ذیشان خان

Administrator
ایک عبادت دوسری عبادت کا بدل نہیں۔

ڈاکٹر امان اللہ محمد اسماعیل مدنی

اللہ رب العالمین نے جن و انس کو صرف اور صرف اپنی عبادت و بندگی کیلیے پیدا فرمایا ہے۔
اللہ تعالی نے بندوں کو متنوع عبادتوں کا مکلف بنایا ہے۔
عبادتوں میں کچھ ظاہری عبادت ہیں تو کچھ کا تعلق باطن سے ہے۔
عبادتوں میں کچھ مالی ہیں اور کچھ بدنی، جبکہ کچھ مالی اور بدنی دونوں کو شامل ہیں ۔
کچھ عبادتوں کا تعلق دل سے ہیں اور کچھ کا زبان اور جوارح سے۔
ہر عبادت کی لذت، چاشنی اور مٹھاس جداگانہ ہے۔
ہر عبادت و بندگی کی ادائیگی کا طور طریقہ اور کیفیت الگ الگ ہیں۔
شریعت نے کسی عبادت کو کسی دوسری عبادت کا بدل نہیں بنایا ہے۔
قرآن کریم میں نماز اور زکات کا غالبا ایک ساتھ ذکر ہوا ہے لیکن دونوں ایک دوسرے کا بدل نہیں۔
حج اور عمرہ دونوں کے اعمال و ارکان کے درمیان کافی حد تک یکسانیت ہے، البتہ دونوں ایک دوسرے کا بدل نہیں۔
اگر حج کی استطاعت ہے تو حج کرنا فرض ہے، حج کے پیسے کو صدقہ کر دینے سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہو جائیگی۔
قربانی ایک منصوص عبادت ہے، استطاعت کی موجودگی میں عبادت قربانی سے لذت اور چاشنی حاصل کرنی چاہئے، قربانی کے رقوم صدقہ و خیرات کر دینے سے عبادت قربانی کا مٹھاس حاصل نہیں ہو سکتا۔
قربانی کسی سبب اگر کسی علاقہ میں کرنے کی گنجائش نہ ہو تو دوسرے علاقے میں کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اگر کسی بھی اعتبار سے ممکن نہ ہو تو عبادت قربانی وقتی طور پر ساقط ہو جائیگی لیکن اس کا کوئی بدل نہیں ۔
اللہ تعالی ہمیں ہر ہر عبادت کی ادائیگی اور ان کی لذت وچاشنی سے ہمکنار ہونے کی توفیق بخشے ۔ آمین یا رب العالمین ۔
 
Top