ذیشان خان

Administrator
سيدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے امتیازات

تحریر : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی(قسط نمبر: 15/ جاری)

(23) گواہوں کی شہادت کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر شراب پینے کی حد

سلسلہ نسب :

ولید بن عقبہ بن ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الاموی(211)

آپ کی کنیت ابو وہب ہے،اموی خانوادہ کے سپوت ہیں،آپ کو صحبت کا شرف حاصل ہے۔(212)

آپ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں،فتح مکہ کے وقت اسلام لائے،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں کے زمانے میں فتنے سے بالکل الگ رہے۔(213)

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دور خلافت کے حکمرانوں میں سے ہیں جو باصلاحیت اور امانت دار افراد ہی کو مناصب کے لئے منتخب فرماتے تھے،یہ ان سب کے عہد میں اسلام کے وسیع پیمانے پر تیزی کے ساتھ پھیلنے کے عظیم ترین اسباب میں سے تھا ، ان دونوں خلفاء کے نزدیک آپ انتہائی قابل اعتماد تھے،انھوں نے آپ کے ذمہ اہم ترین امور کی ذمہ داری سونپی،کیونکہ انھوں نے آپ کے اندر صلاحیت و قابلیت اور صدق ایمان پایا۔(214)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنے جرنیل عیاض بن غنم الفہری رضی اللہ عنہ کی امداد کے لیے روانہ کیا ۔(215)

سنہ١٣ ھ میں قضاعہ کی زکاۃ پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عامل بھی مقرر ہوئے،پھر جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کو فتح کرنے کا عزم کیا اس وقت آپ کے نزدیک ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ حرمت و شرف اور اعتماد میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کم نہ تھا،چنانچہ آپ نے عمرو بن العاص اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہما کو لکھا اور انہیں حکم دیا کہ لشکر اسلام کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہوں ،چنانچہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے اردن کے مشرقی علاقے کی طرف اسلام کی قیادت کی۔(216)

پھر ہم ایک طرف دیکھیں سنہ ١٥ھ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں آپ" بنو تغلب" اور "الجزیرۃ" پر امیر مقرر ہوئے۔

اس تابناک ماضی کے ساتھ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوفہ کی گورنری سنبھالی۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے آپ سے متعلق فرمایا: میں نے ولید کو اس لیے گورنر نہیں بنایا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے بلکہ اس لیے اس کو اس منصب کے لئے منتخب کیا ہے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ام حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب کا نواسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی تؤم تھیں اور ولایت اجتہادی امر ہے،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کو معزول کرکے ان سے کم درجے والے کو اس منصب پر فائز کیا تھا۔(217)

جو بھی اسلام کے اس بطل عظیم اور صحابی جلیل کی سیرت کا مطالعہ کرےگا تو وہ پائے گا کہ ولید بن عقبہ تینوں خلفاء راشدین کے نزدیک معتمد علیہ تھے،اس کو اس سلسلے میں ادنی' شک نہیں رہے گا کہ آپ ولایت و امارت کے اہل نہیں تھے، بلکہ اسے ان روایات کے ثبوت میں شکوک وشبہات لاحق ہوں گے جو ان کے بارے میں بیان ہوئے ہیں جیسا کہ اس آیت" {يَا أَيُّها الَّذِيْنَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإِ فَتَبَيَّنُوا" کی شان نزول میں وارد ہوئیں جس میں آپ کو فاسق کہا گیاہے،اور اسی طرح شراب نوشی سے متعلق بھی شکوک وشبہات کا شکار ہوگا کیونکہ جب کوفہ والے سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کے نہیں ہوئے تو ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو کہاں چھوڑتے ،کوفیوں نے دونوں پر الزام لگایا تھا۔(218)

جب کہ ہم دیکھیں تو صحیحین میں وارد ہے کہ گواہوں کی شہادت کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان پر حد جاری کیا،لہذا یہ واقعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف اعتراض کا حصہ نہیں بلکہ آپ کے مناقب میں سے ہے چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے باب میں روایت کیا ہے۔(219)

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: تم جو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہو تو تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنے اوپر وار کرتا ہے تاکہ اپنے معاون کو قتل کردے۔(220)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اس شخص کے متعلق کیا قصور ،آپ رضی اللہ عنہ نے تو اس فعل کے پاداش میں کوڑے لگوائے اور پھر معزول کرديا،حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ان امور میں کیا گناہ جو انہوں نے کیا ۔(221)

