ذیشان خان

Administrator
نماز سے متعلق چند سوالوں کے جواب

جواب از شیخ مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)
(1)اگر چار رکعات فرض نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول جائیں اور سیدھے کھڑے ہو جائیں تو کیا سجدہ سہو ادا کرنے سے نماز درست ہوجائےگی؟
جواب : نماز کا پہلا تشہد واجب ہے اور واجب چھوٹنے پر سجدہ سہو لازم آتا ہے ۔ اس میں تھوڑی تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ اگرکوئی تشہد بھول کر کھڑا ہونے لگے اور بالکل سیدھا ہونےسے پہلے یاد آجائے کہ وہ تشہد نہیں کیا ہے تو تشہد میں لوٹ جائے ایسی صورت میں سجدہ سہو نہیں ہے لیکن اگر سیدھا کھڑا ہوچکا ہو یا تیسری رکعت کے لئے قرات شروع کردیا ہو تب تشہد بھولنے کا خیال آئے تو اب تشہد میں واپس نہیں لوٹنا ہے بلکہ نماز مکمل کرنی ہے اور سلام پھیرنے سے قبل دوسجدے سہو کے واسطے کرنے ہیں ۔ ان باتوں کی دلیل ملاحظہ فرمائیں :
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ, فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ(صحيح أبي داود:1036)
ترجمہ: سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب امام دو رکعتوں پر کھڑا ہو جائے اور صحیح سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے ہی اسے یاد آ جائے تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے ( اور تشہد پڑھے ) اور اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے بلکہ سہو کے دو سجدے کرے ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ, كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ, وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.(صحيح أبي داود:1035)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ ابن بحینہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور کھڑے ہو گئے ‘ بیٹھے نہیں ۔ پس لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل فرمائی اور ہمیں آپ ﷺ کے سلام کہنے کا انتظار تھا ‘ آپ نے تکبیر کہی اور دو سجدے کیے جبکہ آپ ( تشہد میں ) بیٹھے ہوئے تھے ‘سلام سے پہلے ۔ ان کے بعد سلام پھیرا ۔
(2)اگر چوتھی رکعت کے بعد بیٹھنا بھول گئے پانچویں کے لئےکھڑے ہوگئے اور پھر یادآ گیا تو بیٹھ سکتے ہیں یا رکعت پوری کریں گے؟
اس سلسلے میں سجدہ سہو کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اگر کوئی جہل یا نسیان کی وجہ سے چار رکعتوں والی نماز میں آخری قعدہ میں نہ بیٹھ کر پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے تو اس کی ایک صورت تو یہ ہےکہ اسے اس زیادتی کا علم دوران نماز ہی ہوجائے مثلا قرات یا رکوع کے درمیان تو فورا قرات یا رکوع چھوڑ کر واپس قعدہ میں بیٹھ جائے اور پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور دوسری صورت یہ ہےکہ نماز مکمل کرنے کے بعد زیادتی کا علم ہو تو بھی سلام کے بعد سجدہ سہو کرے ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ(صحيح البخاري:1239)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ ظہر کی پانچ رکعات پڑھیں۔ آپ سے عرض کیا گیا: آیا نماز میں کچھ اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "وہ کیا؟" عرض کیا گیا: آپ نے پانچ رکعات پڑھی ہیں۔ تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔
نماز میں زیادتی سے متعلق ایک بات یہ یاد رکھیں کہ عمدا زائد رکعت ادا کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے، مقتدی کو معلوم ہوکہ امام زائد رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا ہے تو سبحان اللہ کے ذریعہ متنبہ کرے اور دوسری بات یہ ہے کہ نماز میں زیادتی کا شک ہوجائے یا واقعی زیادتی ہوگئی ہو جو عمدا نہ ہو بلکہ جہل اور نسیان کی وجہ سے ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو ہوگا۔
(3)چاررکعات کی نماز میں دوسری رکعت میں غلطی سے پورا درود اور دعا پڑھ کر سلام مکمل پھیرا ہی تھا کہ یاد آیا چاررکعات پوری نہ ہوئی تو بعد از سلام کھڑے ہو کر بقیہ دورکعتیں پڑھ سکتے ہیں یا پوری نماز ادا کریں گے؟
جواب : اگر کوئی بھول کر چار رکعتوں والی نماز میں دو رکعت پر ہی سلام پھیردے اورمعلوم ہو کہ ابھی ہم نے دو ہی رکعت پڑھی ہے تو پھر سے صرف دو ہی رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے قبل سجدہ سہو کرے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَقَصَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَحَقٌّ مَا يَقُولُ قَالُوا نَعَمْ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنْ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(صحيح البخاري:1240)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا: "آیا ذوالیدین صحیح کہتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: ہاں (صحیح کہتا ہے)۔ اس کے بعد آپ نے دو رکعتیں مزید پڑھیں، پھر دو سجدے کیے۔ (راوی حدیث) سعد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عروہ بن زبیر ؓ کو دیکھا، انہوں نے نماز مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر گفتگو بھی کی، اس کے بعد بقیہ نماز ادا کی اور دو سجدے کیے اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسے کیا تھا۔
 
Top