ذیشان خان

Administrator
قسطوں کے کاروبار کا شرعی حکم؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن رداد
(استاد :فقہ اسلامی ،مدینہ یونیورسٹی ، مدینہ منورہ)
ترجمہ : محمد یونس اثری

اہل علم کا قسطوں کے کاروبارکی صحت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اور جو جمہور اہل علم کا مؤقف معلوم ہوتا ہے وہ یہی کہ قسطوں کا کاروبار جائز ہے اور ضرورت کا تقاضہ بھی یہی ہے ۔ جس طرح خریدار کو یہ اختیار ہے کہ وہ چیز کی نقد قیمت ادا کرے یا رضامندی سے ایک مقررہ وقت تک اسے مؤخر کر لے ۔ اسی طرح عمومی دلائل کی بناء پرفروخت کنندہ کے لئے بھی جائز ہے کہ وہ ایک معقول حد تک وجوہات کی بنا پر قیمت بڑھاسکتا ہے ۔ البتہ قیمت کا یہ اضافہ مجبوری کا فائدہ اٹھانے اورظلم و زیادتی پر مبنی نہیں ہونی چاہئے ۔
دو سال، تین سال کی مدت کے لئے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پھلوں میں بیع سلف کرے تو اسے چاہیے کہ متعین پیمانہ، متعین وزن اور متعین مدت کے ساتھ بیع سلف کرے‘‘۔سلم سے مراد: ’’ یہ کہ قیمت پیشگی ادا کردینا اور چیز ایک مدت کے بعد حاصل کرنا ہے ‘‘اس میں عموماً چیز بڑھا کر اد ا کی جاتی ہے کیونکہ سلف کا معاملہ کرنے والا قیمت پیشگی ادا کرتا ہے اور سامان ایک مدت کے بعد لیتا ہے ،اورعام طور پر ان چیزوں کی قیمت سستی ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی بھی زیادہ کی صورت میں ہوتی ہےبنسبت اس قیمت کے جو بوقت عقد مقرر ہوتی ہے ۔5 بیع کی بنیادہی بڑھوتری پر مبنی ہے جبکہ قرض کی بنیاد تعاون ہے ۔اسی لئے قرض میں زیادہ وصول کرنا اسےتعاون کے دائرہ کار سے خارج کر دیتا ہے کہ جس کی بنیاد پر قرض کو جائزکیا گیا ہے۔تنبیہ: تاخیر کی بنیاد پرقسطوں کی رقم میں اضافہ کی شرط کا حکم : جب کوئی کہے کہ میں تمھیں یہ گاڑی دس ہزار ریال میں بیچتا ہوںاس شرط پرکہ اگر طے شدہ مدت میں ادائیگی نہ کی تو ایک مہینہ کی تاخیرکی صورت میں ایک سو ریال اضافی وصول کروں گا اور دو مہینے کی تاخیر کی صورت میں دو سو ریال ، اور اسی طرح جیسے جیسے تاخیر ہوتی گئی قیمت بڑھتی رہے گی ۔ یہ معاملہ اور بیع حرام ہے ، جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ( بعینہ ) جاہلیت والا سود ہے ۔فقہ اسلامی اکیڈمی کی قسطوں کے کاروبار کے حوالے سے قرار داد مجلس مجمع الفقہ الاسلامی کاجدہ سعودی عرب میں منعقدہ چھٹے اجلاس جو بمطابق 17 تا 23 شعبان 1410ہجری موافق 14 تا 20 مارچ منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں قسطوں کے کاروبار کے حوالے سے پیش کردہ مقالہ جات سننے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد جو قرارداد طے پائی وہ درج ذیل ہے ۔1نقد کی بنسبت ادھار( قسطوں ) کی بیع پر قیمت بڑھانا جائز ہے جس طرح فروخت کی جانے والی چیز کی نقد قیمت بتانا جائزہے اسی طرح معینہ مدت کی اقساط میں ادائیگی کی قیمت بتانا بھی جائز ہے ۔البتہ یہ بیع اس وقت صحیح ہو گی جب خریدار اور فروخت کنندہ دونوں یقینی طور پر نقد اور ادھار (میں سے کسی ایک)کا سودا کرنے میں سنجیدہ ہوں ۔اور اگر یہ سودا نقد و ادھار میں تردد کے ساتھ واقع ہو کہ کسی ایک قیمت پر یقینی اتفاق نہیں ہوا تو یہ شرعا جائز نہیں ہے ۔2مدت سے مربوط کسی بھی قسم کی بیع میں شرعا یہ جائز نہیں کہ اس معاہدے میں حالیہ قیمت سے قسطوں کے منافع کا الگ سے ذکر کیا جائے جوکہ وقت سے مربوط ہو ۔چاہے فریقین اس منافع کو فیصدی طور پر اتفاق کریں یا اسے مارکیٹ ریٹ سے مربوط کریں۔[1]3خریدار اگر قسطوں کی ادائیگی میں طے شدہ وقت سے تاخیر کرے ۔ تو ایسی صورت میں اس کی قسطوں کی رقم کو کسی صورت بڑھایا نہ جائے گا نہ ہی کسی سابقہ شرط کی صورت میں یا بغیر شرط کے کیونکہ یہ حرام کردہ سود ہے ۔4ایسا مقروض جو ادائیگی کرسکتا ہے اس پر ادائیگی میں سستی کرنا حرام ہے لیکن اس کے باوجود ادائیگی میں تاخیر پر اس پر کوئی مالی جرمانہ نہیں لگایا جائے گا ۔5 بائع کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ خریدار کی طرف سے چند اقساط کی تاخیر سے ادائیگی کے سبب دیگر اقساط کی مدت مختصر کردے ( یعنی وہ قسطیں مقررہ وقت سے پہلے وصول کرے ) بشرطیکہ قرضدار نے بوقت عقد اس شرط پر اتفاق کیا ہو۔