ذیشان خان

Administrator
دعوت دین اور کردار و گفتار کا غازی

حافظ محمد فیاض الیاس الاثری

داعی جس اسلامی انقلاب کی دعوت دے رہا ہو وہی انقلاب اس کے جسم و وجود پر بھی نظر آئے، جس دعوتِ اسلام کے نفاذ کی تلقین و تبلیغ ہواور انہی امور کا نفاذ داعیان اسلام پر بھی دکھائی دے۔داعی سب سے پہلے اپنے عمل کے ذریعہ اپنے قول کی تصدیق کرتا ہے۔قول و عمل میں یکسانیت ضروری ہے۔ کردار و گفتار میں موافقت ناگزیر ہے۔ اسلامی تعلیمات اور ہدایات ربانیہ کا درس دینے والا خود بھی امور خیر وبھلائی کا عملی نمونہ ہو۔ اسلامی اخلاق و عادات کی نصیحت کرنے والا خود بھی اخلاق حسنہ کا پیکر ہو۔ صدق و وفا، شرم و حیا، امانت و دیانتداری کی تلقین کے ساتھ خود داعی بھی اسلامی اوصاف و کمالات کا مجسمہ اور عملی نمونہ ہو۔ حقوق و فرائض کی تعلیم بھی ہو اور عملاً ان کا خود پابندبھی ہو۔ کردار کی بجائے صرف گفتار کے غازی شریعت کی نظر میں قابلِ مذمت اور مطعون ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لاَ تَفْعَلُوْنَoکَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ) (الصف:۱۶/۲،۳)
”اے ایمان والو! تم کیوں وہ کچھ کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے۔ اللہ عزوجل کے نزدیک یہ انتہائی معیوب ہے کہ تم ان امور کی تلقین کرو جو تم خود نہیں کرتے۔“
اس کے ساتھ ہی اللہ عزوجل نے کردار و گفتار کے غازیوں اور عملاً شریک جہاد ہونے والوں کو اپنا محبوب قرار دیا ہے۔ تعمیل کے بغیر صرف تعلیم و تدریس کے داعیان کو اس گدھے کی مِثل قرار دیا گیا ہے جو خود پر لدی کتابوں اور علمی دستاویز سے متاثرہی نہ ہو۔ (الجمعۃ:۲۶/۵)
اللہ عزوجل نے کردارو گفتار میں فرق کرنے والوں کو بے عقل قرار دیتے ہوئے فرمایا:
(اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ اَفَلَا تَعْقِلُوْن)(البقرۃ:۲/۴۴)
”کیا تم لوگوں کو امورخیر کا حکم دیتے ہوئے اور خود کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتابکے قاری بھی ہو۔ کیا تمہیں عقل نہیں۔“
قول و عمل میں عدم مطابقت اور مخالفت شرعا جرم اور معیوب تو ہے ہی ایسا کرنا عقلی طور پر بھی کسی طرح قابل ستائس اور اچھا نہیں۔روز قیامت جہنم میں ایک آدمی کی انتڑیاں باہر نکلی ہوں گی۔انتڑیوں کے گرد آدمی چکر لگا رہا ہوگا۔ جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔اہل نار اکھٹے ہوکر اس پر تعجب کریں گے اور کہیں گے کہ او فلاں! یہ کیا ماجرا ہے، کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہ دیا کرتا تھا اور گناہوں سے منع نہ کیا کرتا تھا؟! وہ آگے سے جواب دے گا:
”کُنْتُ آمُرکُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَاآتِیہِ وَأَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ“ (صحیح البخاری:۷۶۳۲وصحیح مسلم:۹۸۹۲)
”میں تمہیں تو نیکی کا حکم دیا کرتا تھا لیکن خود نہ کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے باز رہنے کی تلقین بھی کرتا تھا لیکن خود کر گزرتا تھا۔“
رسول اللہe نے علانیہ دعوت کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنا عمل و کردار پیش کیا جس پر سب نے بیک زبان جواب دیا: ”مَاجَرَّبْنَا عَلَیْک اِلَّا صِدْقا‘(صحیح البخاری:۷۹۳۴)
”ہم نے تو آپ کو ہمیشہ راست باز ہی پایا ہے۔“
خود رسول اللہe نے اپنے بارے میں فرمایا:
(َ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ) (الانعام:۶/۳۶۱) اولین مسلمان تو میں خود ہوں۔
عمل و قول میں مطابقت انتہائی ضروری ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے۔
”الْعَمَلُ أَبْلَغُ مِنَ الْقَوْلِ“
”گفتار سے زیادہ کردار کا اثر ہوتا ہے۔“
رکن دارالمعارف لاہور
 
Top