ذیشان خان

Administrator
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی(قسط نمبر: 12/ جاری)

امت کے اتحاد کی خاطر اپنی جان کی قربانی اور عظیم فتنے پر صبر و تحمل :

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ صبر کی صفت سے متصف تھے، آپ کے ان مواقف میں سے جو اس صفت پر دلالت کرتے ہیں وہ ہے فتنہ کے دور میں آپ کا ثابت قدم رہنا، اس وقت جب کہ آپ اور دیگر مسلمانوں پر مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے، اس کے مقابلے میں آپ نے جو موقف اختیار کیا وہ فدائیت و قربانی کی ایسی اعلیٰ مثال ہے جسے ایک فرد جماعتی وجود ،امت کی تکریم اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت کی راہ میں پیش کرسکتا ہے۔

اگر آپ کو اپنی جان عزیز ہوتی اور امت کا وجود پیش نظر نہ ہوتا تو آپ کے لیے یہ ممکن تھا کہ آپ اپنی جان کو بچا لیتے، اور اگر آپ رضی اللہ عنہ نعوذباللہ من ذلک خود غرض ہوتے اور آپ کو صرف اپنی ذات کی فکر ہوتی اور ایثار و قربانی کے جذبات سے سرشار نہ ہوتے تو بلوائیوں کے مقابلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ابناء مہاجرین و انصار کو اپنی حفاظت و دفاع میں لگا دیتے،لیکن آپ رضی اللہ عنہ وارضاہ نے امت مسلمہ کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہا ، اس لیے انتہائی صبرو ثبات اور احتساب کے ساتھ اپنی جان کی قربانی پیش کردی،اور اعلان کیا کہ میں صبر جمیل کے ساتھ اس عظیم فتنے کا مقابلہ کروں گا۔

اس طرح اس آیت کریمہ پر آپ کا مکمل عمل رہا۔

" الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ "(183)

وہ لوگ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کرلیے ہیں تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے ان کا ایمان اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔

حضرت عثمان بن عفان غنی رضی اللہ عنہ قوی ایمان،اعلی' ظرف،مؤثر بصیرت اور عظیم صبر کے مالک تھے،اور اسی وجہ سے آپ نے امت کی خاطر اپنی جان قربان کردی،جو کہ مسلمانوں کے نزدیک آپ کے عظیم ترین فضائل میں شمار ہوا ۔(184)


حضرت عثمان غنی رضی اللہ کی ایک اور عظیم خصوصیت : کثرت سے غلام آزاد کرنا

حضرت عثمان بن عفان غنی رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے تھے۔(185)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں : کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتا ہوں ، اگر کسی جمعہ کو اتفاق سے غلام نہیں پاتا ہوں تو اگلے جمعہ کو دو غلام اکھٹا آزاد کردیتا ہوں ۔(186)

اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت زیادہ مال و دولت سے نوازا تھا،آپ نے اپنی فیاضی اور اپنے مال و متاع سے اسلام اور اہل اسلام کو خوب خوب فائدہ پہونچایا، آپ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد دو ہزار چار سو /2400 تک پہنچتی ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے راستے پر چلا اور ان کی زندگیوں سے ہمیں سبق اور نصیحت لینے کی توفیق عطا فرما اور خصوصاً آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)


حوالہ جات :

____________________________________________
(183) سورۃ آل عمران،آیت :173/
(184)تحقیق مواقف الصحابۃ من الفتنۃ،472/01/
(185) المعجم الکبیر للطبرانی،85/01, حدیث :124/
(186) الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ،115/01,
(187) الصواعق المحرقہ/ ابن حجر الہیثمی 327/01/
 
Top