ذیشان خان

Administrator
سورج و چاند گرہن اور روہت ہلال

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرطائف
سورج او رچاند دونوں اللہ کی مخلوق اور اس کی عظیم نشانیاں ہیں ، ان دونوں چیزوں میں اللہ نے مخلوق کے لئے سیکڑوں فوائداورمظاہر رکھے ہیں ، ان مظاہر میں سے سورج وچاند گرہن بھی ہے ۔ سورج یا چاند میں گرہن لگنا بطور عذاب ہے ، اللہ تعالی گرہن کے ذریعہ بندوں کو ڈراتا اور اپنی طرف لوٹنے کے لئے تنبیہ کرتا ہےلہذا جب کبھی سورج یا چاند گرہن لگ جائے تو ہمیں نماز اور استغفار کے ذریعہ اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے اور اللہ کے دین کی طرف پلٹ جانا چاہئے ۔
ماہرین فلکیات نے خبردی ہے کہ ہندوپاک میں بعض مقامات پر ۲۶/دسمبر۲۰۱۹ بروز سوموارسورج گرہن لگے گا، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجرد علم فلکیات پر بھروسہ کرکے اس کے اعلان شدہ وقت پر نماز کسوف ادا کی جائے یا آنکھوں سے سورج گرہن دیکھنا ضروری ہے ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ سورج گرہن آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ہی نمازکسوف ادا کی جائے گی کیونکہ یہ نماز کسوف کے دورانیہ میں ادا کی جائے گی اور جب کسوف پیدا ہی نہ ہوتو پھراس کی کوئی نماز نہیں ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازکسوف کی ادائیگی کو اسے دیکھنے پر موقوف کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ(صحیح البخاری: 1040)
ترجمہ: ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبد اللہ نے یونس سے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا، ان سے ابو بکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ سورج کوگرہن لگنا شروع ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اٹھ کر جلدی میں ) چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد میں گئے۔ ساتھ ہی ہم بھی گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تاآنکہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت وہلاکت سے نہیں لگتا لیکن جب تم گرہن دیکھو تو اس وقت نماز اور دعا کرتے رہو جب تک گرہن کھل نہ جائے۔
اس حدیث میں بالکل واضح ہے کہ جب تم سورج وچاند گرہن دیکھو تب نماز پڑھولہذا جو لوگ بغیر دیکھے ماہرین فلکیات کی خبروں پر اعتماد کرکے نمازکسوف یا نمازخسوف ادا کرتے ہیں وہ سنت کی مخالفت کرتے ہیں ۔
یہاں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ سورج یا چاند کی رویت جس خطے میں ہوگی وہیں نمازکسوف یا نماز خسوف ادا کی جائے گی اور جن مقامات پر سورج یا چاند گرہن نہ ہواس خطے والے سورج یاچاند گرہن کی نماز ادا نہیں کریں گے ۔ جو لوگ رمضان المبارک کے چاند کے بارے میں ایک جگہ کی رویت پوری دنیا کے لئے مانتے ہیں وہ بڑی خطا پر ہیں ۔ یہاں رویت سے مراد آنکھوں کی رویت ہے نہ کہ علم یا خبر۔ رویت اصل میں آنکھوں سے دیکھنےکو ہی کہاجاتا ہے البتہ کہیں قرینہ صارفہ ہوتو اس کی الگ بات ہے ۔ اس بات کو ایک دوسری حدیث سے سمجھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سانپ وبچھو دیکھنے پر اسے مارنے کا حکم دیا ہے ، یہ حکم پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ہے ، اب اگر ہند کی کسی مسجد میں سانپ دکھے تو امریکہ والے سانپ نہیں ماریں گے کیونکہ اسے سانپ دکھا ہی نہیں ، اسی طرح روزہ ، عید اور نمازکسوف وخسوف میں رویت کا مسئلہ ہے ۔
 
Top