک رہا جب عثمان ؓ نے ان سے طلب کر کے منتخب کمیٹی کے ذریعے نئے نسخے تیار کروا ئے تو اسے واپس لوٹا دیا جو ان کی وفات کے بعد سیدناابن عمر ؓکے ذریعے مروان بن الحکم کے پاس آیا تو مروان نے یہ سوچ کر کہ مبادا اس میں کوئی ایسی بات ہوجو نسخہ عثمان ؓسے مختلف ہو اسے ضائع کر دیا۔

تيسرا مرحلہ : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن کے جمع و تدوین کا سبب

خلافت عثمانی میں جمع قرآن :
سیدنا عثمان ؓ کے دور خلافت میں اسلام عرب سے نکل کر روم اور ایران کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا، نئے مسلمان جو عجمی تھے مجاہدین اسلام یا مسلمان تاجروں سے قرآن سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوتی، قرآن سبعہ حروف میں نازل ہوا تھا، صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمﷺ سے مختلف قراء توں کے مطابق سیکھا تھا، اس لئے ہر صحابی نے اپنے شاگرد کو اسی طرح پڑھایا جس طرح اس نے خود نبی اکرمﷺ سے سیکھا تھا، یوں قراءتوں کا اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا اور لوگوں میں جھگڑے پیدا ہونے لگے، زیادہ خرابی اس لئے بھی پیدا ہوئی کہ سوائے’’مصحف ام‘‘کے پورے عالم اسلام میں کوئی ایسا معیاری نسخہ نہ تھا جو امت کے لئے نمونہ و حجت ہو امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ ذوالنورَین خود بھی اس خطرے کا احساس کر چکے تھے کیونکہ انہوں نے مدنی بچوں میں ان کے اساتذہ کی اختلاف قراءت کے اثرات کو بھانپ لیا تھا۔سیدنا عثمان ؓ اپنی تقاریر میں ان سے فرما بھی چکے تھے:

"أَنْتُمْ عِنْدِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَتَلْحَنُونَ، فَمَنْ نَأَی عَنِّیْ مِنَ الأَمْصَارِ أَشَدُّ اخْتِلاَفاً، وَأَشَدُّ لَحْناً، اِجْتَمِعُوْا یا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، وَاکْتُبُوْا لِلنَّاسِ إِمَاماً"(158)۔

تم میرے پاس ہوتے ہوئے بھی اختلاف کرتے ہو اور لحن بھی، تو جو مجھ سے دور علاقوں میں آباد ہیں ان کا اختلاف اور لحن تو اور زیادہ ہوگا، اے اصحاب محمد ! اتفاق کرلو اور لوگوں کے لئے ایک امام لکھ ڈالو۔
لہٰذا آپؓ نے صحابہؓ کے سامنے یہ رائے رکھی کہ مصحف" اُم" کو سامنے رکھ کر ایک ایسا مصحف تیار کیا جائے جو صرف قریش کی لغت پر ہو، پھر اس کی نقول بنوا کر تمام عالم اسلام میں پھیلا دی جائیں، تمام صحابہؓ نے خلیفہ راشد سیدناعثمانؓ کی اس اجتہادی رائے کی بھر پور تائید کی کہ قرآن صرف قریش کے لہجے میں یا قریش جس طریقے سے پڑھتے ہیں اس میں لکھا اور جمع کیا جائے کیونکہ آپ ﷺ قریشی تھے ، آپ ﷺ افصح العرب تھے، اور قرآن قریش ہی کی زبان و لہجے میں قرآن اترا تھا۔(159)۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جمع قرآن میں جو فرق تھا وہ یہ ہے :
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو ایک کتابی شکل (مصحف) میں جمع کیا تھا اس ڈر سے کہ کہیں حاملین قرأت ،قرآن کے حفاظ (یاد کرنے والے) کے وفات یا جنگوں میں ان کی شہادت سے قرآن کا کچھ حصہ ضائع نہ ہوجائے کیونکہ اس وقت قرآن یکجا واکھٹا نہیں کیا گیا تھا،لھذا آپ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحیفوں میں اسے آیات کی اس ترتیب کے ساتھ جمع کردیا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگاہ کیا تھا۔ (160)

نیز حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قرآن کریم جمع کرنا یہ اس وقت عمل میں آیا جب کہ وجوہ قرأت میں اختلاف رونما ہوا،لوگوں نے اپنی اپنی زبان زبان کے موافق قرآن کریم پڑھنا شروع کیا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی قرأت کو غلط قرار دینے لگے ،چنانچہ اس سے معاملات کی سنگینی کا خطرہ لاحق ہوا، لہذا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان تمام صحیفوں کو جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تیار کرائے تھے ایک مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کرادیا ،اور صرف قریش کی لغت کو ملحوظ خاطر رکھا،اس لیے کہ قرآن کریم کو انہیں کی زبان میں اتارا گیا تھا۔(161)

