ذیشان خان

Administrator
قیل وقال سے بچیں۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ایک مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ ایک بامقصد زندگی گزارتا ہے، اپنے کام سے کام رکھتا ہے، بےجا کسی چیز میں مداخلت نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اپنا یا کسی دوسرے کا وقت لایعنی چیزوں میں الجھ کر برباد کرتا ہے بلکہ وہ تمام قسم کی فضولیات اور لغویات سے پرہیز کرتا ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ" (سنن ترمذی:2316/صحيح) اچھے مسلمان کی پہچان میں سے اس کا لغو اور بےکار چیزوں کا چھوڑ دینا ہے-
قارئین کرام! اہل ایمان کبھی بھی لغو اور فضول چیزوں میں نہیں الجھتے ہیں بلکہ ایسی جگہوں پر خاموشی سے گزر جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَالذينَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّورَ وَإذَا مَرُّوا بِاللَّغًوِا مَرُّوْا كِرَامََا" (الفرقان:72) مومن وہ لوگ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے ہیں اور جب کسی لغو چیزوں پر ان کا گزر ہوتا ہے توشرافت کے ساتھ گزرجاتے ہیں-
لغو، قیل وقال اور بکواس سے پرہیز کرنا دراصل کامیابی کی پہچان ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغوِ مُعرِضُونَ" (المؤمنون:3) آخرت میں کامیاب وہ لوگ ہیں جو لغو اور بےکار کاموں سے اعراض کرتے ہیں-
فضول اور قیل وقال کو شریعت نے سخت ناپسند کیا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ"(صحیح بخاری:2408) اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کو حرام کیا ہے، بچیوں کو زندہ درگور کرنے، واجب حق کو روک لینے اور بھیک مانگنے کو بھی حرام کیا ہے، اور تمہارے لیے قیل وقال یعنی بکواس، بیجا سوالات کرنے اور مال کو برباد کرنے کو ناپسند کیا ہے-
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کی نگاہ میں قیل وقال سخت ناپسندیدہ عمل ہے، کیونکہ اس میں وقت کا ضیاع ہوتا ہے، قیل وقال اور بکواس سے آدمی اپنا وقار اور رعب کھو دیتا ہے، زیادہ بولنے کی وجہ سے زیادہ غلطی بھی کرتا ہے-
لیکن افسوس صد افسوس! سوشل میڈیا نے قیل وقال، لایعنی، بکواس اور فضول چیزوں کے لیے اپنا مجال کھول رکھا ہے، اور ہم لوگ اس میں خوب غوطہ زن ہوتے ہیں اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، لغو کے چکر میں ہم سے فرائض اور واجبات میں بھی کوتاہی ہونے لگتی ہے یہ بہت ہی تشویشناک پہلو ہے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے وقت کی حفاظت کریں، اپنے وقت کو نیک کام کرنے میں لگائیں، کام کی بات کریں، لغو اور قیل وقال سے بچیں، اسی میں دنیا وآخرت کی عزت اور بھلائی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف کرے اور ہم سب کو ہر قسم کے لغو کاموں سے بچائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top