ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی
(قسط نمبر: 11/ جاری)

اسلامی حکومت کی تعمیر وترقی میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اقتصادی تعاون :

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان اغنیاء (مالداروں) میں سے ہیں جنہیں اللہ رب العالمین نے بہت مال و منال ،ثروت ودولت سے نوازا تھا،آپ رضی اللہ عنہ امت اسلامیہ کے سخی ترین انسان تھے،اسلامی حکومت میں آپ کا اقتصادی تعاون و آپ کی جود و سخا اور فیاضی کے مختلف مواقف اسلامی تاریخ کی پیشانی پر روشن عیاں ہیں ،آپ نے اسلامی سلطنت کی تأسیس اور اسلامی معاشرے کی خدمت میں کبھی بھی بخیلی نہیں کی اور ہمیشہ آپ نے اپنے مال کو خدمت دین کے لیے وقف کر رکھا تھا،یہ تمام خوبیاں آپ کی منفرد شخصیت کی اصلی صفت تھیں۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ اگر ہم غور سے دیکھیں تو بارہ سال یعنی تیئیس 23/ہجری سے پینتیس 35/ہجری کے عرصہ پر محیط ہے،اس دوران اسلام بھی کافی دور دور تک پھیلا جیسا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلام بڑی قوت اور تیزی سے چاروں طرف پھیل رہا تھا۔

اور بقول اقبال رحمہ اللہ:

"تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا"

تاہم آپ رضی اللہ عنہ کو خوش قسمتی سے ایسے سپہ سالار میسر آئے جن کی جنگی فہم و فراست بڑی معروف تھی خاص طور سے ولید بن عقبہ،سعید بن العاص،عبداللہ بن عامر،عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہم آپ کے مشہور سپہ سالار رہے۔

مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا رشتہ مؤاخاۃ (اسلامی بھائی چارگی کا رشتہ) قائم کیا،یہ وقت بہت تنگی کا تھا ،مسلمان اپنا سب کچھ مال ومتاع مکہ میں لٹا کر صرف ایمان بچا کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آگئے تھے،ایسے وقت میں مدینہ میں مسلمانوں کے لئے پینے کے پانی کا بھی مسئلہ بن گیا کیونکہ وہاں کے میٹھے پانی کے واحد کنویں بئر رومہ کا مالک بنو غفار کا ایک آدمی تھا،وہ بہت مہنگا پانی بیچتا تھا۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر اس شخص کے لیے جنت کی بشارت دی جو بئر رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردے،ایسے نازک موڑ پر سیدنا حضرت عثمان بن عفان غنی رضی اللہ عنہ نے پینتیس ہزار درہم میں وہ کنواں خرید لیا اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔(178)

یہی سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ غزوات کے موقع پر بھی دل کھول کر خرچ کرتے تھے آپ جنگ تبوک کے موقع پر اس واقعہ کو دیکھ سکتے ہیں ،اس موقع پر آپ نے بے حد فیاضی سے کام لیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فوج کی تیاری کے لیے مال خرچ کرنے کی رغبت دلائی،ایسی فوج جو روم سے ٹکرانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیار کررہے تھے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حسب استطاعت جس سے جو ہوسکا کھجور،نقد،گھوڑے اونٹ ،سامان وغیرہ سب نے اپنی خدمات پیش کردی اور اس میں حصہ لیا اور بڑھ چڑھ کر مال خرچ کیا لیکن سیدنا حضرت عثمان بن عفان غنی رضی اللہ عنہ اس میدان میں سب سے سبقت لے گئے۔(179)


عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسجد نبوی کی توسیع کی ضرورت پیش آئی تو سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کے قریب واقع زمین کا ایک حصہ خرید کر مسجد نبوی کے لئے وقف کر دیا۔(180)

اس طرح آپ سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لیے وسعت پیدا کی، ربیع الأول کے مہینے میں مسجد نبوی کی توسیع ہوئی،آپ رضی اللہ عنہ خود کام کرتے تھے،اس موقع پر مسجد نبوی کو نقش دار پتھر اور چھت ساگوان کی لکڑی سے بنایا گیا تھا،جس کی لمبائی 160/گز اور چوڑائی 150/ گز تھی ۔(181)

مزید سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں مسجد حرام خانۂ کعبہ کی بھی توسیع کی ۔(182)


اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت ساری اچھی و ممتاز خوبیوں کا مالک بنایا تھا مشکلات کو حل کرنے کی قدرت وصلاحیت آپ کو بدرجۂ اتم دے رکھی تھی، آپ رضی اللہ عنہ کی شخصیت بالکل قائدانہ تھی،ایک طرف اللہ اور آخرت پر ایمان،اعتماد ویقین بھی کامل تو دوسری طرف صدق وصفا ، کمال شجاعت ، زہد و مرؤوت ، حب نصیحت ، تواضع وخاکساری،صبر ، حزم ودور اندیشی ، علو ہمت ، عدل، ارادہ کی ہمت و مضبوطی وغیرہ صفات آپ میں موجود تھیں۔جس کا تذکرہ ہم ضرور ان شاء اللہ تعالیٰ آگے آنے والی قسطوں میں ذکر کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے راستے پر چلا اور ان کی زندگیوں سے ہمیں سبق اور نصیحت لینے کی توفیق عطا فرما اور خصوصاً آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)


حوالہ جات :

____________________________________________
(178) تحفۃ الأحوذی شرح سنن الترمذی،196/01)
(179) الحکمۃ فی الدعوۃ الی اللہ،ص:231/
(180) صحیح سنن النسائی،فی کتاب الأحباس ،باب وقف المساجد ،1766/02, حدیث نمبر: 3638، وحسنہ الألبانی رحمہ اللہ،
(181) أعلام المسلمین ،43/03
(182) أخبار مکہ،158/02، تاریخ الطبری،251/04)
 
Top