ذیشان خان

Administrator
عقل ایک عظیم نعمت۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
عقل رب العالمين کی بہت بڑی نعمت ہے، اس نعمت پر جتنا زیادہ رب العالمین کا شکر ادا کیا جائے کم ہے، اللہ رب العالمین مخلوق کے جسمانی اعضاء کی تخلیق کے ساتھ رحم مادر کے اندر عقل کی بھی تخلیق کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا: "قُلْ هُوَ الَّـذِىٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ ۖ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُـرُوْنَ" (الملك:23) اے نبی آپ کہہ دو وہی وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھ اور دل بنایا، مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو-
دل ودماغ ان دونوں کی مدد سے انسان سوچنے، سمجھنے اور جاننے والا بنتا ہے، ادراک اور شعور کا مالک بنتا ہے، اور اسی عقل سے آدمی حیرت انگیز ترقی کرتا ہے بلکہ اپنا سارا کام اپنی عقل کے ذریعے انجام دیتا ہے، ایک لمحہ کے لیے سوچیں کہ اگر عقل نہ ہوتی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو ہم کچھ نہیں کر پاتے، پاگل اور مجنون کی طرح گلی گلی گھومتے خود بھی پریشان رہتے اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے، مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو اور آپ کو عقل کی نعمت سے مالا مال کیا ہے، ہم کو پاگل اور مجنون نہیں بنایا ہے-
قارئین کرام! انسان کے پاس عقل ہے تو وہ شریعت کا مکلف ہے، لہٰذا ہر شخص کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کا شکر بجا لائے اور اللہ کی عبادت کرے، آخرت کی فکر کرے، اپنی عقل کا صحیح استعمال کرے، اور وہ کام کرے کہ جس سے اللہ راضی ہوتا ہے وہ کام قطعاً نہ کرے کہ جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاس عقل بھی ہے مگر ہم جہالت والا کام بھی کرتے ہیں، عقل کی وجہ سے ہم شریعت کے مکلف ہیں مگر ہم پاگل اور مجنون بن کر آزادی چاہتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ انسان عقل کے باوجود جانور بن جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ گیا گزرا ہو جاتا ہے، اپنے خالق کو بھول جاتا ہے، توحید سے رشتہ توڑ لیتا ہے، شرک کرتا ہے، قبروں کا سجدہ کرتا ہے، اللہ کے دین سے بغاوت کرتا ہے، اللہ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا: وَلَقَد ذَرَأنا لِجَهَنَّمَ كَثيرًا مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِرونَ بِها وَلَهُم آذانٌ لا يَسمَعونَ بِها أُولـئِكَ كَالأَنعامِ بَل هُم أَضَلُّ أُولـئِكَ هُمُ الغافِلونَ" (الأعراف:179) اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا ہے، ان کے پاس تو دل ہے پر وہ سمجھتے نہیں، اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں، اور کان بھی ہے لیکن سنتے نہیں، وہ جانور کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں، دراصل یہ لوگ غافل ہیں-
ہم انسان ہیں، بہترین اور معزز مخلوق ہیں، صاحب عقل ہیں، شریعت کے مکلف ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم عقل اور فطرت سلیمہ کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں، ہم حلال کھائیں، سچ بولیں، اللہ کی عبادت کریں، اللہ سے ڈریں، دین سیکھیں، تبلیغ کریں، جنت کی طلب میں رہیں، نیک کام کریں، منشیات سے بچیں، شہوات کے فتنے سے بچیں، ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہ سے بچیں، اگر بشری تقاضے کے مطابق غلطی یا گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ واستغفار کرلیں، یہی عقل کا صحیح استعمال ہے، ورنہ ہمارے پاس عقل بھی ہو اور ہم شیطانی عمل کریں تو یہ واقعی بہت بڑی محرومی کی بات ہے، اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top