ذیشان خان

Administrator
سيدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی(قسط نمبر: 14/ جاری)

(16) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ امت اسلامیہ کے سخی ترین انسان:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ امت اسلامیہ کے سخی ترین انسان تھے،آپ کی جود و سخا اور فیاضی کے مختلف مواقف اور واقعات اسلامی تاریخ کی پیشانی پر روشن نشان ہیں ،غزوہ تبوک کے موقع پر آپ کی فیاضی ،بئر رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرنا ،عہد نبوی میں مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع اور عہد صدیقی میں میں غلے سے لدے ہوئے قافلے کو صدقہ کرنے،ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرنے کے یہ واقعات آپ کے جودوسخا پر دلالت کرتے ہیں۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ جو خود جودوسخا کے مالک تھے،آپ کے پچاس ہزار درہم باقی تھے ،سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کو مسجد کے باہر ملے اور کہنے لگے کہ مجھے جو پچاس ہزار درہم آپ کو ادا کرنے ہیں وہ میرے پاس موجود ہیں لے لیجئے ۔

ایک روایت میں کسی کو بھیج دیں جو آکر مجھ سے لے لے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: هولك يا أبا محمد ،معونة لك على مروتك" (196)
میں نے آپ کی مروت کی خوبی کی وجہ سے یہ آپ کو بخش دئیے ۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی فیاضی آپ کی منفرد شخصیت کی اصلی صفت تھی،آپ نے اسلامی سلطنت کی تأسیس،غزوات،اور اسلامی معاشرے کی خدمت میں کبھی بخیلی نہیں کی،اور ہمیشہ آپ نے اپنے مال کو خدمت دین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

(17) سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شجاعت و بہادری :

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت بہادر انسان تھے،موت سے قطعاً نہیں ڈرتے تھے اور انتہائی جری انسان تھے،باطل کا کھلے چیلنج کے ساتھ مقابلہ کرتے،انتہائی حلیم وبردبار تھے،آپ رضی اللہ عنہ کی یہ بات کسی بے وقوف ترین انسان پر بھی مخفی نہیں۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا صلح حدیبیہ کے موقع پر بحیثیت سفیر مکہ مکرمہ جانا اور برضا و رغبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان وحکم کو عملی جامہ پہنانا جب کہ یہ مہم کس قدر خطرناک تھا، لیکن آپ کی شجاعت و بہادری تھی کہ آپ نے انکار نہ کیا۔اور بحسن وخوبی اس سفارتی ذمہ داری کو قبول کرلیا ۔(198)

جب شرپسندوں نے آپ کو آپ کے گھر میں محصور کردیا اور آپ سے مطالبہ کیا کہ یا تو خلافت سے معزول ہوجائیں یا اپنے گورنروں اور عاملین کو معزول کردیں ،اور ان میں سے بعض کو ان کے حوالے کر دیں ورنہ ہم ان کو قتل کریں گے،اس نازک وقت میں آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہے،نفس کی قربانی قبول کر لی، لیکن خلافت کو شرپسندوں کے ہاتھ میں کھلونا بننے سے محفوظ رکھا کہ وہ جس کو چاہیں معزول کریں اور جس کو چاہیں اقتدار سپرد کریں،اور امت نے جس کو اس عظیم عہدے کے لئے منتخب کیا ہے اس سے یہ عہدہ چھین لیں ، اور پھر یہ ہمیشہ کے رسم و اصول بن جائے(199)۔

اس لیے آپ رضی اللہ عنہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے حالانکہ محاصرین کی تلواروں میں آپ اپنی موت کا مشاہدہ فرما رہے تھے،جو شخص ایسا کرسکتا ہے وہ بہادر اور نڈر ہی ہوگا ،بزدل ایسا کبھی نہیں کرسکتا ہے کیونکہ بزدل کے نزدیک زندگی افضل و بہتر ہے۔(200)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یہ عظیم شجاعت،بے مثال عزیمت،اور عجیب اصرار ، اللہ اور یوم آخرت پر قوی ایمان کا نتیجہ تھا جو آپ کے دل میں جاگزیں ہو چکا تھا،اور جس کی وجہ سے آپ اس دنیاوی زندگی کی ہر چیز حتی کہ اپنی زندگی کو بھی حقیر سمجھتے تھے۔

(18) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حیا وعفت وپاکدامنی

حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مشہور ترین اخلاق میں سے ہے،حیا کی صفت کتنی بہترین اور شیریں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مزین کیا تھا،خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس صفت کا بہت پاس ولحاظ رکھتے تھے،یہ آپ کے اندر خیرو برکت کا منبع اور شفقت ورحمت کا مصدر تھا، آپ سے فرشتے بھی شرماتے تھے۔(201)

رہا آپ کی عفت و پاکدامنی تو آپ نہ تو جاہلیت میں زنا کے مرتکب ہوئے اور نہ اسلام میں اور نہ ہی شراب کو کبھی ہاتھ لگایا۔ (202)

(19) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا صفت عدل

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ صفت عدل سے متصف تھے،چنانچہ عبیداللہ بن عدی روایت کرتے ہیں :

عن عُبَيدِ اللهِ بنِ عَديِّ بنِ خِيارٍ،" أنَّه دخَلَ على عُثمانَ بنِ عَفَّانَ وهو محصورٌ، فقال: (إنَّك إمامُ عامَّةٍ، ونزَلَ بكَ ما ترَى، ويُصلِّي لنا إمامُ فِتنةٍ، ونَتحرَّجُ؟ فقال: الصلاةُ أحسن ما يَعمَلُ الناسُ، فإذا أحسنَ الناسُ فأَحْسِنْ معهم، وإذا أساؤوا فاجتنبْ إساءتَهم)" (203).

