ذیشان خان

Administrator
علماء امت کے خلاف زبان درازی کی سنگینی

✍: علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ
━═════﷽════━
[ایک منافق نے نبی کریم ﷺ پر زبان درازی کرتے ہوئے کہا: "اعدِل يا محمَّدُ فإنَّكَ لم تعدِلْ..." اے محمد! آپ عدل وانصاف کیجئے، آپ انصاف سے کام نہیں لے رہے ہیں۔
اس حدیث کی شرح میں امام ابن عثیمین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:]
✺ «جب ایک شخص نبی ﷺ سے یہ بات کہہ سکتا ہے تو کسی عالم کے بارے میں لوگوں کی ایسی ویسی باتوں اور اس کی عیب جوئی سے آپ کو تعجب نہیں ہونا چاہئے.
☚‏ کیونکہ علماء کی برائی پر انہیں شیطان ہی آمادہ کرتا ہے، اس لئے جب علماء کی عیب جوئی کریں گے تو لوگوں کے یہاں ان کی باتوں کی اہمیت ختم ہوجائے گی، اور کتاب وسنت کی روشنی میں ان کی قیادت کرنے والا کوئی باقی نہ رہ جائے گا، اور جب لوگ علماء اور ان کی باتوں پر اعتماد نہیں کریں گے تو بھلا ان کی قیادت کون کرے گا؟
☚‏ ظاہر ہے کہ شیاطین اور اُن کے کارندے ہی اُن کی قیادت کریں گے!
☚‏ اسی لئے غیر علماء کی غیبت شخصی غیبت ہوتی ہے، اگر اس کا نقصان ہوا بھی تو غیبت کرنے والے اور جس کی غیبت کی گئی ہے بس اُسی کو ہوگا، جبکہ علماء کی غیبت سے پورے اسلام کو نقصان پہنچے گا، کیونکہ علماء ہی اسلام کے علمبردار ہیں‘ چنانچہ اُن کی باتوں کا اعتبار ساقط ہوگا تو اسلام کا پرچم بھی سرنگوں ہوجائے گا، جس کا نقصان پوری امت مسلمہ کو پہنچے گا.
☚‏ لہذا اگر غیبت سے عام لوگوں کے گوشت مردار ہوجاتے ہیں تو علماء کے گوشت مُردار اور زہر آلود ہوجاتے ہیں، کیونکہ اس کا نقصان بڑا عظیم ہے»

📚: ((علماء کے حقوق:۲۰، شرح ریاض الصالحین:۱؍۲۵٦))
حاجة_الناس_إلى_العلماء
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
 
Top