اس صورتحال میں سیدنا عثمان ؓ نے سن پچیس ہجری میں وہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا جس کی تفصیل سیدنا انس ؓکی روایت سے صحیح بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے :

عن أنس بن مالك أن حذيفة بن اليمان، "قدم على عثمان وكان يُغازي أهل الشأم في فتح أرمينية، وأذربيجان مع أهل العراق، فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة .

فقال حذيفة لعثمان: يا أمير المؤمنين، أدرك هذه الأمة، قبل أن يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى .

فأرسل عثمان إلى حفصة: أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف، ثم نردها إليك، فأرسلت بها حفصة إلى عثمان، فأمر زيد بن ثابت، وعبد الله بن الزبير، وسعيد بن العاص، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف.

وقال عثمان للرهط القرشيين الثلاثة: إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن، فاكتبوه بلسان قريش، فإنما نزل بلسانهم .

ففعلوا، حتى إذا نسخوا الصحف في المصاحف، رد عثمان الصحف إلى حفصة، وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا، وأمر بما سواه من القرآن في كل صحيفة أو مصحف، أن يحرق".(162)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،آرمینیہ اور آذر بائیجان میں اہل شام اور اہل عراق کی اسلامی فوجیں ایک ساتھ جنگ لڑ رہی تھیں ، ان کے درمیان قرآن کریم کی قرأت میں اختلاف رونما ہوا جس سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بے حد پریشان ہوئے،اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا : اس امت کی خبر لیجیے یہود و نصارٰی کی طرح اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اختلاف رونما ہونے سے پہلے ، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس جو عہد صدیقی کا تیار شدہ مصحف ہے آپ ہمیں بھیج دیں ،اس کے مختلف نسخے کراکر ہم آپ کو واپس کردیں گے،چنانچہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کا وہ نسخہ جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملا تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت انصاری،عبداللہ بن زبیر،سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا اور اس نسخے سے آپ نے مختلف نسخے تیار کیے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریشی (عبداللہ بن زبیر،سعید بن العاص،عبدالرحمان بن حارث) سے فرمایا تھا جب تمہارا قرآن کریم کے کسی لفظ کے طرز تحریر میں زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کی زبان میں لکھو ،کیوں کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا ،اور جب یہ سب حضرات قرآن کریم کو مختلف مصاحف میں منتقل کرچکے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اصل نسخہ (صدیقی نسخہ) جو حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے منگایا تھا ان کو واپس کردیا اور پھر تمام تیار کردہ مختلف مصاحف کے ایک ایک نسخے اسلامی حکومت کے مختلف علاقوں کو بھیج دیا۔

اور اس کے علاوہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس ذاتی نسخے تھے اور انھوں نے اپنی یاد داشت کے لئے اپنے اپنے ڈھنگ سے تحریر کر رکھے تھے انھیں جلا دینے کا حکم جاری کیا تاکہ یہ چیز بعد میں اختلاف کا سبب نہ ہو پائے۔(163)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع قرآن کے لیے جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشورہ:

جمع قرآن کے سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی بدعت ایجاد نہیں کی،بلکہ آپ سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ کام کرچکے تھے،اسی طرح آپ نے یہ کام صرف اور صرف اپنی ذاتی رائے سے نہیں کیا،بلکہ اس سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کرکے قدم بڑھایا اور آپ کے اس کام کو سبھی نے پسند کیا اور کہا: آپ کی رائے بہت اچھی رہی کہ ایک ہی قرأت اور مصحف پر پوری امت مسلمہ کو اکھٹا کرکے آنے والی نسلوں کو کتاب اللہ کے سلسلے میں اختلاف و انتشار سے محفوظ کردیا، مصاحف کے سلسلے میں آپ نے بہت اچھا کام کیا۔(164)
ان میں پیش پیش حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔(165)

امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر نکتہ چینی کرنے سے منع کرتے تھے اور کہتے تھے لوگو!
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر غلو نہ کرو ،ان کے سلسلے میں خیر ہی کہو ،اللہ کی قسم انھوں نے قرآن کریم کے سلسلے میں جو کچھ کیا ہے ہم تمام صحابہ کرام کے مشورہ سے کیا ہے،اللہ کی قسم اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو انھوں نے کیا ہے۔(166)

