ذیشان خان

Administrator
اس عظیم سنت کو بھی زندہ کریں۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
رات کی نیند قربان کرکے، نرم وگرم بستر چھوڑ کر قیام اللیل اور تہجد کا اہتمام کرنا، دنیا جہاں سے کٹ کر رب سے سرگوشی کرنا یہ بہت بڑی عبادت ہے، اس کا بہت بڑا ثواب ہے، کیونکہ اس میں شدید مشقت ہے، اور مزید تنہائی کی عبادت اخلاص کی دلیل ہوتی ہے، اس لیے کوشش کرنا چاہیے کہ رات کا کچھ حصہ عبادت میں ضرور گزارنا چاہیے گرچہ دو ہی رکعت کیوں نہ ہو، لیکن عام لوگوں کے لیے یہ مشکل کام ہے مگر شادی شدہ جوڑوں کے لیے نہایت آسان ہے، کیونکہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو وقت پر جگا سکتے ہیں، اور حدیث میں جگانے کا ایک بہترین ادب بتایا گیا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رَحِمَ الله رجلََا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى وَأيْقَظ امْرَأتَهُ، فَإنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا المَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امرأةََ قَامَتْ مِنَ اللَّيلِ، فَصَلَّتْ وأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وجْهِه المَاءَ" (سنن ابوداؤد:1307/حسن صحيح) اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے-
اور اسی طرح امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سنن میں یہ باب قائم کیا ہے، "بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَيْقَظَ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ" رات میں عبادت کے واسطے بیوی کو جو جگائے اس کا بیان۔ اور یہ حدیث نقل کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إذَا اسْتَيقَظَ الرَّجُلَ مِنَ اللَّيْلِ وَأيْقَظَ امْرَأتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كثيرًا والذَّاكِرَاتِ" (صحیح سنن ابن ماجہ:1098) جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی جگائے، اور دونوں رات میں دو رکعت نماز پڑھیں، تو ان دونوں کو ذاکرین اور ذاکرات (یعنی بکثرت اللہ کو یاد کرنے والوں) کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے-
دونوں حدیث کا مستفاد یہ ہے کہ رات میں قیام کریں، اپنی نیند قربان کریں، اللہ کا تقرب حاصل کریں، خود جاگیں اور اپنی اہلیہ کو بھی جگائیں، اگر اس کی نیند نہ کھلے تو اس کے چہرے پر پانی کا چھینٹا ماریں، اور محبت سے جگائیں، یہ عبادت بھی ہے اور بیوی کی تربیت بھی ہے، اس راستے سے اللہ کی رحمت، مغفرت اور برکت حاصل ہوگی، گھر اور زندگی میں سکون واطمئنان نصیب ہوگا-
افسوس ہم نے اس مبارک سنت کو چھوڑ دیا ہے، سنت اور نفل کے متعلق گفتگو ہی مت کیجیے اب تو لوگ فرض نماز نہیں پڑھتے ہیں تو قیام کہاں سے کریں گے، گھروں میں جب کبھی نماز کی پابندی نہ ہو، قرآن کی تلاوت نہ ہو، تو گھروں میں اختلاف، انتشار، انارکی ہی پھیلے گی اور آج یہی ہو رہا ہے، خانہ جنگی گھر گھر کا سنگین فتنہ بنتا جا رہا ہے، گھر تباہ ہو رہا ہے بچے بگڑ رہے ہیں، اولاد میں بغاوت جنم لے رہی ہے، یہ نماز سے غفلت برتنے کی سزا ہے، اس کے برعکس نماز پڑھنے سے ہر چیز میں برکت، سکون اور اطمینان ملتا ہے، لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ ہم نماز کی پابندی کریں اور نوافل کی ادائیگی میں سبقت کریں، قیام اللیل کا اہتمام کریں، اللہ ہم سب کو توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top