اور اس طرح کا واقعہ صرف سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں نہیں پیش آیا بلکہ اس سے قبل عہد فاروقی میں پیش آچکا تھا،چنانچہ مذکور ہے کہ قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ جو شرف صحابیت سے مشرف ہیں وہ بحرین کے امیر تھے انہوں نے شراب پی لی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان پر حد جاری اور معزول کر دیا۔(222)


ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بعض خدشات کی حقیقت:

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ عدالت صحابہ کے عمومی حکم سے مستثنیٰ ہیں وہ سب دعوے محل نظر ہیں ۔

بلاشبہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر شراب پینے کی بنا پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حد نافذ کی تھی مگر قابل غور بات یہ ہے کہ شراب پینے کا یہ جرم ان کے فاسق ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔

حضرت عبداللہ بن نعمان الحمار رضی اللہ عنہ صحابی رسول نے ایک دو بار نہیں بلکہ چار بار شراب نوشی کی ،ان پر حد لگائی گئی اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: میں اس کے بارے میں یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔(223)

علاوہ ازیں حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر جب حد نافذ کردی گئی تو یہ حد ان کے گناہ کا کفارہ بن گئی،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

" ومَن أصَابَ مِن ذلكَ شيئًا فَأُخِذَ به في الدُّنْيَا، فَهو له كَفَّارَةٌ (224)

اور جو کوئی ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اس کو دنیا میں اس کی سزا مل جائے تو وہ سزا اس گناہ کا کفارہ ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس پر تفصیلا بحث کی ہے اور اس موضوع کی دیگر روایات کو بیان کرکے فرمایا کہ جمہور کا یہی موقف ہے کہ حد نافذ ہونے سے گناہ معاف ہوجاتا ہے، علامہ الوزیر رحمہ اللہ کی طرح جناب ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر بعض دیگر حضرات کے اسی نوعیت کے اعتراض کے جواب میں علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وقال السخاوي في "فتح المغيث" :" وأما الوليد وغيره ممن ذكر بما أشار إليه فقد كف النبي صلى الله عليه وسلم من لعن بعضهم بقوله : (لا تلعنه فوالله ما علمت إلا أنه يحب الله ورسوله) ، كما كف عمر عن حاطب رضي الله عنهما قائلا له : ( إنه شهد بدرا ، وما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر ، فقال : اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم) ، لا سيما وهم مخلصون في التوبة فيما لعله صدر منهم ، والحدود كفارات ، بل قيل في الوليد بخصوصه : إن بعض أهل الكوفة تعصبوا عليه فشهدوا عليه بغير الحق ، وبالجملة فترك الخوض في هذا ونحوه متعين" (225)

رہے ولید وغیرہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت کرنے سے روکا تھا جس نے بعض پر شرب خمر کی وجہ سے لعنت کی! کہ ان پر لعنت نہ کرو اللہ رب العزت کی قسم میں یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے،جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ بولنے سے روکا اور فرمایا: کہ وہ بدر میں شریک ہوئے ہیں،اور عمر تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھا تو فرمایا: تم جو چاہو کرو بے شک میں تمہیں معاف کردیا ہے۔ بالخصوص جو ان سے صادر ہوا اس سے توبہ کرنے میں وہ مخلص تھے اور حدود گناہوں کا کفارہ ہیں ،بلکہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بالخصوص یہ کہا گیا ہے کہ بعض اہل کوفہ نے عصبیت میں ان کے خلاف شراب نوشی کی ناحق گواہی دی تھی۔

خلاصہ کلام یہ کہ اس جیسے واقعات میں بحث و تکرار نہ کرنا ہی طے شدہ فیصلہ ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے" الإصابۃ"میں ذکر کیا ہے کہ اہل کوفہ نے تعصب کی بنا پر ان کے خلاف گواہی دی تھی ۔(226)

اسی بات کی طرف اشارہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے "البدایہ والنہایہ" میں بھی کیا ہے،اور یہ بات اہل کوفہ سے بعید بھی نہیں جنہوں نے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ پر ناروا اعتراض کرکے انہیں معزول کروا دیا تھا ان سے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشی کا الزام ناممکن نہیں ۔(227)

رہی یہ بات کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید رضی اللہ عنہ کو فاسق کہا تھا اور اسی پس منظر میں سورۃ السجدۃ کی یہ آیت نازل ہوئی "أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ .........(228)

اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو" قوی" کہا ہے لیکن یہ قصہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ اسے بیان کرنے والا محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ ہے جو اگرچہ صدوق ہے مگر سئي الحفظ ہے بلکہ امام یحییٰ بن القطان رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: "سئي الحفظ جداً" اس کا حافظہ بہت خراب تھا" امام احمد رحمہ اللہ نے مضطرب الحدیث اور امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے لیس بذاك کہا ہے، امام دار قطنی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:" ردئ ء الحفظ کثیر الوھم" امام شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ما رأيت أسوأ من حفظه " اس سے کمزور حافظے والا میں نے کوئی نہیں دیکھا، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا : كان ردئء الحفظ فاحش الخطأ فكثرت المناكير في حديثه" اس کا حافظہ ردی ،بہت زیادہ خطا کرنے والا ،اس کی زیادہ احادیث منکر ہیں، امام علی بن المدینی رحمہ اللہ،امام ابو حاتم رحمہ اللہ ،امام الساجی وغیرہ نے بھی اس پر سوء حفظ کی بنا پر جرح کی ہے۔(229)

بلکہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا : ابن ابی لیلیٰ صدوق ہے اور اس کی صحیح حدیث کی ضعیف سے تمیز نہیں انھوں نے اس کی حدیث کو بہت ضعیف قرار دیا ہے، ان کے الفاظ یہ ہیں " صدوق الا أنه لا يدرى'صحيح حديثه من سقيمه وضعف حديثه جداً"(230)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے :صدوق سئيء الحفظ جداً"(231)

اس لیے جب اس قصے کا راوی ابن ابی لیلیٰ ہی ردیء الحفظ ہے تو اس کی سند کو قوی کہنا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔
شیخ سلیم الہلالی اور شیخ محمد بن موسیٰ رحمہم اللہ کی کتاب الاستیعاب فی بیان سبب الاختلاف میں اس روایت کو موضوع بلکہ اس جیسی دیگر تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔(232)

یہ ہیں ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ مجاہد ،فاتح،عادل،مظلوم،جنھوں نے امت کے لیے اپنی طاقت بھر ہر عمل خیر پیش کیا،اور پھر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ باطل پرست کس طرح صالحین پر ظلم ڈھاتے ہیں ،اور ان کے باطل کا اثر کس طرح لوگوں پر ہوتا ہے،چنانچہ آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد معاشرہ کے شور وغل سے علحیدگی اختیار کر لی،اور اپنی ایک زمین جو رقہ سے پندرہ میل پر الجزائر میں واقع تھی رہائش اختیار کر لی،جہاں خلافت فاروقی میں میدان قتال ودعوت میں مصروف تھے۔(233)

حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے دور میں ہونے والی تمام جنگوں سے علیحدہ رہے،اسی سرزمین میں آپ کی وفات 61/ہجری میں ہوئی اور وہیں مدفون ہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہما کے دور میں آپ کی وفات ہوئی۔(234)

یہ اللہ ربّ العالمین کے سامنے پیش ہونے کے سلسلے میں آپ کا عظیم ترین فہم تھا جس پر آپ رضی اللہ عنہ تادم حیات قائم و دائم رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے راستے پر چلا اور ان کی زندگیوں سے ہمیں سبق اور نصیحت لینے کی توفیق عطا فرما اور خصوصاً آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)


حوالہ جات :

____________________________________________
(211) تاریخ خلیفہ،ص:178/ و الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب609/02
(212)سیر اعلام النبلاء 413/03,
(213) الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب1552/04, الکاشف للذھبی،258/03، تقریب التہذیب،ص:583,
(214) فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب،ص:78,
(215) تاریخ الطبری،194/04)
(216)فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب،ص:78,
(217) العواصم من القواصم،ص:187,
(218) فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب،ص:80,
(219) رواہ البخاری فی کتاب فضائل الصحابۃ،باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:3696/)
(220) تاریخ الطبری 278/05,
(221) العواصم من القواصم،ص:93/و تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ،421/01,
(222) العواصم من القواصم،ص:93,
(223) صحیح البخاری:18/,
(224) فتح الباري صحيح البخاري كتاب الحدود،باب كفارة الحدود،85/12 حديث نمبر : 6402/،شرح النووي على مسلم » كتاب الحدود » باب الحدود كفارات لأهلها،362/11 حديث نمبر :1709
(225) فتح المغیث 112/03)
(226) الاصابۃ 322/06)
(227) البدایہ والنہایہ 155/07)
(228) سورة السجدة:18,/
(229) میزان الاعتدال:114/03,و تہذیب الکمال:302/09)
(230) العلل الكبير973/02)
(231) تقريب التهذيب:308/01)
(232) الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب:74/03
(233) العواصم من القواصم:ص:94,/
(234) البدایہ والنہایہ:216/08)
 
Top