ذیشان خان

Administrator
یہ عورت ایک خلیفہ کی بیٹی ، دوسرے خلیفہ کی بیوی اور چار خلفاء کی بہن ہے واقعہ بڑا ہی غور فکر اور آنکھ کھولنے والا ہے
____________________________________
حافظ عتیق الرحمٰن عبدالمتین سنابلی سدھارتھ نگر

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
فاطمہ بنت امیرالمؤمنین عبدالملک بن مروان کی جب شادی ہوئی تو اس کے باپ کی سلطنت کی حدود شام ،عراق، حجاز ،یمن، ایران ،سندھ، قفقاسیا ،قرم ،ماوراء النہر، نجارا، مصر ،سوڈان، لیبیا، تیونس ،الجزائر، مغرب الاقصی (مراکش)،اندلس ،وغیرہ میں پھیلی ہوئی تھیں۔ فاطمہ فقط خلیفہ کی بیٹی ہی نہیں بلکہ وہ اسلام کے چار مشہور و معروف خلفاء خالد بن عبدالملک، سلیمان بن عبدالملک، یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک کی بہن بھی تھی۔ مزید یہ کہ وہ خلفاء راشدین کے بعد سب سے مشہور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی بیوی بھی ہیں۔ یہ عورت خلیفہ کی بیٹی چار خلفاء کی بہن اور عمر بن عبدالعزیز کی بیوی ہے۔جب یہ اپنے باپ کے گھر سے شوہر کے گھر کی طرف رخت سفر باندھا تو یہ عورت ہیرے جواہرات اور موتیوں سے لدی ہوئی تھی اور ان سب کا تنہا مالک تھی۔ اس کے زیور ہی سے ماریہ نامی عورت کے دو کانٹے بناۓ گئے تھے جو تاریخ میں مشہور ہے اور مختلف شعراء نے بھی اپنے اشعار میں اس کا ذکر کیا ہے، ان دونوں کانٹوں میں سے ہر کانٹا ایک خزانہ کے برابر تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
خلیفۂ اعظم عمر بن عبدالعزیز نے اس وقت اپنے گھر کا خرچہ چند درہم تجویز کیا جب کہ وہ اس وقت بہت بڑی سلطنت کے مالک و حکمران تھے، اور ان کے اس فیصلے پر ان کی بیوی بھی مکمل رضاء مند ہوگئی۔ وہ بیوی جو خلیفہ کی بیٹی اور چار خلفاء کی بہن تھی وہ اس فقیرانہ زندگی پر بہت خوش تھی کیونکہ اس نے قناعت اور میانہ روی کا میٹھا ذائقہ چکھ لیا تھا اور یہی حقیقی لذت اس کی پسند بن گئی۔ اس نے اس نعمت کو، دولت، بے کار و بے فائدہ زندگی پر ترجیح دی،جس سے وہ گزشتہ ایام میں خوب واقف تھی۔ جب اس کے خاوند نے اس سے بچکانہ ذہن ترک کرنے کا مطالبہ کیا اور حکم دیا کہ وہ کھیل کود لہو و لعب کے سامان کو گھر سے نکال دے۔ جس کے ساتھ وہ اپنے کام گردن بال وزنی کئے ہوۓ ہے جو نہ انسان کو موٹا کر سکتا ہے اور نہ ہی بھوک میں کام آسکتا ہے۔ اور اگر بیچ دیا جائے تو ہزاروں مردوں و عورتوں کا پیٹ پالا جاسکتا ہے، اس حکم کو سنتے ہی اس عورت نے سارے زیور ہیرے جواہرات موتیوں سے راحت حاصل کرلی اور یہ سب باپ کے گھر سے لے کر آئی تھی۔اس نے یہ سب کچھ بیت المال کو ہبہ کردیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
جب عمر بن عبدالعزیزؒ وفات پا گئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تو بیت المال کا نگران آیا اور کہنے لگا اے مالکہ! آپ کا سازو سامان ہیرے جواہرات اور موتیاں سب میرے پاس بطور امانت رکھی ہوئی ہیں میں آپ سے اجازت لینے آیا ہوں کہ وہ مال آپ کی خدمت میں حاضر کردوں۔ مالکہ فاطمہ نے کہا: "وہ تو میں نے اپنے شوہر کے حکم کے مطابق بیت المال کو ہبہ کرچکی ہوں اور میں ایسی عورت نہیں ہوں کہ زندگی میں تو اطاعت کروں اور مرنے کے بعد نافرمانی "
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اس نے وراثت میں ملنے والا کروڑوں کا مال لینے سے انکار کردیا جب کہ وہ اس وقت کوڑی کوڑی کا محتاج تھی۔ اسی لئے تو ﷲ تعالیٰ نے اس کا نام ہمیشہ کے لئے اونچا رکھا آج کئی برس گزرنے کے بعد بھی ہم اس کے مقام ومرتبہ اور شرف ورتبہ اور اونچے درجات کے متعلق بات کر رہے ہیں۔ ﷲ پاک اس نیک طینت عورت پر رحمتیں نازل فرمائے اور جنٹ الفردوس اس کا مقدر بناۓ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یاد رکھو! خوش حالی اور خوش بختی یہ ہے کہ انسان ہر چیز کے اندر میانہ روی پر گامزن رہے۔ زندگی کا کوئی بھی لمحہ کیسا ہی کیوں نہ ہو جب لوگ اس کی عادت ڈال لیتے ہیں تو پھر انتہائی سکون محسوس کرتے ہیں، حقیقت میں آزاد انسان وہی ہے جو بے فائدہ اور غیر ضروری چیزوں سے چھٹکارا حاصل کرلیتا ہے۔ انسان اور اسلام کے اندر اسے ہی غنی گہتے ہیں۔
ﷲ پاک ہمیں ایسے ہی لوگوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کتاب:سنت مطہرہ اور آداب مباشرت ص: 16_18
مجدد اسلام محدث نبیل علامہ ناصرالدین البانی ؒ
 
Top