ذیشان خان

Administrator
صحابہ کرام اور سلف صالحین کا فلم یا سیریل بنانا۔؟

از قلم : عبدالرزاق عبدالنور فیضی
ونچلول مہراج گنج اترپردیش
========================

=== ناجائز و حرام ہے ===

📚 وضاحت 📚

علامہ عبد المحسن العباد (محدث مدینہ) حفظه الله فرماتے ہیں :

کسی جاندار کی فلم بنانا تو ایسے ہی جائز نہیں ہے. اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فلم بنانا تو اور زیادہ ہی برا عمل ہے. دل غم سے، اور آنکھ آنسو سے بھر جاتے ہیں جب ہم یہ سن تے ہیں کہ صحابہ کرام کی فلم بنائی جا رہی ہے. صحابہ کرام کی بنائی گئی فلموں میں صحابہ کرام کی اصلی زندگی سے ہٹ کر دکھایا جاتا ہے. ان فلموں میں صحابہ کو داڑھی کٹائے ہوئے یا عورتوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے یا ان سب غلط حرکت کے علاوہ بہت ساری غلط باتیں ان صحابہ کی طرف منسوب کر کے دکھا دی جاتی ہیں. جس کی وجہ سے ان فلموں کی برائی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
👇🏻
شرح سنن أبي داود للشيخ العباد : درس نمبر 199.

📓 *تشریح* 📓

انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی تصاویر بنانا بالاتفاق حرام ہے۔ اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کی کمپنی ’’الشرکۃ العربیۃ للانتاج السینمائی العالمی‘‘ نے ’’محمد رسول اﷲ‘‘ کے عنوان سے ایک فلم بنانے کا معاہدہ کیا‘ جس کے بعد سعودی عرب کے علماء سے اس کے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کی گئی اور ’’ہیئۃ کبار العلماء‘‘ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فلم بنانے کی حرمت کا فتویٰ جاری کیا۔

اس سے پہلے سعودی لجنۃ دائمہ کے فتاویٰ جات میں بھی انبیاء اور صحابہ کرام کی تصویر کشی کی حرمت و بطلان پر کبار علماء کا فتویٰ شائع ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں مکہ کی تنظیم ’’رابطۃ العالم الاسلامی‘‘ کے ذیلی ادارے مجمع الفقہ الاسلامی نے بھی اپنی فقہی رائے سے امت کو آگاہ کیا تھا کہ انبیاء کی تصاویر اور ویڈیو بنانا مطلقاً حرام اور سنگین جرم ہے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کے نفوسِ قدسیہ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذواتِ مطہرہ جس تکریم اورعظمت وجلال کی حامل ہیں، اس کاتقاضایہ ہے کہ ان مبارک شخصیات کی زندگی کے حالات کو پورے ادب واحترام کے ساتھ پڑھا،سنا اور عملی طور پر اپنایا جائے، اس کے برعکس ان فلموں میں پیشہ ورعام گنہگار انسانوں اوربہروپیوں کو ان مقدس شخصیات کی شکل میں پیش کرکے ان سے مصنوعی نقالی کرائی جاتی ہے،

حالانکہ انبیاء کرام کی نقالی کفر جبکہ صحابہ کرام کی نقالی فسق ہے، پھران مقدس شخصیات کا روپ دھارنے والے بہروپیوں کوعامیانہ لہجے میں پکارا جاتا ہے، ان کے مخالفین کا کردار ادا کرنے والے ایکٹروں کی طرف سے ان پر دشنام طرازی کی جاتی ہے،

انہیں مجنون، شاعر، ساحر، کاہن اور قصہ گو وغیرہ کے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا ہے، فلمی ایکٹرز کی شکل وصورت بھی توہین آمیز ہوتی ہے،

*مثلاً* خشخشی داڑھی اورکلین شیو وغیرہ، تو یہ تمام تر امور ان مقدس شخصیات کی تنقیص وتوہین کے ساتھ ساتھ ان کی پیغمبرانہ، صحابیانہ اور بزرگانہ قدر و قیمت کے منافی امور ہیں، غیرت اور حمیتِ ایمانی کے خلاف ہے، کفر کی ترجمانی ہے،
اوربالآخر نتیجہ کفر ہی نکلتا ہے۔

حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اوردیگر بلند پایہ بزرگ ہستیوں کی حیات ِ طیبہ کے حالات و واقعات کی تصویری فلم بنانا، اور پھر میڈیا کے ذریعے ٹی وی اور انٹرنیٹ وغیرہ پر پیش کرنا نام نہاد متفکرین ومتجددین اوردشمنانِ اسلام کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کابدترین مذاق اڑانے کے مترادف ہے،

ایسی فلمیں بنانا، دیکھنا اور دکھانا ناجائز اور حرام ہے، بلکہ ایمان کاسلامت رہنابھی دشوارہے۔

📍 *واللہ اعلم بالصواب ھذا ما عندی* 📍
*==•==••=••==••==•==••==••==••==*

*جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین*
 
Top