ذیشان خان

Administrator
اہل تقلید کوسلفیت سے خوف کیوں ؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف (مسرہ)

سلفیت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کا طریقہ ومنہج ہے ، سلفی حضرات اسی منہج اور طریقہ کے عین مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں ۔ امت مسلمہ میں سلفی کے علاوہ تمام فرقے، جماعتیں اور مسالک احکام ومسائل میں منہج نبوی اور منہج صحابہ سے منحرف ہیں بلکہ بہت سارے فرق میں عقائد کی گمراہیاں بھی پائی جاتی ہیں اور شرک وبدعات سے تو صرف سلفی ہی پاک وصاف ہیں ۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر میرا یہ ماننا ہے کہ اگر کوئی جماعت دین اسلام کے لئے مخلص ہے ، وہ قرآن وحدیث پر چلنے کا دعوی کرتی ہے اور وہ اپنے دعوی میں سچی اور پکی ہے تو اس جماعت کو بھی سلفی ، اہل الحدیث اورمحمدی کہہ سکتے ہیں مگرکیا آپ کو معلوم ہے کہ اہل تقلیداورخاص مسلک کی تقلیدکرنے والے خود کومحمد ﷺ کی طرف ، صحابہ کی طرف اور محدثین کی طرف نسبت کرکے محمدی، سلفی اور اہل الحدیث کیوں نہیں کہتے ؟ کیونکہ وہ قرآن وحدیث کی تعلیمات سے دور ہیں، اگر وہ دعوی بھی کریں کہ ہم قرآن وحدیث کے ماننے والے ہیں تو وہ اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ دعوی بغیر دلیل کے باطل ہے۔
اسلام کا ایک اہم اصول ہے کوئی دعوی ہم بغیر دلیل کے تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ ہمارا دین دلیل و ثبوت پر قائم ہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
لو يُعطى الناس بدعواهُم ، لادّعَى ناسٌ دماءَ رجالٍ وأموالهُم . ولكن اليمينَ على المدّعَى عليهِ(صحيح مسلم:1711)
ترجمہ: اگر صرف دعویٰ کی وجہ سے لوگوں کا مطالبہ مان لیا جانے لگے تو بہت سوں کا خون اور مال برباد ہو جائے گا لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے ۔
یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ دعوی کرنے والے پر لازما دلیل دینی ہے بغیر دلیل کے کوئی دعوی تسلیم نہیں کیا جائے اور جو کسی معاملہ میں انکار کرے تو اسے قسم کھانی ہے ۔ مدعی کے ذمہ دلیل و برہان دینا ہے اس کی ایک واضح حدیث یہ ہے ۔
البيِّنةُ على المدَّعي واليَمينُ علَى مَن أنكرَ(إرواء الغليل:2685)
ترجمہ:دلیل دینا اس کے اوپرہے جو دعوی کرے اور قسم کھانا اس کے اوپر ہے جو انکار کرے ۔
المہم ،یہ بات صاف ہوگئی کہ اہل تقلید خود کو سلفی ، اہل الحدیث اور محمدی نہیں کہہ سکتے ، وجہ صاف ظاہر ہے۔ ایک ادنی اور معمولی جگہ کی طرف نسبت کرکےدیوبندی اور بریلوی کہلانے پر فخر کرتے ہیں مگر سلفی ومحمدی کہلانے میں خوف کیوں ہے؟ دراصل سلفیت سے انہیں بیر ہے۔ سلف کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں اورقرآن وحدیث کے نام پر خودساختہ ملفوظات پر کاربند ہیں۔
سلفیت ایک صاف وشفاف منہج ہے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمایا ہے اور جس پہ خیرالقرون کے مسلمان چل کردکھائے ہیں ۔ زہے نصیب جو خیرالقرون کا منہج اختیار کرتے ہیں اور وائے بدنصیبی جو بعد کے زمانے والوں کی تقلید کرتے ہیں ۔
