ذیشان خان

Administrator
محدث عصر علامہ ناصر الدین البانی(رح)

افسوس کہ البانی کی شخصیت اور البانی کی اہمیت کو ہندوستان پوری طرح جان نہیں سکا


محدث العصر علامه ناصر الدین(رح) کے انتقال پر مکمل دس مہینے گزر چکے ہیں مگر آپ کی جدائی کا غم دلوں میں ابھی تک تازہ ہے۔ آپ کی وفات کا حادثہ اس حیثیت سے بھی بڑا المناک تھا کہ اس سے پانچ ماہ قبل سماحته الشيخ العلامه عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز (رح) کی وفات نے امت کے جسم و جاں کو ڈھال کر رکھا تھا۔ پھر اس مختصر مدت کے بعد محدث العصر البانی(رح) کا سفر آخرت امت کے لئے بڑا صبر آزما ثابت ہوا۔ جب ابن باز (رح) کی وفات ہوئی تھی اور آنسو روکے نہیں جارہے تھے تو لوگوں نے البان(رح) کو اپنے درمیان دیکھ کر اپنی تسکین کا سامان کیا تھا مگرامید کا یہ سہارا بھی زیادہ دن قائم نہ رہ سکا۔

بشر پہلو میں دل رکھتا جب تک
اسے دنیا کا غم سہنا پڑے گا

ویسے سال گذشته عالم اسلام کے بہت سے نامور علماء ہم سے رخصت ہو گئے ۔رحمہم اللہ مگرم علمی گہرائی حق گوئی و بے با کی ظاہر و باطن کی یکسانیت اور علم و عمل میں منہج سلف کی کامل تطبیق میں ابن باز والبانی کا مقام بہت اعلی و ارفع رہا۔

ابن باز(رح) کی شخصیت پہ بہت کچھ لکھا گیا عالم اسلام کے بہت سارے مجلات نے اپنے خصوص نمبر بھی نکالے اور ابن باز(رح) کی خدمات کو داد تحسین پیش کیا اور جب البانی(رح) کا انتقال ہوا تو عرب ممالک میں آپ کے تعلق سے بھی بہت کچھ لکھا گیا اور بعض مجلات نے اپنے خصوصی نمبر بھی نکالے مگر عجم میں بات کچھ اور ہی تھی ۔ میں یہی عجمی رسائل جنہوں نے ابن باز(رح) کےتعلق سے تفصیلی مضامین شائع کئے تھے یا اپنے خصوصی نمبر نکالے تھے البانی(رح) کی وفات پر خاموش نظر آئے یا کچھ لکھا بھی تو بس ایسا تھاجو" لا يسمن ولا يغني من جوع" کا مصداق تھا حالانکہ البانی(رح) کی علمی خدمات کے تعلق سے ابن باز(رح) سے زیادہ البانی(رح)
پر لکھا جاسکتا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ غالبایہ ہو کہ البانی(رح) کا خصوصی نمبر للّٰہ في اللّٰہ نکالناپڑتا۔ اس سے کوئی مادی فائدہ حاصل ہونے والا نہ تھا جب کہ ابن باز(رح) کے سلسلے میں خصوصی نمبر نکالنے کی صورت میں بہت سارے مادی اغراض پوشیدہ تھے اس لئے ایسے بعض مجلات نے اپنے خصوصی نمبر میں اپنے اپنے ملک کے سعودی سفارت خانوں کی تصدیق بھی تاثرات کی شکل میں پیش کر کے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

دوسری اہم وجہ تھی کہ عجم میں شیخ البانی(رح) کا سچا تعارف نہ ہونے کے سبب آپ کے تعلق سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت ساری غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں لوگ آپ کو طرح طرح کے القاب سے یاد کرتے ہیں آپ کی شخصیت پر طعنے کسے جاتے ہیں بلکہ بہت سوں کو آپ کا نام تک سننا گوار نہیں ہے۔

یہ ہماری بد قسمتی اور احسان فراموشی ہے کہ سلف صالحین سے محبت کا کہ دم تو ہیں مگرشیخ البانی(رح) جیسے نمونہ سلف شخصیت کی قدر و قیمت کو جاننا تو درکنار انہیں ہدف ملامت بنانے اور اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کرنے میں مصروف ہیں؟

افسوس کہ البانی کی شخصیت اور البانی کی اہمیت کو ہندوستان پوری طرح جان نہیں سکا جہاں برسوں سے علوم حدیث کی کساد بازاری کا غلبہ ہے۔ البانی(رح) کی شخصیت اور البانی(رح) کی اہمیت عالم اسلام کی یونیورسٹیوں کے ان عظیم اسکالرس سے پوچھئے جو اپنے فن میں یکتا رہتے ہوئے بھی خود کو البانی کے آگے طفل مکتب تصور کرتے ہیں؟

البانی عصر حاضر کے محدث بے مثال تھے بلند پایہ محقیق تھے علم وعمل میں خیر القرون کا نمونہ تھے اہل سنت کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اہل بدعت کے حلق کا کانٹا تھے اور اخبار " الشرق الأوسط " کے الفاظ میں علم حدیث میں بیسویں صدی کا معجزہ تھے!
شیخ البانی کی عظیم شخصیت اور آپ کے عظیم کارناموں کامختصر سا خاکہ اس مضمون میں پیش کیا جارہا ہے چونکہ آپ کی زندگی صبر سے عبارت تھی اس لئے آپ کی زندگی کو پڑھنے کے لئے بھی بڑا صبر درکار ہے امید کہ اہل ناظر شیخ کا صحیح تعارف حاصل کرتے ہوئے شیخ کے تعلق سے اپنے موقف کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

مولف: عبدالعظيم عمری مدنی
 
Top