وضو كے بعد سورہ قدر پڑھنے کی سنت میں کوئی اصل نہیں ہے، کنز العمال میں ایک روایت ہے:
من قرأ في أثر وضوئه إنا أنزلناه في ليلة القدر كان من الصديقين، ومن قرأها مرتين كان في ديوان الشهداء، ومن قرأها ثلاثا يحشره الله محشر الأنبياء.
ترجمہ: جس نے وضو كے بعد ایک بار سورہ قدر پڑھی تو وہ صدیقین میں سے ہے، اور جس نے دو بار پڑھی تو اسکا شمار شہداء میں ہوگا، اور جس نے تِین بار پڑھی تو اللہ تعالی میدان حشر میں اسکو انبیاء كے ساتھ رکھے گا.

کنزالعمال کے محقق بكري حياني لکھتے ہیں:
لم يثبت حديث صحيح في قراءة سورة القدر عقب الوضوء
ترجمہ: وضو كے بعد سورہ قدر پڑھنے کی کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہیں.

عجلونی ”کشف الخفاء (2566)“ میں کہتے ہیں:
لا أصل له، وكذا الأحاديث الواردة في الذكر عند كل عضو فباطلة. انتهى.
ترجمہ: اسکی کوئی اصل نہیں ہے، اسی طرح ہر عضو (کو دھوتے) وقت ذکر كے سلسلے میں وارد احادیث باطل ہیں. انتہی.

اور شیخ البانی ”سلسلہ الضعیفہ“ میں لکھتے ہیں:
قراءة سورة إنا أنزلناه عقب الوضوء لا أصل له. انتهى.
ترجمہ: وضو كے بعد سورہ «إنا أنزلناه» (یعنی سورہ قدر) پڑھنے کی کوئی اصل نہیں. انتہی.
فتوی لنک
 
Top