ذیشان خان

Administrator
مادی ذہنیت کے حاملین کے پاس عروج کا مفہوم

تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين(آل عمران )
"تم ہی غالب رہو گے،اگر تم ایماندار ہو"

ایمان کے تقاضوں پر کماحقہ عمل آوری مسلمان کی انفرادی زندگی میں اورامت مسلمہ کی اجتماعی زندگی میں مادی و معنوی سرفرازی و سربلندی کے حصول میں کلیدی چابی کی حیثیت رکھتی ہے۔
حقیقی عروج تو ایمان کا،توحید کا،عبادتوں کا،نیک اعمال کا،اخلاق حسنہ کا اور اسلامی کردار کا ہے۔

لیکن مادی ذہنیت رکھنے والے مسلمانوں کے پاس عروج کا مفہوم بھی خالص مادی ہے۔
اگر مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہو جائے ،
دوسری قومیں مسلمانوں کے ماتحت رہیں،
مسلمان علم،سائنس اور ایجادات میں ترقی کریں،
مسلمان عالمی پیمانے پر تجارت و سیاحت کے میدانوں میں ترقی کریں،
مسلمان فن تعمیرات میں شاہکار اور شاندار انداز میں ترقی کریں،
وغیرہ وغیرہ میدانوں میں ترقی کریں،
تو گویا مسلمان عروج پر ہیں،
ایسی مادی ذہنیت رکھنے والے مسلمانوں کے پاس یہی سب کچھ عروج و ترقی کا پیمانہ ہے۔

اس قسم کی فکر اور سوچ رکھنے والوں کے پاس گویا مسلمانوں کے اسلام و ایمان،عقیدہ،عبادت، اخلاق اور کردار کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
مادی عروج کی موجودگی میں سب کُچھ گوارا کیا جائے گا،
دین بیزاری اور دین سے دوری کوئی معیوب چیز نہیں ہوگی،
بلکہ اس کو شخصی آزادی کا نام دیا جائے گا۔
چاہے مسلمان شرک و بدعت، باطل افکار و نظریات اور کبیرہ گناہوں میں ملوث ہو کر زندگی کیوں نہ گزارتے ہوں،
اس کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہوگی۔
غالبا ہندوستانی مسلم بادشاہوں نے یہی سب کچھ گوارا کیا،
اور اکثر مسلم ممالک کے حکمران بھی یہی سب کچھ گوارا کر رہے ہیں،
اور اسی کو عروج و ترقی سمجھ رہے ہیں۔
اس لئے ہندوستانی بادشاہوں نے سوؤں سال حکومت کرنے کے باوجود بھی حق گو علماء کی مدد سے حکومت کی سطح پر مسلمانوں کو عہد صحابہ میں موجود خالص اور صحیح اسلام و ایمان نہیں سکھا پائے،
غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت کی بات تو بہت دور کی کوڑی تھی۔

اور آج بھی اکثر مسلم ممالک حکومتی سطح پر مسلمانوں کو صحیح اسلام سکھانے کی فکر نہیں کر رہے ہیں اور قابل ذکر سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہے ہیں۔
اسی لئے آج ہندوستانی مسلمانوں کی دینی اور ایمانی حالت کا جائزہ لیا جائے،
تو ہم اکثر ہندوستانی مسلمانوں کوشرک و بدعت اور فرائض سے غفلت کا شکار پائیں گے،
اور گناہوں میں ملوث ہو کر اور خواہشات نفس کے بندے بن کر زندگی گزارتے ہوئے پائیں گے۔
اسی قسم کی دین بیزاری اور دین سے دوری کی حالت بہت سے اسلامی ممالک میں بھی ہم پاتے ہیں۔

دین اسلام سے دور ہو کر اور آخرت سے غافل ہو کر مسلمانوں کو جو عروج نصیب ہوگا،
ایسا عروج درحقیقت آخرت کی ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

اللہ تعالٰی أمت مسلمہ کے عوام و خواص کو مادی عروج سے زیادہ ایمانی عروج کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین ۔
 
Top