ذیشان خان

Administrator
واقعہ فیل اور چند دروس۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
یمن کا بادشاہ ابرہہ بن صباح حبشی نے اپنے شہر صنعاء میں ایک بڑا کنیسہ بنوایا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ عرب کے لوگ جیسے حج کے لیے کعبہ مکہ جاتے ہیں اور وہاں کافی زیادہ بھیڑ جمع ہوتی ہے، لہٰذا مکہ نہ جاتے ہوئے اہل عرب صنعاء یمن کا قصد کریں اور کنیسہ میں جاکر عبادت کریں، تو عرب کا ایک آدمی رات کے اندھیرے میں صنعاء یمن کے کنیسہ (عبادت خانہ) میں جاکر پاخانہ کر دیا اور پورے کنیسہ کو گندا کر دیا، پھر جب ابرہہ کو پتہ چلا تو وہ غصے سے لال ہوگیا اور تابڑتوڑ کعبہ ڈھانے کے لیے مکہ کی طرف نکل پڑا، اس کے ساتھ ساٹھ ہزار کی فوج تھی، نو یا چودہ ہاتھی کی تعداد تھی، (اسی لیے اس حادثہ کو ہاتھی کے واقعے سے جانا جاتا ہے) بہرکیف یہ لوگ بڑی شان سے مکہ جا رہے تھے اللہ نے ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا، جب یہ لوگ مکہ سے قریب وادی محسر پہنچے تو ہاتھی مکہ جانے سے انکار کر دیا، ہاتھی کو دوسری رخ موڑا جاتا تو ہاتھی تیز بھاگتا لیکن مکہ کی طرف جب موڑا جاتا تو چنگھاڑنے لگتا اور ایک قدم آگے پیر نہیں بڑھاتا، ہزار کوششوں کے باوجود ان کے عزائم وحوصلے پست ہوگئے، ان کی تباہی کا وقت آگیا، اللہ نے انہیں وادی محسر منی مزدلفہ کے بیچ ہلاک کر دیا، اللہ نے جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے اور پرندے اپنے منہ میں چنے اور مٹر کے دانے کے برابر کنکری اٹھاتے تھے اور ابرہہ کے لشکروں پر برساتے تھے، جس کو جیسے کنکری لگتی تھی وہیں ڈھیر ہو جاتا، جیسا کہ اللہ نے اس کا تذکرہ قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے: "اَلَمْ تَـرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيْلِ" کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا- "اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُـمْ فِىْ تَضْلِيْلٍ" کیا اللہ نے ان کی چال کو بےکار نہیں بنایا- "وَاَرْسَلَ عَلَيْـهِـمْ طَيْـرًا اَبَابِيْلَ" اور اس نے ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیا- "تَـرْمِيْهِـمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ" جو پرندے ان پر پتھر کنکر برساتے تھے- "فَجَعَلَـهُـمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ" پھر انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح بنا ڈالا (الفیل:1/تا 5)
قارئین کرام! واقعہ فیل میں بہت دروس اور بڑے پیغامات ہیں جو درج ذیل ہیں-
1) بیت اللہ (کعبہ) کے خلاف سازش رچنا موجب تباہی ہے-
2) اللہ اپنے گھروں کی حفاظت کرتا ہے-
3) جانور اور پرندے بھی اللہ کے حکم کے تابع ہیں-
4) آخرت کے عذاب سے پہلے ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ ظالموں کو عذاب کا مزا چکھاتا ہے-
5) بڑے بڑے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بالکل معمولی چیز سے ہلاک کرتا ہے تاکہ ان کی ذلت ورسوائی میں مزید اضافہ ہو-
6) مسجد گرانے والے اللہ کی نگاہ میں سخت مجرم ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ہلاک کرتا ہے-
7) اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے گرچہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو-
8) اللہ کا عذاب اچانک آتا ہے-
9) جانور بھی مسجد اور کعبہ کا مقام سمجھتا ہے-
10) جانور بھی اپنے خالق کو اچھی طرح پہچانتا ہے-
واقعہ فیل میں یہ کچھ دروس ہیں، لہٰذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اللہ کے عذاب سے ڈریں، گناہ سے بچیں، اللہ کے گھروں اور بیت اللہ کی عزت واحترام اور تعظیم بجا لائیں، ظلم ڈھانے سے کوسوں دور رہیں، اے اللہ! ہم تیرے اسماء حسنی اور صفات عُلیٰ کے وسیلے سے یہ دعا کرتے ہیں کہ تو وقت کے ظالموں کو نیست ونابود کر دے، فسادیوں اور باغیوں پر ابابیل بھیج دے اور انہیں ابرہہ کی طرح ہلاک کر دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top