ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 10)(جاری)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا وضو میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع :-

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وضو میں پوری طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے تھے چنانچہ حمران بن ابان مولی' عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، فَغَسَلَهُمَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ ، فَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ، وَيَدَيْهِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ إِلَى الكَعْبَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (175)
امام شہاب زہری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ انہیں عطاء بن یزید نے اور انہیں حمران مولی' عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حمران نے دیکھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگایا،اور اپنے ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی انڈیلا،اور ان دونوں ہتھیلیوں کو دھلا ،پھر اپنے داہنے ہاتھ کو برتن میں ڈالا ،پھر کلی کیا اور ناک میں پانی چڑھایا،اسے جھاڑا ،پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھلا،اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھلا،اور پھر اپنے سر کا مسح کیا،اور دونوں قدموں کو ٹخنے تک دھلا،
پھر فرمایا:
"کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو میری ہی طرح وضو کرے گا اور پھر یکسوئی کے ساتھ دو رکعت نماز نفل ادا کرے ان دونوں رکعتوں میں اپنے نفس سے بات نہیں کی ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے گذشتہ تمام صغیرہ گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔"
ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : من أتم الوضوء كما أمره الله عزوجل فالصلوات المكتوبات كفارة لما بينهن "(176)
جس نے وضو مکمل طور پر کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو فرض نمازیں ان کے مابین واقع ہونے والی گناہوں کے لیے کفارے ہیں ۔"

بعض روایات میں ہے کہ وضو کرنے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پھر ہنس پڑے اور پھر اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم مجھ سے دریافت نہیں کرو گے کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟
لوگوں نے پوچھا : أمیر المؤمنین آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟
فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تھوڑا سا پانی طلب کیا،پھر جیسا میں نے ابھی وضو کیا ہے وضو کیا،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ،پھر فرمایا: تم مجھ سے پوچھتے نہیں کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟
لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب وضو کے لیے پانی طلب کرتا ہے اور پھر اپنا چہرہ دھلتا ہے تو اس کے چہرے سے جو گناہ بھی صادر ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے،اور جب اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ اسی طرح معاف کردیتا ہے،اور جب مسح کرتا ہے تو سر کے گناہ اسی طرح معاف کردیتا ہے۔(177)

اللہ تعالیٰ ہمیں خلفاء راشدین مہدیین اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق وضو اور نمازوں کے ادائیگی کی توفیق دے اور آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)

حوالہ جات :

____________________________________________
(175)صحيح البخاري كتاب الوضوء باب: الوضوء ثلاثا ثلاثا, حديث نمبر: 157،
(176) الموسوعۃ الحدیثیۃ/ مسند احمد حدیث نمبر(،415/و 418) اسنادہ صحیح

(177) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین،رواہ مسلم فی کتاب الطھارۃ،باب فضل الوضوء،223/،وأخرجہ الطیالسی (75) وعبد بن حمید (58) ومسلم (231) وابن حبان فی کتاب الصلاۃ باب فی فضل الصلاۃ (18860) وابو محمد البغوی فی شرح السنۃ(1541) وأخرجہ ابوداؤد بلفظہ کتاب الصلاۃ،باب فیمن لم یوتر(1420) والنسائی ،کتاب الصلاۃ،باب المحافظۃ علی الصلوات الخمس (462)
 
Top