کہ وہ خود حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جب باغیوں نے ان کو گھیر رکھا تھا، انھوں نے کہا کہ آپ ہی مسلمانوں کے امام ہیں مگر آپ پر جو مصیبت ہےوہ آپ کو معلوم ہے،ان حالات میں باغیوں کا مقرر کردہ امام نماز پڑھا رہا ہے،ہم ڈرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ کر گنہگار نہ ہوجائیں،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نماز تو جو لوگ کام کرتے ہیں ان میں سب سے بہترین کام ہے،تو وہ جب اچھا کام کریں تم بھی ان کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو ۔

(20)سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رعایا کے لیے نرم اور امت کے لیے انتہائی شفیق و مہربان

نرمی ان بہترین اور پاکیزہ صفات میں سے ہے جس سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ متصف تھے،آپ اپنی رعایا کے لئے انتہائی نرم اور امت مسلمہ کے لیے انتہائی شفیق و مہربان تھے،آپ کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کوئی مصیبت زدہ ہو اور اس کی خبر نہ مل سکے،اور پھر آپ اس کی ضرورت پوری نہ کرسکیں،لوگوں کے حالات برابر معلوم کرتے رہتے تھے،کمزوروں کی مدد کرتے اور طاقت ور سے حق وصول کرتے۔(204)

(21) سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عبادت

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بڑے ہی عبادت گزار تھے،آپ کا معمول تھا کہ آپ جمعہ کی رات میں قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے اور جمعرات تک ختم کردیتے تھے(205)۔
اور آپ رضی اللہ عنہ برابر نفلی روزے رکھتے اور رات کے ابتدائی حصے میں سوتے اور باقی رات قیام میں گزارتے تھے۔(206)۔

(22) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ زہد و ورع کے پیکر :

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مالداری و ثروت حاصل کی لیکن اس کے باوجود آپ زہد و ورع کے پیکر تھے،آپ رضی اللہ عنہ خچر پر سوار ہوتے اور اپنے پیچھے اپنے غلام نائل کو سوار کئے ہوتے،جب کہ آپ امیر المومنین،خلیفۃ المسلمین کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے۔(207)
اسی طرح ہمدانی نے روایت نقل کی ہے کہ:" میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ مسجد میں ایک چادر پر سوئے ہوئے ہیں اور آپ کے پاس کوئی نہیں ہے۔(208)
یہ سب باتیں اس بات پر دلیل ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ دنیا بیزار لوگوں میں سے تھے۔ (209)

(23)سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عظیم فہم اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کا تصور

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب آپ آخرت کو یاد کرتے اور قبر وحشر اور حساب وکتاب اور وہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے چھٹکارا ونجات پانے کا تصور کرتے تو آپ رضی اللہ عنہ پر کپکپی طاری ہوجاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔

آپ فرماتے ہیں " قبر آخرت کی منزلوں میں سے سب سے پہلی منزل ہے اگر یہ منزل آسانی سے طے ہو گئی تو بعد کی منزلیں اس سے آسان ہوں گی اور اگر یہ سخت ہوگئی تو بعد کی منزلیں اس سے بھی سخت ہوں گی ، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "قال عُثمانُ رَضِي اللهُ عنه: وقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ علَيه وسلَّم: "ما رأَيتُ مَنظَرًا قَطُّ إلَّا والقبرُ أفظَعُ منه "(210) اللہ کی قسم میں نے قبر سے بڑھ کر بدترین منظر کبھی نہیں دیکھا۔

یہ اللہ ربّ العالمین کے سامنے پیش ہونے کے سلسلے میں آپ کا عظیم ترین فہم تھا جس پر آپ رضی اللہ عنہ تادم حیات قائم و دائم رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے راستے پر چلا اور ان کی زندگیوں سے ہمیں سبق اور نصیحت لینے کی توفیق عطا فرما اور خصوصاً آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)

حوالہ جات :

___________________________
(196)موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا,509/03, حدیث: 240/ البدایہ والنہایہ،227/07/
(197) جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین،ص:304/
(198) الأمین ذوالنورین،ص:197/
(199) الأمین ذوالنورین،ص:197/
(200) الأمین ذوالنورین،ص:197/
(201) روشنی کے مینار سیرت صحابہ کے درخشاں پہلو،ص:76/
(202) رواہ الترمذی،فی کتاب ابواب الفتن عن رسول صلی اللہ علیہ وسلم،باب ما جاء لا یحل دم امرئ مسلم الا بإحدی' ثلاث،حدیث نمبر:2158/
(203) رواه البخاري،کتاب الاذان ،باب امامۃ المفتون والمبتدع،حدیث (695).
(204) الکفاءۃ الإدارية،ص:70/
(205) علو الھمۃ،94/03 ,
(206) صفۃ الصفوۃ،203/01,
(207) الزھد للإمام احمد بن حنبل رحمہ اللہ،ص:127,/
(208) الزھد للإمام احمد بن حنبل رحمہ اللہ،ص:127,/
(209) التاریخ الاسلامی،ص:50,/
(210) صحيح ابن ماجه،حدیث رقم: 3461 /حسنہ الالبانی رحمہ اللہ, فضائل الصحابۃ،ص:773،
 
Top