ذیشان خان

Administrator
بیٹے کے تئیں والد کی ذمہ داریاں۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
اس وقت مادیت کا اس قدر غلبہ ہے کہ اب لوگوں کو اپنے حقوق وفرائض کی کچھ معرفت نہیں ہے، بس دنیا کی چاہت سب کو ہے لیکن ہم پر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں، اس کی کچھ فکر نہیں ہے، اسی وجہ سے آج اپنے قریبی رشتوں میں خلل واقع ہے، خلش اور رنجش کا طوفان روز بروز بڑھتے ہی جا رہا ہے، آج کے سماج میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے بچوں کے تئیں والد کی ذمہ داریاں، آج بچوں کے حقوق ادا نہیں کیے جا رہے ہیں، بچوں کی تربیت کے نام پر کھلواڑ کیا جا رہا ہے، ایک باپ یہ سوچتا ہے کہ میرا بیٹا جلد از جلد زیادہ سے زیادہ پیسہ کمائے، جو بیٹا جتنا زیادہ والد کو پیسہ دے لے جائے وہی محبوب ہے، یہ سوچ ایک صالح آدمی کی ہوہی نہیں سکتی ہے، تربیت اسے نہیں کہتے ہیں، تربیت کا یہ پہلو بہت خطرناک ہے، ایک باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نیک بنائے، صالح بنائے، دین سکھائے، پڑھنا لکھنا سکھائے، یہ تربیت ہے، آئیے آج یہ جانتے ہیں کہ اولاد کے تئیں والد کی ذمہ داریاں کیا ہے؟ میں چند اہم فرائض کو یہاں سرسری طور پر ذکر کر رہا ہوں-
1) اپنے لیے نیک بیوی کا انتخاب کرنا تاکہ ماں اپنے بچے کو بھی نیک بنا سکے-
2) پیدائش کے ساتویں روز عقیقہ کرنا-
3) پیارا اور اچھا نام رکھنا-
4) ختنہ کرانا-
5) کھلانا پلانا، پہنانا اور دوا علاج کرانا، اپنی اولاد کی صحت کا خیال رکھنا-
6) پڑھانا لکھانا-
7) پیار دینا، لاڈ کرنا-
8) دین سکھانا-
9) اولاد کے مابین انصاف کرنا-
10) وقت پر جلد شادی کرانا-
11) ہنر سکھانا اور کام (کاروبار) پر لگانا-
12) اپنی اولاد کی معاشی حالت مضبوط بنانا-
13) اپنی اولاد کی عزت وتكريم کرنا ان سے رائے مشورہ لینا-
14) اللہ سے نیک اولاد کی دعا کرنا-
15) اپنی اولاد پر احتسابی نظر رکھنا-
16) بچوں کو اچھے دوستوں کی صحبت میں رکھنا، بری صحبت سے بچانا-
17) اپنی اولاد کو موبائل کے فتنے سے دور رکھنا-
18) ہمیشہ اپنی اولاد کی ترقی اور بھلائی کے واسطے دعائیں کرنا-
19) اولاد کی غلطیوں کو نظر انداز کر دینا-
20) اپنی اولاد سے زیادہ مال کا مطالبہ نہ کرنا-
یہ کچھ حقوق ہیں جنہیں ادا کرنا ایک والد پر فرض ہے اس میں کمی وکوتاہی کرنا ناقابل برداشت ہے، کل قیامت کے دن ان حقوق کے بارے میں پوچھا جائے گا، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ ومَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، والرَّجُلُ في أهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" (صحیح بخاری:2409) ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا، حاکم وقت ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے متعلق پوچھا جائے گا-
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی اولاد کی حفاظت کریں، انہیں سنبھال کر رکھیں، ان کی اچھی تربیت کریں، اور دین دار بنائیں، تب یہ بچے بڑھاپے میں سہارا بنیں گے اور مرنے کے بعد صدقہ جاریہ، لیکن اگر ہم نے ان کی صحیح تربیت نہیں کی تو ہم خود اپنے بچوں سے پریشان ہوں گے، سارے لوگوں کی شکایات ہمارے پاس آئیں گی، بچوں کی وجہ سے کورٹ کچہری اور پولیس اسٹیشن دوڑنا پڑے گا اور پھر افسوس کرتے ہوئے یہ کہنا پڑے گا اس بگڑی اولاد سے بہتر تھا کہ اولاد ہی نہ ہوئی ہوتی والعياذ باللہ! اس لیے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دینا چاہیے، اور اولاد کے تئیں کبھی سستی اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے، اللہ ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top