نبی ﷺ کا فرمان صادق آرہاہے:اتَّخذ النَّاسُ رؤوسًا جُهَّالًا ، فسُئِلوا فأفتَوْا بغيرِ علمٍ . فضلُّوا وأضلُّوا(صحيح مسلم:2673)
ترجمہ: لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے،ان سے سوالات کئے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے اس لئے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
آج کے زمانے میں اہل تقلید کے سلفیوں کے ساتھ متعصبانہ سلوک ، جاہلانہ رویہ، پرتشدد معاملہ اور مجرمانہ کردارسے ایک بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہوکر ہرکس وناکس پر واشگاف ہوگئی ہے کہ ان کے دل میں منہج سلف پر چلنے والوں کے لئے وہی نفرت وعداوت ہے جو کافروں کے لئے اسلام کے تئیں ہے ۔ اہل حدیث مساجد کا انہدام، اللہ کے پاکیزہ گھروں پر قبضہ، مساجد ومدراس میں موحد وں کے خلاف ناپاک منصوبے ، بستی کے سلفی مسلمانوں کے ساتھ ظلم وزیادتی، دن ورات وہابی کا طعنہ، ان کاسوشل بائیکاٹ ، حکومت کے ناپاک عزائم میں امداد ، معصوموں پر فرضی مقدمات ، اہل حدیث کے خلاف عوام کو مشتعل کرنا،کافروں سے جہاد کی طرح اپنے طلبہ کومناظرہ بازی کا فن سکھانا،سلفیوں سے لین دین، شادی بیاہ حتی کہ ان کے مساجد ومدارس اور ان کی کتابوں سے کلی طور پرعوام وخواص کو دور رہنے کی تعلیم دینا، سلفی مسلمان اور سلفی تنظیم کی طرف دہشت گردی کا انتساب کرنا ، خالص کتاب وسنت کی تعلیم ، ان کی نشر واشاعت اور دعوت وتبلیغ میں رخنہ ڈالنا۔ یہ سارے گھناؤنے کام اگر کافر کرتے تو اس قدر حیرانی نہیں ہوتی جس قدر اکرام مسلم کا درس دینےوالے، نبوی مشن تبلیغ کے نام پر دن ورات، گلی کوچے گھومنے والے کر رہے ہیں ۔
ڈاکٹر ذاکر نائک کو دعوت وتبلیغ سے روکنے، ہندوستان میں ان پر عرصہ حیات تنگ کرنے، انہیں دہشت گرد قرار دینے، ان کے مشن کو دہشت گردی سے جوڑنے اور خالص کتاب وسنت کی تعلیم عام ہونے سے روکنے والے اہل تقلید ہی ہیں ۔ انہوں نے نہ کسی پر ڈاکہ ڈالا، نہ کسی کی دوکان بند کی،نہ کسی پر ظلم وستم کئے، نہ کسی کا گھر اجاڑا، نہ کسی کا قتل کیا۔توحید کی دعوت دینا اگر جرم ہے تو بس ایک یہی جرم کیا جو انبیاء نے بھی کیا ۔ خالص توحید کی دعوت دی، لوگوں کو ایک اللہ کا سجدہ کرنے کی طرف بلایا۔اس کام کی سزا جس طرح انبیاء کو کافروں نے دی اسی طرح کی سزا ڈاکٹر صاحب کو ہندوستان کے سلفیوں سے خائف مسلمانوں نے دی ۔کس قدر کافروں کے اطوار اور آج کے جھوٹے مسلمانوں کے کردار میں مساوات پایا جاتا ہے؟۔
خیر،اللہ کا دین کسی کا محتاج نہیں ہے ، کسی ایک کو دعوت سے روک دینے پر یہ دین مٹے گا بھی نہیں ،اللہ جس سے چاہتا ہے اپنے دین کا کام لیتا ہے اور یہ دین غالب ہوکر رہے گا اگرچہ لوگ دین حق اور منہج سلف سے دشمنی کرتے رہیں۔
انگریزوں نے وطن کا سچا پاسبان اور صحیح معنوں میں اصلی مسلمان سلفیوں کوہی سمجھا اسی لئے انہیں ہی اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھ کر خاص نشانہ بنایااور وہابی کہہ کر پکارا۔ اس وقت نہ صرف ہندوستان میں بلکہ چہار دانگ عالم میں سلفیوں سے کافروں کی اور تمام مسالک کے مسلمانوں کی کھلی اور سخت ترین دشمنی ظاہر کرتی ہے کہ ہم سلفی ہی سچے پکے مسلمان ہیں جو حقیقی طورپر صراط مستقیم پر گامزن ہیں ۔ ہماری خالص توحید کی دعوت سے جہاں کفار خائف ہیں وہیں خودساختہ مسالک پربھی خوف کا گہرا اثر ہے۔ ایک طرف کلمہ توحید پڑھ کر نئے نئے مسلمان اسلام میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں تو دوسری طرف تقلید اور شرک وبدعت سے توبہ کرکے بہت سارے لوگ سچے پکے سلفی بن رہے ہیں ۔ کیوں نہ کافروں کو سلفی سے خوف ہواور کیوں نہ ہم اہل تقلید کی نظر میں دہشت گرد قرار پائیں ؟۔ اپنے ساتھ اس قدر ظلم وزیادتی ہونے کے باوجود ہم نے اہل تقلید کو دشمن کہہ کر نہیں پکارا، نہ کوئی الزام لگایا اور نہ کبھی طعنہ کشی کی،کسی مسجد یا مدرسہ پر قبضہ نہیں کیا، کورٹ کچہری میں فرضی کیس درج نہیں کیا،حکومت کے لئے کسی معصوم کوآلہ کار نہیں بنایا۔ ہم نےہمیشہ اپنے صبر کا دامن وسیع رکھا،طعنہ پہ طعنہ کھاکے بھی زبان پہ حرف شکایت نہیں آنے دیا تاہم آج جب ہندوستانی پارلمنٹ میں مدرسہ سے فارغ التحصیل، سلفی ممالک کے ریالوں سے بدن کا گوشت وپوست بڑھانے والا ، اپنے چہرہ پہ داڑھی کی سنت سجانے والا بدرالدین اجمل نے سربراہان ملک کے سامنے سلفیوں کو دہشت گرد قرار دے کر اپنے مسلکی بغض وعناد کو دوٹوک انداز میں ظاہر کردیا ۔ ہم توجانتے ہی ہیں کہ انہیں سلفیت سے خداواسطے کا بیر ہے،کافروں نے بھی اس کا نظارہ دیکھا ۔ مسلمانوں کے ایسے ہی خوبصورت نظاروں سے کافروں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور ضمیر فروش ملاؤں کے ضمیر کا سودا کرکےپھر سچے مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں ۔
میں آخر میں سلفیت سے بغض رکھنے والوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ایک دن تمہارا سامنا اللہ سے ہونے والا ہے، اسلام کا دعویدار ہوکر مسلمانوں کی ذلت ورسوائی کا سامان بہم پہنچانے والے اس دن کو یاد کرو جب تمہارے کالے کرتوت شرمندگی کے بوجھ تلے تمہیں دبا دے گی۔ کچھ تو رب سے ملاقات کا خوف کھاؤ، اپنے بھائیوں کی گردن پہ کب تک چھری چلاتے رہوگے؟کب تک مسلمانوں کو مسلمانوں سے جدا کرتے رہوگے؟ کب تک اپنے بھائیوں کو کافروں کے ظلم کے حوالے کرتے رہوگے؟ کب تک منہج سلف سے دشمنی نبھاتے رہوگے؟ اللہ نے تمہیں ایک امت بناکر بھیجا ہے ۔ اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کے لئےبھیجا ہے ، کافروں سے جہاد کرنے اور ان پر دین حق پیش کرنے کے لئےبھیجا ہے۔کتاب اللہ اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھامنے کے لئے بھیجا ہے۔ ذرا اپنی تخلیق کا مقصد یاد کرو جسے تم بھول بیٹھے ہو۔ دین میں اپنے ہی بھائیوں کے خلاف سیاسی بازی گری کرنے سے باز آجاؤ۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو ہماری طرح اپنا معیار زندگی بنالو پھر دیکھو ہماری طاقت کتنی مضبوط بن جاتی ہے اور کیسے کافر حکومت ہم سے تھراتی ہے؟۔ اے کاش کہ تم جس طرح محمد ﷺ سے محبت کا نعرہ لگاتے ہو ان سے سچی محبت کرتے اور ان کے پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کرتے ۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو دین حق کی سمجھ دے، انہیں مسلکی منافرت سے دور کرے، عقائد واعمال کی اصلاح فرمادے اور سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے کفارومشرکین پر غلبہ عطا فرمائے ۔ آمین
 
Top