ذیشان خان

Administrator
استاذ الاساتذہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کی تصنیفی خدمات

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
برادرم عزیز شیخ عامر مدنی کی 1999/ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے منظوری آئی تھی اسی سال مجھے ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کے متعلق جانکاری حاصل ہوئی، والد صاحب حرسھم اللہ کی زبانی شیخ کے بارے میں کچھ سننے کی سعادت حاصل ہوئی، پھر ایک سال کے بعد سالانہ تعطیل مئی یا جون 2000/ میں عامر مدنی صاحب کی واپسی ہوئی اس وقت میں مکتب کا طالب تھا، برادرم شیخ عامر صاحب ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی کی طرف بہن کا کچھ ہدیہ لے کر آئے تھے جس سے مزید یادیں تازہ ہوگئیں، کیونکہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی کی سگی بہن کی شادی ہماری مارکیٹ مہراج گنج اعظم گڑھ میں ہوئی ہے، اس وقت شیخ ضیاء الرحمن اعظمی نے اپنی بہن کو پانچ ہزار روپیہ دیے تھے، ہدیہ کا یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا پھر ہمارے بھائی ممبرا میں شفٹ ہوگئے جس کی وجہ سے ہدیہ کا سلسلہ منقطع ہوگیا، خیر شیخ اپنے تئیں گھر والوں کی ہدایت کے لیے بہت محنت کیے مگر ہدایت کی توفیق کسی کو حاصل نہیں ہوئی، ابو کی پراپرٹی سے ان کو بھی حصہ ملا تھا مگر شیخ نے اپنے بھائی بہن میں تقسیم کر دیا، آپ ایک مثالی زندگی گزار کر، اور قربانی والی زندگی گزار کر، تقریباً 77/ سال طویل حیات پاکر 9/ ذوالحجہ ١٤٤١ھ عرفہ کے دن (30/ جولائی 2020) بوقت ظہر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، انا لله وانا اليه راجعون، اللهم اغفر لهم وارحمهم واسكنهم فسيح جناتك يارب العالمين اللهم امين-
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قارئین کرام! شیخ رحمہ اللہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے، 16/ کی عمر میں اسلام کی سعادت حاصل ہوئی، پھر آپ دینی علوم سے وابستہ ہوئے، حصول علم کے لیے آپ نے بہت صبر کیا، غربت، مشقت، مصیبت کی چکی میں مسلسل پستے رہے، دین اسلام پر جمے رہے، اللہ نے آپ کے استقامت اور صالحیت کی وجہ سے دنیا میں بڑی عزت سے نوازا اور بڑی قابلیت سے بھی سرفراز کیا، آپ کی تصنیفی، تدریسی، دعوتی وتربیتی خدمات اس پر شاہد عدل ہیں، راقم کو آپ سے ملاقات یا براہ راست استفادہ کی سعادت نہیں حاصل ہوئی لیکن آپ کی کتابوں سے گاہے بگاہے مستفید ہوتا ہوں اللہ مزید توفیق دے آمین-
شیخ رحمہ اللہ تنہا ایک انجمن تھے، آپ نے ہزار مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود جو تصنیفی کام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے، آپ نے محدثین کے عہد سعید کی تجدید کی ہے، خاص طور سے الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل جیسی مایہ ناز کتاب جو صحیح حدیثوں کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ تمام صحیح حدیثوں کو فقہی ابواب پر آپ نے مرتب کر دیا ہے، یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے ایسے مبارک کام کے لیے کبار علماء کی ایک بڑی ٹیم کی ضرورت پڑتی ہے مگر مرد مجاہد، اسلام کے فرزند، اعظمی سپوت، عمری، مدنی مکی، ازہری فاضل نے تن تنہا اتنا بڑا کام مکمل کیا ہے الحمدلله، جزاھم الله عنا وعن المسلمين خير الجزاء-
*شیخ رحمہ اللہ کی تصانیف درج ذیل ہیں*
1) أبو هریرة في ضوء مرویاته-
2) أقضیة رسول الله صلى الله عليه وسلم: لابن الطلاع کی تحقیق یہ دکتوراہ کا رسالہ ہے-
3) دراسات في الجرح والتعدیل-
4) المدخل إلی السنن الکبری للبیهقي-
5) دراسات في الیهودیة والنصرانیة-
6) فصول في أدیان الهند-
7) فتح الغفور في وضع الأیدي علی الصدور یہ علامہ محمد حیاة السندي کی کتاب کی تحقیق اور تخریج ہے-
8) ثلاثة مجالس من أمالي یہ ابن مردویه کی کتاب کی تخریج و تحقیق ہے-
9) معجم مصطلحات الحدیث ولطائف الأسانید-
10) المنة الکبری شرح وتخریج السنن الصغری للحافظ البیهقي-
11) التمسک بالسنة في العقائد والأحکام-
12) تحفة المتقین في ما صح من الأذکار والرقی والطب عن سید المرسلین-
13) الجامع الکامل في الحدیث الصحیح الشامل-
14) كتاب الأدب العالی-
15) اختصار الجامع الكامل-
16) قرآن کی شیتل چھایا- ہندی-
17) قرآن مجید كی انسائیکلوپیڈیا-
18) قرآن کے سائے میں- ہندی-
19) تلواروں کے سائے میں- اردو-
20) گنگا سے زمزم تک-
21) لغات القرآن- ہندی-
(چمنستان حدیث: مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ص: 589/ تا 594_پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی کی علمی تصانيف کا مختصر تعارف: بقلم ڈاکٹر عبدالحلیم بسم اللہ، استاد جامعہ سلفیہ بنارس pdf)
یہ شیخ رحمہ اللہ کی تصانیف ہیں، ان علمی تصنیفات اور تحقیقات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شیخ رحمہ اللہ نے حدیث اور دین کی کتنی عالیشان خدمت کی ہے، شیخ بہت ملنسار، خاکسار، متواضع شخص تھے، آپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ کوئی لغو اور بےکار کام نہیں کرتے ہیں، کسی کی غیبت نہیں کرتے تھے، کسی سے حسد نہیں کرتے تھے، ہمیشہ اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارتے تھے، ہمیشہ اپنی لائبریری میں مشغول رہتے تھے، پڑھنا لکھنا دین کی خدمت کرنا آپ کا بہترین مشغلہ تھا، اب چونکہ شیخ رحمہ اللہ ہمارے بیچ نہیں ہیں ہم رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ جیسے تو نے ہمارے شیخ کو دنیا میں عزت وسربلندی سے نوازا تھا اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ان کا ذکر خیر باقی رکھ، اور یہ بھی ہماری دعا ہے کہ مولائے کریم تو ان کی مغفرت فرما، ان کے درجات کو بلند فرما، اور ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرما آمین یا رب العالمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top