ذیشان خان

Administrator
اللہ کی نعمت ظاہر کریں۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
سماج میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو درحقیقت مالدار ہوتے ہیں لیکن مالدار ہونے کے باوجود بھی پھٹیچر کی طرح زندگی گزارتے ہیں، اپنے طرز زندگی سے لوگوں کو غریب بتانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ سوچ انتہائی غلط ہے، اس لیے کہ جب اللہ نے ہر قسم کی دولت سے نوازا ہے تو اس پر شکر ادا کرنا چاہیے، نعمت کو خالق حقیقی کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور یہ اقرار کرنا چاہیے کہ یہ اللہ کی نعمت ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ" (الضحى:11) اور تم اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرو-
قارئین کرام! جب نعمت ملے اور دولت ہاتھ آئے تو اسے اپنی ذات پر اعتدال کے ساتھ خرچ کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ رب العالمین اپنی نعمت کا اثر بندوں پر دیکھنا پسند کرتا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ" (سنن ترمذی:2817/حسن صحيح) بیشک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے اوپر نعمت کا اثر دیکھے یعنی آدمی اپنی دولت کو اپنے اوپر خرچ کرے، اچھا پہنے اور اچھا کھائے-
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابو الأحوص کے والد کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے دیکھا میں اس وقت بوسیدہ لباس میں تھا، رسول نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس مال ہے میں نے کہا جی ہاں، ہر طرح کا مال میرے پاس ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا دیکھو جب اللہ تمہیں مال دے تو اس کا اثر تمہارے اوپر دکھنا چاہیے یعنی تمہیں اچھا لباس وغیرہ پہننا چاہیے- (سنن نسائی:5223/صحیح)
نعمت کا صحیح استعمال یہی اصل شکرگزاری ہے، لیکن اگر کوئی شخص اپنی دولت کا صحیح استعمال نہ کرے اور اپنی ذات پر خرچ نہ کرے، اپنے لباس اور اپنی چال چلن سے مفلسی کا اظہار کرے تو یہ نعمت کی ناقدری اور ناشکری کی سب سے بڑی دلیل ہے، اس لیے جب اللہ کی نعمت ملے تو اچھا لباس پہننا چاہیے، اچھا کھانا چاہیے، اچھے مکان میں رہنا چاہیے، اچھی زندگی گزارنا چاہیے، لیکن شرط یہ ہے کہ چال چلن اور پہناوے میں تکبر اور گھمنڈ نہیں آنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ" (صحيح مسلم:275) اللہ تعالیٰ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ظاہری زیب وزینت اختیار کرنا، اچھی طرح زندگی گزارنا، عمدہ لباس پہننا اسلام میں کوئی معیوب نہیں ہے، بلکہ یہ بھی اسلام کا ایک سبق ہے، اور رب کی شکرگزاری کا بنیادی حصہ ہے، لہٰذا اس بابت ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نعمت کا صحیح استعمال ہو سکے اور رب کا شکر بھی ادا ہو جائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نعمت کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top