ذیشان خان

Administrator
شیخ البانی(رح) بچپن سے بچپن تک

ولادت اور ارض شام کی هجرت : آپ کا نام محمد ناصر الدین بن نوح نجاتی ہے ابوع عبد الرحمن آپ کی کنیت ہے۔ البانیا کے پایہ تخت اشقودره میں ۱۳۳۲ھ مطابق ١٩١٤ھ میں آپ کی ولادت ہوئی زندگی کی
نو منزلیں آپ نے البانیاہی میں طے کیں اور اسی کی طرف منسوب ہو کر البانی کہلائے ۔ آپ کے والد صاحب ذی علم شخصیت کے مالک تھے اور
مسلک حنفی کے معروف فقہا میں سے تھے۔ جب البانیا میں شیوعی انقلاب آیا اور حکام نے مغربی تہذیب کی تقلید لازمی قرار دی تو اپنے دین و ایمان
کی حفاظت کی خاطر آپ کے والد صاحب نے مع اہل خانہ ہجرت کا ارادہ کر لیا۔
ہجرت کے لئے ارض شام کا انتخاب کیا کیونکہ احادیث میں وہاں سکونت اختیار کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ چنانچہ بحری راستے سے
بیروت ہوتے ہوئے آپ مع اہل خانہ دمشق پہنچے اس امید کے ساتھ کہ ہوسکتا ہے کہ قیام شام سے دنیا وآخرت میں ان کی قسمت چمک اٹھے انہیں یہ
نہیں معلوم تھا کہ ارض شام کی قسمت کو چمکانے والا بچہ خود انہیں کی گود میں پل رہا ہے۔
تعلیم و تربیت:دمشق پہنچے تو شیخ البانی کی عمرنو سال تھی نو سال کی اس عمر تک آپ مطلق عربی زبان نہ جانتے تھے لیکن آپ کوفطری طور پر
عربی زبان سے لگاؤ اور تعلق تھا اس لئے بہت جلدی عربی زبان سیکھ لی اور آگے چل کر عربی زبان میں اتنا ملکہ پیدا کرلیا کہ بڑے بڑے عربی داں
بھی آپ کی زبان اور انداز بیان سے مسحور ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔

ابتدائی تعلمیم دمشق ہی کے کسی سرکاری اسکول میں حاصل کی اور بہت تھوڑی مدت میں اپنا لوہا منوالیا۔ اسا تذہ کو آپ کی تعلیمی لیاقت پراتنا
اعتماد تھا کہ سوال و جواب میں ہمیشہ آپ کی باری اس وقت آیا کرتی تھی جب سارے طلبہ جواب دینے سے عاجز اور قاصر ہوتے۔
سرکاری تعلیم کے علاوہ گھر میں خود والد صاحب بھی آپ کی تعلیم وتربیت کا بڑا اہتمام کرتے اور ابتدا ہی سے آپ کو فقہ حنفی کی تعلیم دیا کرتے تھے ادھر شیخ کا اپنا ذاتی مطالع بھی جاری رہتا جہاں کہیں کوئی مسئلہ حدیث کے خلاف پاتے تو اپنے والد سے مناقشہ کرنے لگتے اور اطمینان بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں حدیث پر عمل کرنے سے کوئی چیز انہیں روک نہیں سکتی تھی۔

گھڑی سازی کا پیشہ: گزر معاشی کے لیے البانی صاحب نے پہلے تو چند دن تک کے لیے بڑھئی کا پیشہ اختیار کیا مگر بعد میں آپ کے والد صاحب نے آپ کو گھڑی سازی سکھادی اور یہی پیشہ زندگی بھر گذر معاش کا ذریعہ تھا۔ شیخ البانی ماہرگھڑی ساز تھے اور اس پیشے کی بہت زیادہ تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ یہ آزاد پیشہ تھا جو آپ کی علمی مصروفیتوں میں بھی رکاوٹ نہ بنتاتھا اسی لئے آپ کہا کرتے تھے کہ میرے والد صاحب کے مجھ پر دو بڑے احسان ہے پہلا یہ کہ آپ مجھے البانیا کے لادینی ماحول سے بچا کر ارض شام کی طر لے آئے دوسرا یہ کہ آپ نے مجھے گھڑی سازی جیسا آزاد پیشہ سکھایا۔

