ذیشان خان

Administrator
کم بھیجیں اور زیادہ پڑھیں۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
سوشل میڈیا واٹس ایپ، فیس بک اور میسنجر پر لوگ پڑھنے لکھنے سیکھنے سمجھنے کی بجائے بھیجنے کا کام بہت زیادہ کرتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمل سے زیادہ دینی معلومات نشر کرنا اور اپلوڈ کرنا زیادہ نیکی کا کام ہے، جب بھی موبائل کھولو ایک ہی میسج ہر گروپ میں بار بار نشر ہوتا ہے، ہر شخص دن بھر میں پچاس مسیج کرتا ہے، لمبی لمبی تقریریں، طویل تحریریں، بھاری اور ضخیم کتابیں، مختلف قسم کے ویڈیوز روز بروز واٹس ایپ پر ملتے رہتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ بھیجنے والا اتنے جذبہ سے بھیج رہا ہے لیکن حقیقت میں اس کا صحیح استعمال نہیں ہو پاتا ہے، بس جیسے آتا ہے ویسے غائب بھی ہو جاتا ہے، اور آدمی اپنی ذاتی مشغولیت میں کیا پڑھے کیا دیکھے یہ تو میری سمجھ سے بالاتر ہے، لیکن اگر یہی کام اعتدال سے کیا جائے، کم بھیجا جائے، زیادہ استفادہ کیا جائے تو وقت کی بچت ہوگی اور معلومات میں بہت اضافہ ہوگا مزید دوسروں کو تکلیف بھی نہیں ہوگی، اور یہی نبوی تعلیم وتربیت کا بہترین طریقہ ہے، جیسا کہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا"(صحیح بخاری:68) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت وموعظت میں ہماری بڑی رعایت کرتے تھے کہ کہیں ہم تھکاوٹ کے شکار نہ ہو جائیں-
سوشل میڈیا سے جڑے تمام لوگوں کو چاہیے کہ اس حدیث پر خاص طور سے عمل کریں، کم بھیجیں، اپنے مخاطب کی رعایت کریں، زیادہ بھیج کر ایک دوسرے کا بھیجا خراب نہ کریں-
قارئین کرام! سوشل میڈیا کے ذریعے دعوت وتبلیغ کرنا، دین کی باتیں عام کرنا بہت اچھی بات ہے، الحمدللہ واٹس ایپ کے ذریعے لوگ دین سیکھ رہے ہیں، علماء کی تقریروں اور تحریروں سے اپنے ایمان کو تازہ کر رہے ہیں اور بڑے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہمارا وقت غیر ضروری چیزوں میں زیادہ استعمال ہو رہا ہے، لہٰذا وقت کی حفاظت کی طرف شدید توجہ دیں یہ سب سے زیادہ اہم ہے، اور تھوڑا تھوڑا بھیجیں، زیادہ نہ بھیجیں، کیونکہ دعوت وتبلیغ اور تعلیم وتربیت میں اعتدال اور تدریج مطلوب ہے، جیسے ایک استاد ایک دن میں مکمل ایک کتاب طلبہ کو نہیں پڑھاتا ہے، کیونکہ طلبہ اسے کبھی ہضم نہیں کر سکتے ہیں، ٹھیک اسی طرح لوگ بڑے بڑے مقالات، کتب ورسائل، جرائد ومجلات، لمبی لمبی تقریروں اور نصیحتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں، اس واسطے ایسا کوئی کام کریں جو مختصر اور جامع ہو، نفع بخش ہو، کم وقت میں بھی آدمی استفادہ کر سکتا ہو، اللہ ہم سب کو سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top