ذیشان خان

Administrator
کیا کوئی ایسی آیت یا دعا ہے جسے پڑھ کر گم شدہ چیز کو واپس لایا جا سکتا ہے۔

از قلم : عبدالرزاق عبدالنور فیضی
نچلول مہراج گنج اترپردیش
========================

📚 وضاحت 📚

کوئی آیت یا حدیث اور دعاء پڑھ کر گم شدہ چیز کے بارے میں پتہ نہیں کیا جاسکتا، اور جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ آیت، حدیث یا دعاء وغیرہ پڑھ کر گم شدہ چیز کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ چیز کس کے پاس یا کہاں ہے تو ایسا آدمی کاھن ہے۔
👇🏻
فتاویٰ اللجنة الدائمة المجموعة الأولى : ج1 / ص608.

اس سلسلے میں ایسی کوئی آیت یا دعا نہیں ملتی ہے، اور ہاں جتنی دعائیں ملتی ہیں، وہ ساری ضعیف اور موضوع ہیں۔

ضرورت کے وقت صرف یہ دعاء بتکرار پڑھیں :

يَا هَادِيَ الضَّالِّ، وَرَادَّ الضَّالَّةِ ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِعِزَّتِكَ وَسُلْطَانِكَ فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ

*ترجمہ-:* یا اللہ ! اے گمشدہ چیز کے لوٹانے والے، گمراہوں کو راستہ دکھانے والے، تو ہی گمراہی میں راستہ دکھاتا ہے، میری کھوئی ہوئی چیز اپنی عزت اور سلطنت کے وسیلے سے لوٹا دے، کیونکہ وہ تیری ہی عطا اور فضل سے ہے۔
👇🏻
المعجم الکبیر : ج12 / ص13289.
الاوسط : حدیث نمبر 4626.
والصغیر : حدیث نمبر 660.

کیا اسے مسنون دعا سمجھ کر پڑھیں یا صرف مجربات کے اوپر خیر کا گمان کر کے پڑھیں‌۔؟

مسنون نہیں، بلکہ صرف ایک دعاء کے طور پرپڑھیں :

جو چاہیئے صرف اللہ سے مانگو۔

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

*ترجمہ-:* (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ یقیناً میں(اُن کے ) قریب ہوں، جب (کوئی)مجھے پکارتا ہے (دُعا کرتا ہے ، سوال کرتا ہے) تو میں دُعا کرنے والے کی دُعا قُبُول کرتا ہوں، لہذا (سب ہی) لوگ میری بات قُبُول کریں اور مجھ پر اِیمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پا جائیں۔
👇🏻
سورہ البقرہ : آیت نمبر 186.

صحیح حدیث کے الفاظ ہیں کہ :

عن النعمان بن بشير، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: *«الدعاء هو العبادة»* ، ثم قرأ هذه الآية: *{ادعوني أستجب لكم، إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين*۔

*ترجمہ-:* النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ۔۔۔دُعا عِبادت ہی ہے ، اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ قول تلاوت فرمایا :(وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ۔۔اور تُمہارا رب کہتا ہے کہ مجھ ہی سے مانگو ، میں (ہی) تمہارے لیے (تمہاری دُعائیں) قُبول کرتا ہوں ، یقیناً جو لوگ میری (یہ)عبادت( کرنے)سے تکبر کرتے ہیں وہ جلد ہی ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے )
👇🏻
سورہ غافر : آیت نمبر 60.
صحیح ابن حبان : حدیث نمبر 890.

ضروری بات ملاحظہ فرمائیں

حاصل کلام یہ معلوم ہوا کہ صحیح نصوص سے کوئی آیت یا دعا ایسی نہیں ہے، جو سلف صالحین سے ثابت ہو۔
رہی بات ان لوگوں کی جو اس طرح کے عملیات وظائف کرتے اور بڑھتے ہیں، یا تو وہ کاہن ہیں، یا پھر شریعت محمدیہ سے بغاوت کرنے والے مشرک ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب ھذا ما عندی
==•==••=••==••==•==••==••==••==

جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
 
Top