ذیشان خان

Administrator
حدیث (تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ) کا صحیح معنی و مفہوم

✍⁩ فاروق عبد اللہ نراین پوری

حدیث و علوم حدیث

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا،فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ:
[متفق علیہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر:5090/صحیح مسلم، حدیث نمبر:1466]
عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، خاندانی شرف کی وجہ سے، خوبصورتی کی وجہ سے اور دینداری کی وجہ سے۔ تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں شادی بیاہ کے اندر کفائت کے مسئلہ میں یہ حدیث اصول کا درجہ رکھتی ہے۔ نکاح کے وقت کفائت میں کس چیز کا اعتبار کرنا چاہیے اور لوگ کن چیزوں کا اعتبار کرتے ہیں اس بارے میں یہ حدیث ہمیں بہترین رہنمائی کرتی ہے۔کفائت کے متعلق بہت ساری ایسی باتیں عوام کے مابین رائج ہیں جو شریعت کے عمومی مزاج سے ٹکراتی ہیں۔ مثلا زوجین کا مال ودولت، ذات برادری، حسب ونسب، رنگ ونسل اور صنعت وحرفت وغیرہ امور میں ایک دوسرے کا کفو ہونا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ فقہی کتابوں کے اندر بھی بعض ایسے مباحث ہمیں نظر آتے ہیں جن سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ شریعت نے ذات برادری، حسب ونسب، رنگ ونسل اور مال ودولت کے اندر تفوق وبرتری کو بڑھاوا دیا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ذات برادری اور رنگ ونسل کی بنا پر تفوق وبرتری کی جاہلانہ ذہنیت کو اس اعلان کے ساتھ کچل دیا تھا کہ:
”لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى“
[مسند أحمد:38/ 474 حدیث نمبر:23489]
کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، سوائے تقوی کے شریعت کی یہ تعلیم زندگی کے ہر شعبہ کو محیط ہے اور اس میں شادی بیاہ بھی ہے۔زیر بحث حدیث میں آپ ﷺ نے لوگوں کی ذہنیت اور ان کی رغبت کا ذکر کیا ہے کہ عموما شادی بیاہ کے وقت لوگ مال ودولت، خوبصورتی، حسب ونسب اور دینداری کا اعتبار کرتے ہیں۔ ان میں سے انھیں دینداری کو مد نظر رکھنا چاہیے اور اسے ہی اختیار کا معیار بنانا چاہیے۔اس حدیث میں صرف دینداری کو کفائت کا معیار قرار دیاگیا ہے۔ اور باقی چیزوں کے بارے میں لوگوں کی رغبت کی خبردی گئی ہےکہ عموما لوگ ان چیزوں کا اعتبار کرتے ہیں۔ اس حدیث میں ان چیزوں کی طرف دیکھنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اور نہ ترغیب دی گئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ زوجین کے مابین کفائت میں شریعت نے ان چیزوں کا بھی کوئی اعتبار کیا ہے۔اس حدیث کے صحیح معنی کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الصحيح في معنى هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بما يفعله الناس في العادة فإنهم يقصدون هذه الخصال الأربع، وآخرها عندهم ذات الدين، فاظفر أنت أيها المسترشد بذات الدين;[شرح مسلم للنووی:10/51-52)
(اس حدیث کا صحیح معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کی خبر دی ہے جن کا لوگ عموما اعتبار کرتے ہیں۔ شادی کے وقت وہ انھی چار چیزوں کی طرف دیکھتے ہیں اور دینداری ان کے نزدیک سب سے آخر میں ہوتی ہے۔ لہذا اے رشد وہدایت کے طلبگار!دیندار خاتون کے ساتھ کامیاب ہوجا)
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:هذه الأربع الخصال هي المُرغِّبة في نكاح المرأة, وهي التي يقصدها الرِّجال من النساء, فهو خبرٌ عما في الوجود من ذلك، لا أنه أمرٌ بذلك;
[المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم:4/215]
(یہ چار خصلتیں کسی خاتون سے نکاح پر رغبت دلانے والی ہیں اور مرد یہی چیزیں عورتوں میں چاہتے ہیں۔ لہذا اس حدیث میں موجودہ صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے، نہ کہ ان چیزوں کا حکم دیا گیا ہے)
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الذي يقتضيه حكمه صلى الله عليه وسلم اعتبار الدين في الكفاءة أصلا وكمالا، فلا تزوج مسلمة بكافر، ولا عفيفة بفاجر، ولم يعتبر القرآن والسنة في الكفاءة أمرا وراء ذلك، فإنه حرم على المسلمة نكاح الزاني الخبيث، ولم يعتبر نسبا ولا صناعة ولا غنى ولا حرية، فجوز للعبد القن نكاح الحرة النسيبة الغنية، إذا كان عفيفا مسلما، وجوز لغير القرشيين نكاح القرشيات، ولغير الهاشميين نكاح الهاشميات، وللفقراء نكاح الموسرات;[زاد المعاد:5/145]
(آپ ﷺ کے حکم کا تقاضہ یہ ہے کفائت میں اصل وکمال دونوں لحاظ سے دینداری معتبر ہو۔ لہذا کسی مسلمان خاتون کی شادی کافر سے نہ کی جائے اور نہ پاکدامن کی فاسق وفاجر سے۔ قرآن وسنت میں اس کے علاوہ کفائت میں کسی چیز کا کوئی اعتبار نہیں کیا گیا ہے۔ پس مسلمان خاتون کا زناکار بدبخت سے نکاح حرام قرار دیا۔ اور حسب ونسب، پیشہ، مالداری وآزادی کا کوئی اعتبار نہیں کیا۔چنانچہ ایک غلام کے لیے مسلمان اور پاکدامن ہونے کی صورت میں آزاد ،عالی نسب، مالدار خاتون سے نکاح جائز قرار دیا اور غیر قریشیوں کے لیے قریشی خواتین سے ، غیر ہاشمیوں کے لیے ہاشمی خواتین سے اور فقراء کے لیے مالدار خواتین سے نکاح جائز قرار دیا)
یہ ہے اس حدیث کا صحیح معنی ومفہوم، یعنی کفائت میں دینداری کے علاوہ اور کسی چیز کا کوئی اعتبار نہیں۔ البتہ بعض دوسری حدیثوں سے بھی بعض حضرات نے دینداری کے علاوہ دوسری چیزوں کے اعتبار کرنے پر استدلال کیا ہے۔ ذیل میں مختصرا ان کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے:
1 – حسب ونسب اور صناعت وحرفت میں کفائت کا اعتبار کرنے والے بطور دلیل یہ حدیث پیش کرتے ہیں:
العرب أكفاء بعضها بعضا قبيل بقبيل و رجل برجل, والموالي أكفاء بعضها بعضا قبيل بقبيل و رجل برجل إلا حائك وحجام; [السنن الکبری للبیہقی:7/218 حدیث نمبر:13770]
(عرب ایک دوسرے کے کفو ہیں، ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا اور ایک مرد دوسرے مرد کا۔ اور موالی –غلام- ایک دوسرے کے کفو ہیں، ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا اور ایک مرد دوسرے مرد کا سوائے بنکر اور حجام کے)
لیکن اس حدیث سے استدلال صحیح نہیں، کیونکہ یہ سخت ضعیف ہے۔ علامہ ابن عبد البر اور شیخ البانی نے اسے موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے۔ امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: یہ ایک جھوٹی حدیث ہے، اس کی کوئی اصلیت نہیں۔ حافظ ابن حجر نے ”التلخیص الحبیر“ میں اس کے طرق کو جمع کیا ہے اور یہ تمام طرق سخت ضعیف ہیں۔ [دیکھیں: التمھید لابن عبد البر:19/164-165، ارواء الغلیل للالبانی، حدیث نمبر:1869، العلل لابن ابی حاتم:1/412، التلخیص الحبیر لابن حجر:3/336-337]
نیز یہ ان صحیح احادیث کے معارض بھی ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ کفائت میں نسب کا کوئی اعتبار نہیں۔ بطور مثال ملاحظہ فرمائیں:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:أن أبا هند، حجم النبي صلى الله عليه وسلم في اليافوخ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «يا بني بياضة أنكحوا أبا هند»[سنن أبي داود:2/ 233 حدیث نمبر:2102]
(ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم اپنی بچیوں کی شادی کرو)
ابو ہند یہ بنو بیاضہ کے غلام تھے،حجام تھے، لیکن اس کے باوجود نبیﷺ نےمعروف عربی قبیلہ بنو بیاضہ کو حکم دیا کہ انھیں اپنا داماد بنائیں۔
علامہ صنعانی ”سبل السلام“(3/356) میں فرماتے ہیں:”یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کفائت میں انساب کا کوئی اعتبار نہیں“۔
اسی طرح عہد نبوی میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک عالی نسب کی شادی کسی غلام سے ہو ئی ہے۔ مثلا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریشی خاتون تھیں ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو کہ غلام زادہ تھے، قریشی نہ تھے۔ بلکہ نبی ﷺ کے مشورے سے انھوں نے اسامہ سے شادی کی تھی، حالانکہ پہلے ہی ابو جہم اور معاویہ رضی اللہ عنہما جیسے قریشیوں نے شادی کا پیغام دیا ہوا تھا، اس کے باوجود آپ ﷺ نے ان کے حسب ونسب کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک غلام سے شادی کا مشورہ دیا۔ امام نسائی رحمہ اللہ اس واقعہ پر یوں باب قائم کرتے ہیں;باب تزويج المولى العربية; (یعنی ایک غلام کا عربی خاتون سے شادی کرنے کا بیان)
اسی طرح زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو کہ غلام تھے ان کی شادی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر4787]
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن کی شادی بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ [السنن للدار قطنی:3/301-302 والسنن الكبرى للبیہقی: 7/137]
ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس نے سالم مولی حذیفہ کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ کے ساتھ کی۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر:508]
ان تمام واقعات سے یہ آشکارا ہوجاتا ہے کہ کفائت میں حسب ونسب اور ذات برادری کا شریعت نے کوئی اعتبار نہیں کیا ہے۔
علامہ ابن عربی ”عارضۃ الاحوذی“(4/243) نے فرماتے ہیں:
”کفائت میں دین کا انتخاب کرنا چاہیے دنیا کا نہیں۔آپﷺ نے اپنے غلام زید کا اپنی پھپھیری بہن زینب سے شادی کرکے اور مقداد کا اپنی پھپھیری بہن ضباعہ سے شادی کرکے اسے بیان کردیا۔ اسی طرح ابوحذیفہ بن عتبہ نے ہند بنت ولید سے سالم کی شادی کرکے اسے ثابت کردیا“۔
ابو ہند کی حجامت والی حدیث ذات برادری اور حسب ونسب کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ صنعت وحرفت کا بھی کفائت میں کوئی اعتبار نہیں۔
2 – مال ودولت میں کفائت کا اعتبار کرنے والے بطور دلیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:أما معاوية فصعلوك لا مال له; [صحیح مسلم، حدیث نمبر:1480]
(جہاں تک معاویہ کی بات ہے تو وہ فقیر ہیں، ان کے پاس مال نہیں)
لیکن اس سے مال ودولت میں کفائت کے شرط ہونے پر استدلال صحیح نہیں۔ کیونکہ معاویہ کی جگہ آپ نے اسامہ بن زید سے نکاح کا مشورہ دیا، اور وہ کوئی مالدار نہیں تھے بلکہ ایک غلام تھے۔ زیادہ سے زیادہ اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ دینداری میں برابری کی صورت میں اس شوہر کے انتخاب کا مشورہ دیا جائےگا جو تنگ دست نہ ہو، خوشحال ہو۔ نہ یہ کہ شوہر کا مال ودولت میں بیوی کا برابر ہونا شرط ہے۔
اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کا زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ شادی کے ابتدائی ایام میں وہ مالدار نہ تھے بلکہ فقیر تھے۔ اسماء فرماتی ہیں:
تزوجني الزبير، وما له في الأرض من مال ولا مملوك، ولا شيء غير ناضح وغير فرسه[صحيح بخاري:7/35 حدیث نمبر:5224]
(زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی)
اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہے۔ ان کی اہلیہ مالدار تھیں اور وہ فقیر تھے۔ ایک دن وہ نبیﷺ کے پاس آئیں اور دریافت کیں: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے صدقہ کا مال اپنے شوہر کو دوں تو کیا یہ کافی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تمھیں صدقہ اور صلہ رحمی کا دوہرا اجر ملےگا۔[صحیح مسلم، حدیث نمبر:1000]
بلکہ خود آپﷺ محتاج تھے اور ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی معروف مالدار تاجرہ تھیں۔اس طرح کے واقعات بہت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مال ودولت کو کفائت کی شرط قرار دینا صحیح نہیں۔ واللہ اعلم

3۔ حریت میں کفائت کا اعتبار کرنے والے بریرہ اور مغیث کے قصہ سے استدلال کرتے ہیں کہ جب بریرہ آزاد ہو گئیں تو مغیث کے ساتھ رشتہ ازدواج میں باقی رہنا گوارا نہ کیا۔ مغیث روتے اور ان کے آگے پیچھے گھومتے رہتے۔ جس پر آپﷺ نے بریرہ سےرجوع کی درخواست کی۔ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں بس سفارش کر رہا ہوں۔ تو بولیں: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر:5283]
کہتے ہیں: آزاد ہونے کے بعد چونکہ دونوں کے مابین کفائت باقی نہیں رہ گئی تھی اسی لیے آپ نے بریرہ کو الگ ہونے کا اختیار دیا اور رجوع کا حکم نہیں دیا۔
لیکن یہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اگر کفائت شرط ہوتی تو آپ نے سفارش ہی نہ کی ہوتی۔ آپ کا سفارش کرنا اس بات کی دلیل ہے حریت کفائت کی شرط نہیں ہے۔رہی بات رجوع کا حکم نہ دینا اور الگ ہونے کا اختیار دیناتو یہ اس لیے نہیں کہ ان کے شوہر غلام تھے اور وہ آزاد ہوگئی تھیں، بلکہ اگر ان کے شوہر آزاد بھی ہوتے تب بھی انھیں یہ اختیار حاصل تھا اور رجوع کے لیے ان پر زبردستی نہیں کی جا سکتی تھی۔
اس کی تائید ان تمام مذکورہ واقعات سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ آپ نے یا صحابہ کرام نےآزاد عورتوں کا غلام مردوں کے ساتھ نکاح کا حکم دیا یا نکاح کروایا۔
زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر مرد آزاد ہو تو کسی لونڈی سے شادی کی ترغیب نہیں دی جاسکتی، صرف بقدرضرورت اجازت دی جاسکتی ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
ومن لم يستطع منكم طولا أن ينكح المحصنات المؤمنات فمما ملكت أيمانكم من فتياتكم المؤمنات [سورۃ النساء، آیت نمبر:25]
(اور تم میں سے جو مالی لحاظ سے طاقت نہ رکھے کہ آزاد مومن عورتوں سے نکاح کرے تو مومن لونڈیوں سے نکاح کرلے)
لہذا اس مسئلہ میں شرعی رہنمائی یہ ہے کہ دینداری کے علاوہ کسی چیز میں کفائت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اسی کی آپ نے ترغیب بھی دی ہے:
إذا أتاكم من ترضون دينه وخلقه فانكحوه إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد كبير;[سنن ترمذی، حدیث نمبر:1085، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1967،اسے شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔ ارواء الغلیل، حدیث نمبر: 1868]
(جب تمھارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دینداری اور اخلاق سے تم راضی ہوتو اس سے نکاح کردو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں کتاب وسنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہر طرح کی جاہلانہ عصبیت سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 
Top