کیا سب سے پہلے دل کا دورہ سعد رضی اللہ عنہ کو آیا؟

سوال:
اسلام میں سب سے پہلے دل کا دورہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو آیا. ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حکم دیا کہ عجوہ کھجور گٹھلی سمیت پیس کر کھاؤ. اسکے بعد تمام زندگی ان کو دل کی تکلیف نہیں ہوئی.
طریقہ: عجوہ کھجور گٹھلی سمیت پیس کر ایک مہینے تک استعمال کریں.
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، تاکہ دل كے مریض اس سے فائدہ اٹھا سکیں.
کیا یہ پوسٹ صحیح ہے؟؟؟

جواب: امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ حدیث نقل کی ہے:
عَنْ سَعْدٍ قَالَ مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي فَقَالَ إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ
ترجمہ: سیدنا سعد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں بہت سخت بیمار ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میری چھاتی کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم دل کے مریض ہو‘ بنو ثقیف کے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ‘ وہ طبابت کرتا ہے‘ اسے چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سے سات کھجوریں لے کر انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ لے اور پھر تمہیں کھلا دے۔“
(ابو داؤد : 3875)
حکم : ضعیف

اسپائلر: حدیث حاشیہ
یہ روایت اگرچہ سندًا ضعیف ہے لیکن عجوہ کھجور میں شفاء ہونے کے بارے میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں ان میں سے حضرت عائشہ کی روایت بھی ہے جو صحیح مسلم (الشربہ حدیث: 2048) میں مروی ہے۔ دوسری زہر اور جادو سے بچاؤ کے لئے اگلی حدیث میں عجوہ کا ذکر ہے جو صحیحین میں مروی ہے۔ تاہم ادویہ تیار کرنا اور مناسب خوراکوں سے استعمال کرانا مہارت کا کام ہے، اسی لیئے حاذق طبیب کی طرف مراجعت ضروری ہے ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”ضعیف ابو داؤد“ میں ضعیف کہا ہے.
جبکہ کچھ محدثین نے اس کی سند کو قوی کہا ہے. ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دل كے مریض كے علاج کا ذکر کیا“ كے تحت اس حدیث کو ذکر کیا ہے، اور شیخ شعیب ارنؤوط نے اسکو قوی کہا ہے. وہ (ابن قیم رحمہ اللہ) اسکے بعد ذکر کرتے ہیں”اور کھجوروں کا بہترین اثر ہوتا ہے اس بیماری پر خاص طور سے جب کھجور مدینہ کی ہو خصوصا عجوہ کھجور.“

کسی بھی حالت میں، اوپر جو بات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ كے بارے میں ذکر کی گئی ہے، جو اپنی بیماری کی شکایت کرتے ہیں، ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ شکایت دل كے دورے کی تھی یا کسی اور بیماری کی اور پھر ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ تجویز جو حدیث میں بیان ہوئی ہے ہر اس شخص كے لیے ہے جو دل کی بیماری کی شکایت کرے، کیونکہ حدیث كے سیاق و سباق میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو یہ بتاتا ہو.
تاہم، اگر ثبوت ہے کہ عجوہ کھجوریں فائدہ مند ہیں اس طرح کی بیماری كے لیے تو پِھر اس کا استعمال جائز ہوگا. قطعِ نظر اس کے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں کیونکہ اصل یہی ہے کہ علاج جائز ہے جب تک کوئی ایسا ثبوت نہ مل جائے جو اسکو ناجائز قرار دیتا ہو.
فتوی لنک
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ سب سے پہلے دل کا دورہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو آیا تھا. کیونکہ حدیث میں دل کے دورے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے.
واللہ اعلم بالصواب
 
Top