علم حدیث کی طرف توجه : شیخ کی علم حدیث کی طرف توجہ کا اصل محرک علامہ رشید رضا کا مجلہ المنار تھا واقعہ مشہور ہونے کی وجہ سے تفصیل کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ) ۔ بعد میں شیخ کی ذاتی دلچسپی نے اس میدان میں آپ کے قدم جمادیئے۔ جب بھی کوئی حدیث آپ کی
نظر سے گزرتی تو خود اس کی تخریج کرتے اور اس کا درجہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے شیخ کے شاگرد محمد بن بدیع موسی کہتے ہیں شیخ نے مجھ سے کہا پہلی حدیث جس کی تخریج انہوں نے کی تھی وہ یہ تھی ''دعو االناس في غفلاتهم يرزق بعضهم من بعض''
شیخ کے والد کو شیخ کا حدیث کی طرف یہ رجحان پسند نہ تھا۔ شیخ کو کتب حدیث میں مشغول دیکھ کر وہ کہا کرتے تھے کہ علم حدیث مفلسوں کا پیشہ ہے تاہم شیخ کی ثابت قدمی میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی کیونکہ آگے چل کر الله تعالی کو آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا۔

شیخ کی استقامت اور گھر سے جدائی : علم حدیث کی طرف آپ کی توجہ کا لازمی نتیجہ تھا کہ آپ کے علمی رجحان کا اثر آپ کی عملی زندگی پرضرور پڑتا چنانچہ عنفوان شباب ہی سے شیخ کے اندر عمل بالاحادیث کا عجیب و غریب جذبہ تھا حتٰی کہ اسی بنیاد پر گھر سے جدا بھی ہوگئے۔ ہوا یہ کہ دمشق میں جامع التوبۃ نامی ایک مسجد تھی جس میں ہر نماز میں دو دو جماعتیں ہوا کرتی تھیں ۔ پہلے اول وقت میں شوافع اپنے شافعی امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے پھرتھوڑی دیر بعد احناف اپنے حنفی امام کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرتے اور یہ حنفی امام خودشیخ البانی کے والد نوح نجاتی تھے۔ ایک ہی مسجد میں دو جماعتیں یہ بات البانی صاحب کو اچھی نہیں لگی آپ نے مسلہ کا علمی جائزہ لینے کے بعد شوافع کے ساتھ نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ جو کہ حدیث کے مطابق اول وقت میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ شیخ کے اس موقف سے آپ کے والد صاحب پر قیامت گذرتی تھی لیکن صبر کرتے ہوئے خاموش رہ جاتے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کے والد صاحب کو کہیں کا سفر در پیش ہوا انہوں نے البانی صاحب سے کہا کہ میرے واپس
آنے تک میری غیر حاضری میں امامت کے فرائض انجام دیتے رہو۔ البانی صاحب نے معذرت پیش کردی۔ والد صاحب سمجھ گئے کہ البانی نے کیوں معذرت پیش کی۔ آخرکار مجبور ہو کر ایک مرتبہ البانی صاحب کو بلابھیجا اور فیصلہ کن گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم نے اپنامسلک بدل لیا ہے لہذا بہتر ہے کہ اپنے فیصلہ پرنظرثانی کرو ورنہ میرے گھر میں رہنے کی ضرورت نہیں! البانی نے حق کی خاطر اپنے گھر سے جدائی اختیار کرلی ۔ جس کی قسمت میں تحقیق کی بلندیاں لکھی ہوئی ہوں وہ تقلید جامد کی پستیوں سے کب اور کیوں راضی ہوتا؟ نبئونی بعلم ان کنتم صادقين.

دمشق ہی میں ایک اور مسجد "الجامع الاموی" تھی جس میں کچھ قبریں تھیں۔ شیخ البانی کبھی کبھی اس میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے مگر احادیث میں اس قسم کی مساجد میں نماز پڑھنے سے ممانعت دیکھ کر آپ نے اس میں نماز پڑھناہی چھوڑ دیا اور عام مسلمانوں کو بھی روکتے ہوئے اپنی پہلی کتاب " تحذیر المساجد من اتخاز القبور مساجد " لکھی
اب تو معاشرہ اور سماج بھی آپ کا مخالف ہو گیا مگر مخالفت کی پرواہ کیے بغیر آپ پیہم جدوجہد کرتے رہے۔
ابتدا ہی سے شیخ البانی رحمہ اللہ کے اس جذبہ اتباع سنت استقامت فی الدین اور صبر و ضبط کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالی کسی سے اپنے دین کی کوئی خدمت لینا چاہتا ہے تو خود ہی اس کے اسباب بھی فراہم کردیتا ہے اور یقین محکم اور عمل پیہم کے جوہر سے اسے آشنا کر کے فاتح عالم بنا دیتا ہے

مولانا عبد العظیم عمری مدنی
 
Top