یہ بے حیائی کیوں؟

تحریر: عمر اثری
نئی تہذیب کی ہوا پوروپی ممالک کے طبقہ نسواں سے ہوتے ہوئے بقیہ ممالک کی طرف روا دواں ہے. فیشن پرستی اور نام نہاد آزادی نے طبقہ نسواں کو تباہی اور بربای کے دلدل میں لا گسیٹا ہے. عفت و عصمت شرم و حیا آج یورپ کی گلیوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی. بچی کچی تھوڑی سی شرم و حیا مسلم ممالک کی گلیوں، کوچوں، محلوں اور بعض مکانوں میں نظر آ جاتی ہے.
اب تو قلم حیا کے سبب اشک ندامت بہاتا ہے. زبان لڑکھڑاتی ہے اور ذہن برجستہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ شرم و حیا عفت و عصمت کو ہم مسلم ممالک کی گلیوں اور کوچوں میں بھی نہ پائیں گے.
آج نوجوان غیر محرم لڑکیوں میں آتے جاتے ہی نہیں بلکہ ہنسی اور دل لگی بھی کرتے ہیں.
آج عورتوں کی نظریں اٹھنے لگیں حالانکہ رب ذو الجلال نے انکو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا تھا:
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں
(سورۃ النور: 31)

سر سے آنچل ہٹنے لگے. بدن کھلنے لگے حالانکہ رب ذوالجلال نے وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ (اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں. سورۃ النور: 31) کہ کر انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے گریبانوں پر دوپٹے ڈالے رہیں.
پیاری بہنو! تم خود سوچو آخر تمہیں اس قدر احتیاط برتنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ تم پر ہی تو آنے والی نسل کی حفاظت اور پرورش کا دار و مدار ہے. کیونکہ ماں ہی کی گود بچے کا سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے. تم میں ذرہ برابر بھی کوئی خرابی پیدا ہو گئی تو نسلیں برباد ہو جائیں گی. تمہارے اخلاق تمہاری عادتیں تمہاری اولاد میں اثر انداز ہونگی. تم جس روش پر انکی پرورش کروگی وہ اسی روش پر چلیں گی. جس بھی حال میں وہ تم کو دیکھیں گی اسی کو وہ اپنائیں گی.
سنو! اور اچھی طرح سے یہ بات ذہن نشین کر لو کہ عفت و عصمت جیسی قیمتی چیز اس پوری کائنات میں نہیں ہے. عفت و عصمت ہے تو سب کچھ ہے. عفت و عصمت نہیں تو کچھ بھی نہیں.
لیکن آج تم کالجوں، پارکوں، شاپنگ مالوں اور سنیما گھروں میں آزادانہ لڑکوں کے ساتھ گھومتی ہو. آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے؟
تم لڑکوں کے ساتھ خلوت میں جانے سے بھی نہیں شرماتی ہو کیا تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں معلوم؟
لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ
کوئی مرد کسی (غیر محرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے
(صحیح البخاری: 3006)

سنو سنو! اور اچھی طرح سمجھ لو تم اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کر کے انھیں کچھ بھی نقصان نہ پہونچا سکو گی. نقصان آخر تمہارا ہی ہے.
تم میک اپ کر کے زیب و زینت کے ساتھ جاہلیت کی روش اختیار کر کے بازاروں میں گھومتی ہو اور وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ (اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اﻇہار نہ کرو. سورۃ الاحزاب: 33) کی صریح مخالفت کرتی ہو. آخر یہ کونسا انصاف کر رہی ہو؟؟؟
اب تو ہوش کے ناخن لو اور خواب غفلت سے پیدار ہو جاؤ اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرو. اگر واقعتا تمہاری زندگی اسلامی زندگی ہے تو رب العزت کا شکر بجا لاؤ اور اگر اسلامی زندگی نہیں ہے تو رب کریم سے توبہ و استغفار کرو اور گناہوں سے باز آ جاؤ.
 
Top