ذیشان خان

Administrator
میزان برحق ہے۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
میزان عربی زبان کا مشہور لفظ ہے جس کے معنی ترازو کے ہیں، ایک میزان تو دنیا میں ہے جس میں کھانے پینے وغیرہ کی اشیاء وزن کی جاتی ہیں، اور ایک میزان کل قیامت کے دن حشر کے میدان میں قائم کیا جائے گا جس میں بندوں کے اعمال تولے جائیں گے، اس میزان کا تعلق عقیدہ سے ہے، اور یہ برحق ہے، لیکن بعض لوگوں نے اپنی عقل کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے میزان کا انکار کیا ہے، جیسے معتزلہ اور خوارج وغیرہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میزان میں کیسے اعمال (روزہ، نماز، صدقہ وغیرہ) کو تولا جائے گا، یہ بات عقل میں نہیں آتی ہے، بس عقل کو بنیاد بنا کر ان لوگوں نے میزان کا انکار کر دیا ہے، جب کہ بہت ساری چیزیں ہیں جن کا تولنا ماضی میں بہت مشکل تھا، مگر انہیں اب تول لیا جاتا ہے جیسے ہوا، بھاپ، بخار، ٹمپریچر، گاڑی کی رفتار، بارش وغیرہ، تو اللہ جو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے تو وہ بندوں کے اعمال کو کیوں نہیں تول سکتا ہے-
قارئین کرام! میزان کے ثبوت میں قرآن وحدیث کے بہت سارے دلائل ہیں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ" (الأنبياء:47) اور ہم حق کے ساتھ میزان کو قیامت کے دن قائم کریں گے-
سورہ قارعہ میں اللہ نے فرمایا: "فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ، فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ، وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ، فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ، نَارٌ حَامِيَةٌ" (القارعة:6-11) جس (کی نیکی) کا پلڑا بھاری ہوگا، تو وہ خوشی کی زندگی میں ہو گا، اور لیکن وہ شخص جس (کی بدی) کا پلڑا ہلکا ہوگا، تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے، اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے، وہ ایک سخت گرم آگ ہے-
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ" (صحیح بخاری:7563) دو کلمے رحمن کو بہت پیارے ہیں، وہ دونوں زبان پر نہایت آسان اور ہلکے ہیں اور میزان پر بہت بھاری اور وزنی ہیں، (دونوں کلمے یہ ہیں) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ"-
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ"(2002/صحيح ) میزان میں حسنِ اخلاق سے بڑھ کر کوئی اور چیز وزنی ثابت نہیں ہوگی-
ان دلائل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میزان برحق ہے، جس میں اعمال کو تول کر بندوں کا فیصلہ ہوگا، جس کی نیکی زیادہ ہوگی وہ جنت میں جائے گا اور جس کی بدی زیادہ ہوگی وہ ہلاک ہوگا، اور وہاں کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، ایک نیکی دینے کے لیے کوئی آگے نہیں آئے گا، اس لیے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے ہم خوب نیکی کر لیں تاکہ ہمارے میزان میں نیکی غالب رہے اور ہم کامیاب ہو جائیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا وآخرت میں کامیاب کرے اور ہمارے میزان کو نیکیوں سے بھر دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top