تم لوگ ان وجوہ قرأت کے بارے میں کیا کہتے ہو مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض لوگ اپنے قرأت کو بہتر بتاتے ہیں اور یہ چیز کفر ہے،لوگوں نے کہا: آپ کیا سمجھتے ہیں،انھوں نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ایک مصحف پر اکھٹے ہوجائیں تفرق واختلاف نہ ہو ۔

سیدنامصعب بن سعد ؓ فرماتے ہیں:

"أَدْرَکْتُ النَّاسَ مُتَوَافِرِیْنَ حِیْنَ حَرَقَ عُثْمَانُ الْمَصَاحِفَ فَأَعْجَبَہُمْ ذَلِکَ ، أو قَالَ: لَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ مِنْہُمْ أَحَدٌ، وَہُوَ مِنْ حَسَنَاتٍ أَمِیرِ الْمُؤمِنینَ عًُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الَّتِیْ وَافَقَہُ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَیْہَا، وَکَانَتْ مُکَمِّلَۃً ِلجَمْعِ خَلِیْفَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہ عنہ".(167)

میں نے بکثرت لوگوں کو پایا کہ امیر المؤمنین حضرت عثمان ؓنے جب قرآنی نسخوں کو جلایا تو انہیں یہ کام بڑا عجیب لگا یا انہوں نے فرمایا: کسی نے اس کام کو ناپسند نہیں کیا،یہ عمل حضرت عثمان ؓکی حسنات یعنی نیکیوں میں سے ہے جس کے تمام مسلمان موافق تھے اور خلیفہ رسول حضرت ابوبکرؓکے جمع قرآن کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والا یہ عمل تھا۔

سیدنا عثمان ؓکا یہ کام "جمع ثانی" کہلاتاہے، جمع اول کا کام توعہد نبوی ﷺ و صدیقی ؓمیں ہو چکا تھا، عہد عثمانی میں بس اتنا کام ہوا کہ قراء ت میں جو اختلاف پیدا ہوا تھا اسے ایک مخصوص انداز تحریر سے ختم کردیا گیا اور ایک ہی لغت پر قرآن کو لکھ کر امت کو اس پر جمع کر دیا گیا۔

اس بناء پر سیدنا عثمان ؓکو جامع القرآن کہتے ہیں، آج بھی تاشقند اور استنبول میں رکھے مصحف عثمانی کے نسخوں اور ان کے رسم الخط کو دیکھا جا سکتا ہے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، سیدنا عثمانؓ کی اس مخلصانہ کوشش کے یہ عظیم الشان نتائج ہیں کہ امت آج بھی قرآن مجید پرمتفق ہے اور مجتمع بھی ،اسی باہمی الفت ومحبت نے امت کو بڑے اختلاف سے بچالیا ہے ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس بابرکت امر پر اتفاق کے بعد خواہشات نفسانی سے پاک ہر شخص پر یہ حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اس عظیم کارنامے پر جس کے ذریعے قرآن کریم کی آپ نے حفاظت فرمائی ہر مسلمان کا آپ سے راضی و خوش ہونا واجب ہے۔(168)

تمام صحیح روایتیں اس بات سے ہمیں واقف کراتی ہیں جس میں شک کی گنجائش نہیں وہ یہ کہ قرآن کریم ایک ہی مصحف میں جمع کرکے حضرت حفصہ ورضی اللہ عنہا کے گھر رکھا ہوا تھا۔(169)

پوری امتِ مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہےجو کچھ بھی مصحف حفصہ رضی اللہ عنہا میں تھا وہی اصل قرآن ہے جسے امت نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا،جو حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کے آخری دورے کے وقت کرایا تھا۔(170)

اس سلسلے میں جو کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مصاحف کو نذر آتش کردیا تھا تو آپ نے صرف انھیں مصاحف کو جلایا تھا جس میں اختلاف تھا اور جو مصاحف متفق علیہ تھے ان کو آپ رضی اللہ عنہ نے باقی رکھا۔(171)

اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہےکہ آپ نے اختلاف شدہ نسخوں کے علاوہ دوسرے نسخوں کو جلایا ہو ۔(172)
بلکہ آپ نے ان نسخوں کو جلایا اس لیے کہ ان کے باقی رہنے سے اختلاف قرأت کا بگاڑ پیدا ہوتا،یا اس میں وہ چیز ہوتی جو قرآن کریم میں نہیں تھی،یا جو باتیں منسوخ ہوچکی تھیں وہ ہوتیں،یا جو قرآن کریم کے نظم و ترتیب کے علاوہ ہوتیں،تو اس چیز سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین محفوظ رہے۔(173)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ مصاحف کی تعداد:

