دل كے مردہ اور زندہ ہونے كے تین نشانیاں ہیں؟

سوال: کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
”تین جگہوں پر اپنے دل کو دیکھو....لگتا ہے یا گھبراتا ہے....
1- قرآن كے سامنے بیٹھ کر دیکھو دل لگتا ہے یا گھبراتا ہے؟
2- ذکر کی مجالس میں بیٹھ کر دیکھو دل لگتا ہے یا گھبراتا ہے؟
3- تنہائی میں بیٹھ کر دیکھو دل اللہ كے لئے تڑپتا ہے یا گھبراتا ہے؟
اگر تیرا دل قرآن سے گھبرائے، اللہ كے ذکر کی مجالس سے گھبرائے، تنہائی سے گھبرائے تو تو اللہ سے مانگ کہ اللہ تجھے دل عطا فرمائے، تیرا دل مر چکا ہے۔

جواب: اسکی کوئی بھی صحیح یا ضعیف سند مجھے نہیں مل سکی۔ مشہور ویب سائٹ ”الدرر السنیۃ“ میں اس کے متعلق لکھا ہے:
ليس بحديث، بل هو من كلام الإمام ابن القيِّم في كتابه ((الفوائد))
”یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ یہ امام ابن القیم رحمہ اللہ کا کلام ہے جو انکی کتاب «الفوائد» میں موجود ہے۔“

گویا کہ یہ سرے سے حدیث ہی نہیں ہے لہذا اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا جائز نہیں۔
ابن القیم رحمہ اللہ سے یہ قول بایں الفاظ مروی ہے:
اطلب قلبك في ثلاثة مواطن: عند سماع القرآن، وفي مجالس الذِّكر، وفي أوقات الخَلوة، فإن لم تجده في هذه المواطن، فاسأل الله أن يمن عليك بقلب؛ فإنه لا قلب لك
”تین مقامات پر اپنے دل کو تلاش کرو:
1- قرآن سنتے وقت
2- ذکر کی مجالسں میں
3- خلوت کے اوقات میں
اگر ان مقامات میں اپنے دل کو نہ پاؤ تو اللہ ﷻ سے دل مانگو کیونکہ تمہارے پاس دل نہیں۔“
(الفوائد لابن القیم بتحقیق الشیخ محمد عزیر شمس: 218)

فائدہ: یہ قول ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس قول کی نسبت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ شیخ ابو عمر اسامہ العتیبی نے وضاحت کی ہے۔

کتبہ: عمر اثری سنابلی
 
Top