سوال: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو لا الہ الاالله الملک الحق المبین کا سو مرتبہ ورد کرے گا تو خدائے عزیز و غالب اسے فقر سے پناہ دے گا ، وحشت قبر کو ختم کرے گا اور اس کو بے نیاز بنا دے گا اور وہ دروازہ جنت پر دستک دینے والا ہوگا۔
اس میسیج کو خوب شیئر کرو. اپنے فون میں روک کر نہ رکھو.
اس حدیث کی صحت کیسی ہے؟؟؟

جواب:
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و حدیث کو دوسروں تک پہنچانا بہت ثواب کا کام ہے. لیکن دوسروں تک پہنچانے سے پہلے اس كے بارے میں تحقیق کرنا بھی ضروری ہے. آپ نے جس حدیث كے متعلق پوچھا ہے وہ صحیح نہیں. یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہے. اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے متنبہ کیا ہے. فرمایا :
لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَلِجِ النَّارَ
ترجمہ: مجھ پر جھوٹ مت بولو۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
(صحیح بخاری: 106)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
قَوْلُهُ: (لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ) هُوَ عَامٌّ فِي كُلِّ كَاذِبٍ، مُطْلَقٌ فِي كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْكَذِبِ، وَمَعْنَاهُ لَا تَنْسِبُوا الْكَذِبَ إِلَيّ
ترجمہ: («لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ» مجھ پر جھوٹ مت بولو) یہ ہر جھوٹے شخص كے سلسلے میں عام ہے، ہر قسم كے جھوٹ میں مطلق ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ میری طرف جھوٹ منسوب نہ کرو.
(فتح الباری)

سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا
مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ: جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے.
(صحیح بخاری: 109)

ان احادیث پر امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب باندھا ہے:
بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے۔ (اس کے متعلق باب).


لہذا کسی بھی چیز کو شیئر کرنے سے پہلے اسکی تحقیق کر لیں. خود اتنا علم نہ ہو تو کسی عالم سے رابطہ کریں.

اب آئیے اس حدیث كے متعلق تفصیل دیکھتے ہیں:
اس حدیث کو حافظ ابو نعیم اصبہانینے حلیة الاولیاء میں «عن سَلْمِ بنِ مَيْمُوْنٍ الخَوَّاص عن مالكِ بنِ أنسٍ» کے طریق سے نقل کیا ہے.
(حلیة الاولیاء: 8/280)

اور سَلْمِ بنِ مَيْمُوْنٍ الخَوَّاص كے متعلق میزان الاعتدال (2/186) میں ہے.
ابن عدی فرماتے ہیں:
ينفردُ بمتونٍ وبأسانيد مقلوبةٍ

ابن حبان فرماتے ہیں:
وكان من كبارِ عُبادِ أهلِ الشامِ ، غلب عليه الصلاحُ حتى غفل عن حفظِ الحديثِ وإتقانهِ ، فلا يحتجُ بهِ

عقیلی فرماتے ہیں:
حدث بمناكير لا يتابعُ عليها

ابو حاتم کہتے ہیں:
لا يكتبُ حديثهُ

اور امام خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں «الفضل بن غانم عن مالك بن أنس كلاهما عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن أبيه عن علي» سے نقل کیا ہے.
(تاریخ بغداد : 14/322)

اور الفضل بن غانم كے متعلق میزان الاعتدال (3/357) میں ہے.
یحیی کہتے ہیں:
ليس بشيءٍ

دارقطني کہتے ہیں:
ليس بالقوي

خطیب کہتے ہیں:
ضعيف

اس حدیث پر محدثین كے اقوال:
اس حدیث پر محدثین نے کلام کیا ہے. چنانچہ حافظ عراقی لکھتے ہیں:
اس حدیث کو مستغفری نے الدعواتمیں اور خطیب نے الرواۃ میں نقل کیا ہے. اور اسکی سند میں الفضل بن غانم ضعیف راوی ہے.

آگے مزید لکھتے ہیں:
اس حدیث کو ابو نعیم نے الحلیة میں نقل کیا ہے. اور اسکی سند میں سلم بن میمون الخواص نامی ضعیف راوی ہے.
(تخریج احادیث احیاء علوم الدین، رقم الحدیث: 1102)

امام دارقطنی فرماتے ہیں:
كلُّ من رواهُ عن مالكٍ ضعيفٌ
ترجمہ: جس نے بھی مالک سے روایت کیا ہے وہ ضعیف ہے.
(لسان المیزان: 6/347)
علامہ البانی نے اس حدیث کو منکر کہا ہے.
(سلسله الضعیفة : 3310)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے. لہذا اسکی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ہے.


واللہ اعلم بالصواب
 
Top