ذیشان خان

Administrator
محدث یا خادم حدیث کہنا کافی ہے۔

✍🏻 : حافظ عبد الحسیب عمری مدنی

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر ضیاءالرحمن اعظمی -رحمہ اللہ و جعل الجنة مثواه- سے اللہ نے خدمت حدیث کا غیر معمولی کام لیا بلکہ تمام صحیح احادیث کو ایک کتاب میں یکجا کرنے کے اس عظیم کارنامے میں وہ سب پر سبقت لے گئے تاریخ اسلام میں یہ سبقت اور سعادت کسی اور کے حصے میں نہ آئی نہ آئیگی ۔اب جو بھی آئیگا وہ دوسرا ہی ہوگا ۔
لیکن أمير المؤمنين في الحديث فن حدیث کا سب سے اعلی لقب ہے جو خاص صفات کی حامل معدودے چند نابغہ روزگار شخصیات کو دیا گیا ہے کیونکہ اس کے لئے مطلوبہ صفات میں بنیادی طور پر لاکھوں احادیث کے ساتھ رجال کے حالات اور علل کا ازبر ہونا ضروری ہے ۔۔
محدثین نے اس سے کم تر درجہ کے القاب جیسے الحافظ الحجة کے لئے شرط رکھی ہے کہ وہ کئی کئی لاکھ حدیثوں کے حافظ ہوں ۔۔
ڈاکٹر صاحب نے الجامع الکامل کا عظیم کام انجام دیا ہے اس میں شک نہیں کہ ان تمام جزئیات سے "واقف" ضرور ہیں تاہم شیخ رحمہ اللہ ان چیزوں کے "حافظ" نہیں تھے ۔ جو برجستہ کسی بھی حدیث کی اسانید رجال اور علل کے بارے میں فی الفور اپنے حافظہ سے بیان کرسکیں ۔
عصر حاضر میں شیخ البانی رحمہ اللہ اس باب میں مہارت رکھتے تھے مگر جہاں تک میری محدود معلومات ہیں شیخ البانی کو بھی أمير المؤمنين في الحديث کا لقب نہیں دیا گیا اس کے بجائے محدث العصر کے لقب پر اکتفاء کیا گیا ۔۔
مختصر یہ کہ أمير المؤمنين في الحديث کے لئے مطلوبہ پوری صفات شیخ کے اندر نہیں تھی ۔
لہذا شیخ کو خادم حدیث یا محدث کہنا کافی ہوگا۔

والله أعلم
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
 
Top