6فروخت کنندہ کو معاہدہ کے بعد ملکیت رکھنے کا حق حاصل نہیں البتہ اس کے لئے یہ جائز ہے کہ مشتری پر سامان کے بطور ضمانت گروی رکھنے کی شرط لگا دے تاکہ اس کی تمام اقساط ادا ہوجائیں ۔[2]شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ : جب کسی آدمی کے پاس کوئی سامان ہو اور خریدار اس شخص سے وہ سامان نقد کے بجائے ادھار میں زیادہ قیمت ادا کرکے خریدنا چاہےتو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟انہوں نے جواب دیا :’’ اکثر علماء کے نزدیک یہ جائز ہے اس فرمان الہی کی روسے:} يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ ۭ وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ ۠ { ( البقرہ : 282 )’’ اے ایمان والو جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقررہ پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے‘‘۔اللہ تعالی نے یہاں یہ شرط نہیں لگائی کہ یہ قرض کا معاملہ بس موجودہ قیمت ہی کے ساتھ ہو۔ اسی طرح یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے بھی جائز قرار پاتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے اور مدینہ والے پھلوں میں ایک ، دو سال تک بیع سلم کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"من أسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم"’’ جو شخص پھلوں میں بیع سلف کرے تو اسے چاہیے کہ متعین پیمانہ، متعین وزن اور متعین مدت کے ساتھ بیع سلف کرے‘‘۔
[ابو داؤد : 68متفق على صحته]
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی موجودہ وقت کی قید نہیں لگائی ۔ نیز امام حاکم اور بیہقی نے اسناد جید سے نقل کیا ہے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ ایک لشکر کو تیار کریں اس وقت اونٹ کم پڑ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ خرید لیں صدقہ کے اونٹ آنے تک ۔ اس معنی میں اور بھی دلائل بہت ہیں اسلئے کہ تجارت کا معاملہ ادھار میں صحیح نہیں رہ سکتا الا یہ کہ تاجر مقررہ قیمت سے زیادہ لے اسلئے کہ وہ سارے نقصانات کا پابند ہوتا ہے اور اسلئے کہ بائع قیمت کی زیادتی کے ذریعے ہی فائدہ حاصل کرتا ہے اورخریدار کو چھوٹ میں اور ادائیگی میں آسانی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک تو یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنی ضرورت کی چیز یکمشت خرید لے اگر ادھار میں زیادتی ممنوع ہوتی تو اس سے کئی نقصانات جنم لیتے ۔کیونکہ شریعت کاملہ مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کیلئے اور مفاسد کے ازالے اور ان کو کم کرنے کیلئے آئی ہے ۔اور میں نہیں جانتا کہ اس مسئلے میں کسی نے اختلاف کیا ہو، بلکہ علماء کے کلام میں اس کا جواز و اباحت معروف ہے ۔اور یہ اس وقت ہے جب خرید و فروخت استعمال اور فائدے کے لئے کی جا رہی ہو ۔مگر جب خریدار کوئی چیز اداھار میں اس لئے خریدے تاکہ اس کو نقد میں بیچ کراپنی فوری ضرورت کو پورا کر سکے، جیسے قرض کی ادئیگی ،گھر کی تعمیر ،یا شادی وغیرہ کیلئے،تو اگر یہ معاملہ صرف خریدار کی طرف سے ہے(یعنی ادھار میں بیچنے والا اس معاملہ سے لا تعلق ہو) تو اسکے جواز میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اور اس کا نام مسئلہ التورق اور بعض نے اس کا نام الوعدۃرکھا ہے ۔ اس معاملہ میں زیادہ راجح یہی کہ یہ جائز ہے اور یہ فتوی ہم سابقہ عمومی دلائل کی وجہ سے دیتے ہیں، اس لئے کہ معاملات میں اصل جواز و اباحت ہے الا کہ جس کی حرام ہونے کے حوالہ سے کوئی خاص دلیل ہو،اور ضرورت بھی اس کی متقاضی ہے اس لئے کہ ضرورت مندکو بوقت ضرورت کوئی مدد کرنے والا نہیں ملتااور نہ ہی کوئی اسے قرض کے طور پر کچھ دیتا ہے اور اس وقت اس کی ضرورت بھی سخت ہے جو اسی معاملے کا تقاضا کرتی ہے تاکہ وہ اپنی ضرورت بھی پوری کر لے جو اسکے قرض کی ادائیگی کے راستے کھول دے‘‘
[فتاوی ابن باز رحمہ اللہ19/98]
وصلی اللّٰه و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ أجمعین۔
 
Top