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جن مصاحف کو تیار کرایا تھا اور اسے مختلف شہروں میں روانہ کیا تھا ان مصاحف کی تعداد کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے،ایک قول کے مطابق ان کی تعداد چار ہے اور اسی پر علماء نے اتفاق کیا ہے،ایک قول کے مطابق ان کی تعداد پانچ ہے ،ایک قول یہ ہے کہ ان کی تعداد چھ ہے ،ایک قول کے مطابق سات اور ایک قول کے مطابق آٹھ ہے۔
چار کی صورت میں ایک نسخہ مدینہ منورہ میں،ایک شام،ایک کوفہ اور ایک بصرہ روانہ فرمایا، پانچ کی صورت میں حسب سابق چار نسخے روانہ کیے اور پانچواں نسخۂ مکہ مکرمہ روانہ کیا ، چھ کی صورت میں حسب سابق پانچ نسخے ارسال کیے اور اور چھٹے کے متعلق اختلاف ہے کہ اپنے لیے رکھا یا بحرین ارسال کیا، سات کی صورت میں حسب سابق چھ نسخے ارسال کیے اور ساتواں نسخہ یمن روانہ کیا ،اور آٹھ کی صورت میں حسب سابق سات نسخے ارسال کیے اور آٹھواں اپنے لیے رکھا ،اسی نسخے کی تلاوت کرتے ہوئے آپ کی شہادت ہوئی۔(174)

اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)

حوالہ جات :

____________________________________________
(139) [النحل: 89]
(140)سورۃالقیامۃ :19,18,17,16/
(141) (مناہل العرفان 234/01)
(142)(الاتقان فی علوم القرآن 73/01)۔
(143)(مناہل العرفان از زرقانی:239)الاتقان في علوم القرآن،207/01
(144)(فتح الباری ۹؍۹)
(145) (زاد المعاد لابن القیم)30/01
(146) (صحیح بخاری: 409/01)
(147)کتاب المصاحف،ص:17/
(148)سورة النساء:195)
(149) رواہ البخاری فی فضائلِ القرآن،باب کاتب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر :499/
(150) رواہ البخاری فی فضائلِ القرآن،باب کان جبریل یعرض القرآن علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر :4732/
(151)البرہان از زرکشی 235/01)
(152) الاجتھاد فی الفقہ الاسلامی،ص: 126)
(153)فتح الباري شرح صحيح البخاري » كتاب الأحكام » باب يستحب للكاتب أن يكون أمينا عاقلا,195/13)
(154)( سورة توبه :128)
(155) (کتاب المصاحف: 03)۔
(156)مسند احمد: 21108؛ سنن ابی داؤد: 364؛ سنن ترمذی: 2828)
(157) (الفتاوی الکبری,212/7، 148/08,)
"(158)(المصاحف: 29)
(159) (کتاب المصاحف: لابن ابی داؤد: 22)
(160) (فتح الباری:21/09)
(161)(فتح الباری:21/09)
(162) صحیح بخاری مع الفتح،کتاب فضائل القرآن،باب جمع القرآن،حدیث نمبر:4987)
(163) فتح الباری 21/09)

(164) فتنہ مقتل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،78/01)
(165) موسوعۃ الدفاع عن الصحابۃ،ص: 946،و جامع البیان للطبری،28/01)
(166) المصاحف لابن داود،ص:22-23, البدایہ والنھایہ لابن کثیر،236/07, فتح الباری 18/09,اسنادہ صحیح
(167) (کتاب المصاحف لابن ابی داؤد: 12)’’

(168) الکامل لابن الأثیر112/03,البدایہ والنھایہ لابن کثیر،236/07،تاریخ الطبری،102/05,موسوعۃ الدفاع عن صحابۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ص:947/،فتنہ مقتلِ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،78/01)
(169)موسوعۃ الدفاع عن صحابۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ص:947/،

(170) الصارم المسلول لابن تیمیہ رحمہ اللہ،ص:126/و جامع البیان عن تأویل آی القرآن،28/01/
(171) البدایہ والنہایہ لابن کثیر،187/07,
(172) التمہید للباقلانی،ص:223/
(173) العواصم من القواصم لابن العربی،ص:71/التمہید للباقلانی،ص:222/
(174) أضواء البیان فی تاریخ القرآن: ص:75/
 
Top