ذیشان خان

Administrator
سيدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی(قسط نمبر: 13/ جاری)

(11)سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی امتیازی خصوصیت: کتاب وسنت کے اکابر علماء صحابہ میں شمار

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شخصیت قائدانہ تھی،اور آپ رضی اللہ عنہ ربانی قائد کے اوصاف سے متصف تھے،آپ رضی اللہ عنہ کے اہم ترین ذاتی وشخصی اوصاف یہ ہیں ،اللہ اور یوم آخرت پر ایمان،علم شرعی،اللہ تعالیٰ پر اعتماد ویقین ،قدوہ و أسوہ،صدق و صفا،کمال وشجاعت،مرؤت ووزہد،حب نصیحت،قبول نصیحت،تواضع،حلم وبردباری،حزم ودور اندیشی،صبر،بلند ہمت،مضبوط و قوی ارادۃ،عدل وانصاف،مشکل ترین امر کو حل کرنے کی صلاحیت و قدرت،قائدین کی تعلیم وتربیت اور ان کو تیار کرنے کی صلاحیت آپ رضی اللہ عنہ میں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔

آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا شمار اکابر علماء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کیوں ہوتا ہے ؟.

اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ کے اندر حلم اور تعلیم و تربیت کی قدرت و صلاحیت تھی،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شمار کتاب و سنت کے اکابر علماء صحابہ میں اس لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو لازم پکڑا،اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اور طور طریقہ سے بھرپور استفادہ کیا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کیا جن سے پوری امت مستفید ہوئی ، چنانچہ ابو عبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے سن کر اس پر عمل کیا تھا۔

سعد بن عبید ،ابو عبدالرحمن السلمی سے اور وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" خيرُكُم مَن تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَهُ"(188)

تم میں سب سے بہتر وہ انسان ہے قرآن سیکھے اور سکھاۓ۔

اس حدیث کو سن کر ابو عبدالرحمن السلمی نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں قرآن پاک پڑھانا شروع کیا یہاں تک کہ حجاج بن یوسف برسر اقتدار ہوا۔

ابو عبدالرحمن السلمی فرماتے ہیں"وذاكَ الذي أقْعَدَنِي مَقْعَدِي هذا" " (189)اسی لیے مجھے اس مقام پر بیٹھایا ہے۔

(12) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کلمہ " لا الٰہ الا اللہ" کے سلسلے میں

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ فَيَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" (190)

یقیناً میں ایک کلمہ جانتا ہوں جو بندہ اسے اپنے دل کی گہرائیوں سے کہے گا وہ جہنم پر حرام کردیا جائے گا، اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ سے بیان کروں کہ یہ" کلمہ لا الہ الا اللہ" کیا ہے؟
یہ کلمہ اخلاص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لازم قرار دیا اور یہی کلمہ تقوی' ہے جسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے ان کی وفات کے وقت اقرار کرانا چاہا تھا" اور وہ ہے "" کلمہ لا الہ الا اللہ"(191)

(13) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں صحیح علم:

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ صحیح علم وعمل کے حامل تھے ،بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح علم اور اللہ کی سچی معرفت انسان کو جنت میں لے جانے کاباعث ہے۔

عَنْ عُثْمَانَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّهِ - صلى الله عليه وسلم - "مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ الله دَخَلَ الْجَنَّةَ" (192)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جس کی موت اس حالت میں ہو کہ وہ اچھی طرح اس حقیقت کو جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

(14) حلم وبردباری سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اہم امتیازی خصوصیت:

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حلم وبردباری کی صفت سے متصف تھے،اور یہ آپ کے شخصی ارکان میں سے ایک اہم رکن تھا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اپنے آپ کو اس صفت سے متصف قرار دیا ہے،بطور مثال اس آیت پر نظر دوڑائیں: "إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ " (193)

تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتیں مڈبھیڑ ہوئی تھیں،یہ لوگ اپنے بعض کرتوتوں کے باعث شیطان کے پھسلانے میں آگئے لیکن یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا،اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور تحمل والا ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ حلم اور بردباری اور عفو و درگزر میں مثالی درجہ کو پہونچے ہوئے تھے،خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اقوال و افعال و احوال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء و پیروی کا سخت اہتمام کرتے تھے،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مختلف مواقف حلم اور ضبط نفس میں واضح ترین موقف جو آپ کی حلم وبردرباری وعقلمندی پر واضح دلیل ہے وہ آپ کے محصور کیے جانے کا واقعہ ہےجب کہ شرپسند آپ کو آپ کے گھر میں محصور کرکے آپ کے قتل کے درپے ہو چکے تھے،ان حالات میں آپ کی دفاع میں مہاجرین و انصار کی جو جماعت آپ کے پاس تھی آپ نے انھیں اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جانے کا حکم دیا ،حالانکہ وہ آپ کی حفاظت ودفاع کرنے پر قادر تھے،اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے شوق اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں آپ کی بردباری نمایاں تھی۔

(15)سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ کی ایک اور اہم امتیازی خصوصیت: تواضع و انکساری

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی پہلی صفت تواضع و انکساری قرار دی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:" وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا "(194)

رحمان کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں،اور جب بے علم لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔"

خلیفہ ثالث سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس صفت سے متصف تھے اور آپ کے اندر یہ صفت آپ کے اخلاص وللہیت کا نتیجہ تھا،چنانچہ عبداللہ رومی سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب تھجد کے لئے اٹھتے تو وضو کا پانی خود لے لیتے تھے،آپ سے عرض کیا گیا ،آپ کیوں زحمت اٹھاتے ہیں خادم کو کہہ دیا کریں کافی ہے،فرمایا : نہیں رات ان کی ہے اس میں آرام کرتے ہیں۔(195)

یہ واقعہ سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صفت رحمت سے متصف ہونے کی اعلیٰ مثال ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے راستے پر چلا اور ان کی زندگیوں سے ہمیں سبق اور نصیحت لینے کی توفیق عطا فرما اور خصوصاً آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)


حوالہ جات :

____________________________________________
(188)رواہ البخاری فی صحیحہ،کتاب فضائل القرآن،باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ،حدیث:5027/

(189)رواہ البخاری فی صحیحہ،کتاب فضائل القرآن،باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ،حدیث:5027/
(190) رواہ احمد،حدیث نمبر:447/ (صحیح ) وأخرجہ الحاکم 351/01،المستدرك على الصحيحين كِتَابُ الْإِيمَانِ حديث رقم 224وصحہ علی شرط الشیخین ووافقہ الذھبی
(191) رواہ احمد،حدیث نمبر:447/ (صحیح ) وأخرجہ الحاکم 351/01،وصحہ علی شرط الشیخین ووافقہ الذھبی

(192) صحيح مسلم،55/01, حديث نمبر:26/ و رواہ احمد،حدیث نمبر:464/ وأخرجہ النسائی فی عمل الیوم واللیلۃ،(,1114) وابن ابی عوانہ 7/01,من طریق محمد بن جعفر،وابن مندہ فی الایمان (32) والبزار من طریق شعبہ(415) وابن حبان (201/
(193)سورۃ آل عمران: آیت نمبر/155)
(194)(سورہ الفرقان:آیت /63)
(195)فضائل الصحابہ:ص:742/ اس کی سند صحیح ہے۔
 
Top