ذیشان خان

Administrator
ایک جامع دعا اور اس کا فائدہ۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہر گاؤں اور ہر علاقے میں آپ دیکھیں کہ وہاں ایک دو اندھے، لنگڑے لولے، بہرے گونگے، اپاہج، مجبور اور پاگل ومجنون ضرور ملیں گے، اللہ تعالٰی کی یہ قدرت ہے جس کو جیسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، سارے لوگ تو صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں مگر کچھ عیب والے بھی پیدا ہوتے ہیں، اللہ سب کو ایک جیسا صحیح سالم نہیں بناتا ہے، اس کی کئی حکمتیں ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نعمت چھین کر اپنی قدرت ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور ہاتھ، پیر، کان، آنکھ، دل، دماغ اور زبان جیسی عظیم الشان نعمت پر اللہ کا شکر بجا لائیں اور ان نعمتوں کا صحیح استعمال کریں، دوسری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو نعمت سے محروم کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھا جائے، اس لیے کہ اگر اسے نعمت مل گئی تو زمین پر فساد مچائے گا، فتنہ وفساد برپا کرے گا، تیسری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نعمت چھین کر امتحان لینا چاہتا ہے کہ کون صبر وشکر کا پیکر بنتا ہے اور کون اللہ کے فیصلے سے بغاوت کرتا ہے، چوتھی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسے بنانے پر قادر ہے ویسے بگاڑ بھی سکتا ہے یعنی نعمت سے محروم بھی کر سکتا ہے-
قارئین کرام! جب ہم اپاہج، کمزور اور پریشان حال لوگوں کو دیکھیں تو شریعت مطہرہ نے ہم کو ایک جامع دعا سکھائی ہے وہ یہ ہے، "اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً " اس دعا کی بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ جو اس دعا کو پڑھے گا وہ اس عیب اور بلا وآفت سے محفوظ رہے گا، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ رَاَی مُبْتَلىََ فَقَالَ: "اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً " لَمْ يُصِبْهُ ذِلِكَ الْبَلَاءَ" (سنن ترمذی:3430/صحیح) جو کسی معذور اور مجبور کو دیکھے تو یہ کہے، ("اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً ") تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے محفوظ رکھا ہے اور مزید مجھے بہت ساری مخلوق پر برتری اور فضیلت بھی عنایت کی ہے، تو اسے وہ مصیبت لاحق نہیں ہوگی-
لہٰذا اس دعا کی پابندی کرنی چاہیے، اور نعمت کی بقا وتحفظ کے لیے رب العالمین سے دعا کرنا چاہیے، لیکن افسوس ہے کہ آج ہمارے سماج میں بہت سارے لوگ اپاہج اور معذور لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں، ان کی تذلیل کرتے ہیں، ان کے جسمانی نقص وعیب پر طعنہ دیتے ہیں، اس کے عیب سے پکارتے ہیں، یہ انتہائی خطرناک بات ہے، اگر معذور کی بددعا لگ گئی تو تندرست اور صحیح سالم آدمی بھی اپاہج بن سکتا ہے کوئی ضروری نہیں کہ اپاہج وہی ہوگا جو پیدائشی ہو، آج کتنے ایسے ہیں جو پہلے تندرست تھے، پیر درست تھا لیکن کسی حادثہ کے بعد بیساکھی پر چلنے پر مجبور ہوگئے، لہٰذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم کسی معذور شخص کا مذاق نہ اڑائیں، ان کو تکلیف نہ دیں، بلکہ یہ دعا پڑھیں، "اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً " اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ان کو سہارا دیں، ان کی مدد کریں، یہی اسلامی تعلیم ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر حادثے سے محفوظ رکھے اور ہمارے اعضاء وجوارح کی حفاظت فرمائے اور انہیں مرتے دم تک ہمارے حق میں مفید اور کارآمد بنائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top