ذیشان خان

Administrator
اسرائیلی روایات کو تفسیر قرآن بنانا

فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن بن ناصر السعد رحمہ اللہ المتوفی سن 1376ھ

(سعودی عرب کے مایہ ناز عالم تفسیر سعدی کے مصنف اور شیخ ابن عثیمین وغیرہ کے استاذ)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: تفسیر السعدی ص 54۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ بات جان لیں کہ بے شک بہت سے مفسرین رحمہم اللہ نے اپنی تفاسیر کو بنی اسرائیل کے قصوں سے بھر دیا ہے، اور آیات قرآنی کوان سےمتعلق کرتے ہوئے اسے کتاب اللہ کی تفسیر بنادیتےہيں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے حجت پکڑتے ہوئے کہ:

’’حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ‘‘([1])

(بنی اسرائیل سے روایت بیان کردیا کرو کوئی حرج نہیں)۔

میرے مطابق اگرچہ ان کی روایات کا نقل کرنا جائز ہے لیکن اس طور پر جو الگ سے ہوں نہ کہ اس (تفسیر) سے منسلک ہوں، نہ اسے کتاب اللہ سے متعلق کیا جائے، کیونکہ یقیناً اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت نہ ہوں انہیں کتاب اللہ کی قطعی طور پر تفسیر بنانا جائز نہيں ہے، اور یہ اس لیے کیونکہ ان کا درجہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

’’لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ ‘‘([2])

(اہل کتاب کی نہ تصدیق کیا کرو اور نہ ہی تکذیب)۔

پس جب ان کا درجہ یہ ہے کہ یہ مشکوک ہیں۔ جبکہ دین اسلام میں یہ بات ضروریات دین میں سے ہے کہ قرآن پر ایمان لانا اور اس کے الفاظ و معانی کو قطعی ماننا واجب ہے۔ جائز نہیں کہ ان مجہول روایات سے نقل شدہ قصوں کو قرآن کے قطعی طور پر ایسے معانی بنائے جائيں کہ جن میں شک کی گنجائش نہ ہو، جن کےبارے میں یا ان میں سے اکثر کے بارے میں غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ ہيں۔ لیکن اس سے غفلت کے سبب جو کچھ ہوا سو ہوا، واللہ الموفق۔

[1] اخرجہ البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب 50: ماذکر عن بنی اسرائیل، حدیث رقم 3461۔

[2] اخرجہ البخاری، کتاب التفسیر، باب 11: (قولوا امنا باللہ وما انزل الینا) (البقرۃ: 136)، حدیث رقم 4485۔
 
Top