ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ کے دوران سوئے ہوئے شخص کو جگا سکتے ہیں-؟

از قلم : عبدالرزاق عبدالنور فیضی
نچلول مہراج گنج اترپردیش
========================

📚 *وضاحت* 📚

علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

بہتر یہ ہے کہ دورانِ خطبہ سونے والے شخص کو ہاتھ سے جگایا جائے نہ کہ زبان کے ذریعہ کیوں کہ حدیث میں خطبہ کے دوران بات کرنا منع ہے۔
👇🏻
فتاویٰ ابن باز : ج30 / ص253.

📖 *وضاحت ذرا تفصیل سے* 📖

خطبہ کے دوران کھانا پینا، بات کرنا، سُبْحٰنَ اللہ کہنا ، سلام کا جواب دینا یا نیکی کی بات بتانا حرام ہے۔
👇🏻
بخاری : کتاب الجمعۃ، باب الاستماع الی الخطبۃ: حدیث نمبر 929

خطبہ کے وقت صرف زبان سے خاموشی کافی نہیں، بلکہ سکون و اِطمینان سے بیٹھنا بھی ضروری ہے، کنکر پتھروں سے کھیلنا بھی ممنوع ہے، علماء فرماتے ہیں:

خطبہ کے وقت دامن یا پنکھے سے ہوا کرنا بھی منع ہے، اگرچہ گرمی ہو، اس وقت ہَمہ تَن خطبہ کی طرف مُتَوَجِّہ ہونا ضروری ہے۔
👇🏻
مسلم : کتاب الجمعۃ، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ: حدیث نمبر 875.
فضائل دعا : صفحہ نمبر 117۔119.
بخاری : کتاب الجمعۃ، باب الاستماع الی الخطبۃ: حدیث نمبر 929.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں رقمطراز ہیں :

تمام اہل علم کا کہنا ہے کہ جس شخص کو خطبہ کے دوران کسی اچھے کام کے حکم کی ضرورت پڑے یا غلطی سے روکنے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ اشارے سے یہ کام کر سکتا ہے۔
👇🏻
فتح الباری : حدیث نمبر 934.

اور نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم میں کہتے ہیں:

اس حدیث میں خطبہ کے دوران ہر قسم کی گفتگو کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور کسی کو منع کرنا مقصود بھی ہو تو خاموشی کیساتھ بذریعہ اشارہ منع کرے بشرطیکہ مقابل شخص اشارے سے بات سمجھ سکتا ہو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ کے دوران فضول حرکت کرنے والے شخص کے بارے میں فرمان : (اس کا جمعہ نہیں ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ظہر کی نماز کا ثواب ملے گا، اور نماز جمعہ کے ثواب سے محروم رہے گا۔

چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(جس شخص نے [دوران خطبہ جمعہ] لغو کام کیا، اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں تو اس کا جمعہ [نماز]ظہر بن جائے گا)۔
👇🏻
ابو داؤد : حدیث نمبر 347.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

نضر بن شمیل کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ"لغوت [یعنی: تم نے لغو کام کیا] کا مطلب یہ ہے کہ: "تم اجر سے محروم ہوگئے" یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "تمہارے لئےجمعہ کی فضیلت لغو ہوگئی" ایک قول یہ بھی ہے کہ: "تمہارا جمعہ ظہر میں تبدیل ہوگیا"

میں [ابن حجر] کہتا ہوں کہ: لغت کے اعتبار سے یہ تمام اقول قریب ترین ہیں، اور آخری قول کے لیے ایک شاہد ابو داود اور ابن خزیمہ نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ: (جس شخص نے لغو کام کیا، اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں، تو اسکا جمعہ ظہر بن جائے گا) اس حدیث کے ایک راوی ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ : "اس کی نماز تو ہو جائے گی، لیکن جمعہ کی فضیلت سے محروم ہو جائے گا۔
👇🏻
فتح الباری : ج2 / ص414.

🕋 *مسائل کا استنباط ضروری ہے سمجھنے کے لیے :*

*_قابلِ توجہ_*

کسی صحیح مقصد کیلئے تھوڑی بہت حرکت لغو اور فضول کام میں شمار نہیں ہوگی، اور دورانِ خطبہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس لئے نماز جمعہ کیلئے آنیوالے افراد پر ضروری ہے کہ شعائر الہی کی تعظیم کریں، اور اس کیلئے اپنے اعضاء کو فضول حرکتوں، اور زبان کو گفتگو سے پاک رکھیں، وگرنہ اسے گناہ ہوگا، اور اس کا جمعہ ظہر میں تبدیل ہو جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب ھذا ما عندی
==•==••=••==••==•==••==••==••==

جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
 
Top